عیدقربان پر شہریوں کے لئے ایک اچھی اور بری خبر ہے۔ پاکستان عید الاضحی 7 جون 2025ء بروز ہفتہ جوش و خروش سے منائی جائے گی۔
محکمہ موسمیات نے عید کی تعطیلات کے دوران پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کی لہر (ہیٹ ویو) کی پیش گوئی کی ہے، تاہم کراچی کے شہریوں کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ شہر میں ہیٹ ویو کا کوئی امکان نہیں ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، ہائی پریشر سسٹم کے بننے کے باعث 7 سے 12 جون تک بالائی اور وسطی سندھ، جنوبی پنجاب، بلوچستان کے کچھ علاقوں کے علاوہ اسلام آباد، خیبرپختونخوا، کشمیر، اور گلگت بلتستان میں شدید گرمی کی لہر متوقع ہے۔ اس دوران درجہ حرارت معمول سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ رہ سکتا ہے۔ گرمی کی غیر معمولی شدت کے باعث میدانی علاقوں میں گرد و غبار اور تیز ہواؤں کا بھی امکان ہے۔
اسے بھی پڑھیں: بڑے اسلامی ملک کی شہریوں سے عیدالاضحی پر قربانی نہ کرنے کی اپیل
صحت کے لیے حفاظتی تدابیر
محکمہ موسمیات نے عوام، خصوصاً بچوں، خواتین، اور بزرگ شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ دن کے وقت سورج کی براہ راست روشنی سے بچیں اور پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں تاکہ گرمی سے بچاؤ ممکن ہو۔ شدید گرمی کی لہر صحت کے لیے خطرات کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔
شمالی علاقوں پر اثرات
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ شمالی علاقوں میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت برف پگھلنے کی شرح کو بڑھا سکتا ہے، جو کہ مقامی ماحولیات اور پانی کے وسائل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
کراچی میں موسم کی صورتحال
کراچی کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے واضح کیا کہ شہر میں عید کے تینوں روز موسم گرم اور مرطوب رہے گا، لیکن ہیٹ ویو کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔ صبح کے وقت ہوا میں نمی کا تناسب 70 فیصد جبکہ شام کو 60 فیصد تک رہنے کی توقع ہے، جس کے نتیجے میں درجہ حرارت اصل سے زیادہ محسوس ہو سکتا ہے۔
جمعرات کو کراچی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 56 فیصد رہا۔ اس دوران معمول سے تیز ہوائیں بھی چلیں، جن کی رفتار 33 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔
عوام کے لیے ہدایات
محکمہ موسمیات نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گرمی سے بچاؤ کے لیے مناسب اقدامات کریں، جیسے کہ ہلکے کپڑے پہننا، سر کو ڈھانپنا، اور دن کے گرم ترین اوقات میں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنا۔
یہ پیش گوئی شہریوں کو پیشگی تیاری کا موقع فراہم کرتی ہے تاکہ وہ عید کی تعطیلات کے دوران موسم کی شدت سے محفوظ رہ سکیں۔
ہیٹ ویو کیا ہے؟
ہیٹ ویو کو اردو میں "شدید گرمی کی لہر” کہا جا سکتا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کے مطابق، جب کسی علاقے میں درجہ حرارت عام معمول سے مسلسل تین یا اس سے زیادہ دنوں تک بہت زیادہ بڑھ جائے، تو اسے ہیٹ ویو کہا جاتا ہے۔
اگر کسی علاقے میں گرمیوں کے دنوں میں عام درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے، اور یکدم وہ 40 یا 45 ڈگری تک پہنچ جائے، اور کئی دنوں تک ایسا ہی رہے، تو یہ ہیٹ ویو کہلائے گی۔
ہیٹ ویو کی وجوہات
ماحولیاتی تبدیلی (Climate Change):
عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے زمین گرم ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں ہیٹ ویوز زیادہ شدت کے ساتھ آنے لگی ہیں۔
شہری علاقوں میں کنکریٹ اور اسفالٹ کا بڑھنا:
ان سے حرارت جذب ہوتی ہے اور رات کو بھی خارج نہیں ہوتی، جس سے درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔
جنگلات کی کٹائی:
درختوں کی کمی سے سایہ دار اور ٹھنڈی فضا ختم ہو جاتی ہے، اور زمینی درجہ حرارت بڑھتا ہے۔
ہوا کا دباؤ:
جب کسی علاقے پر بلند دباؤ (High Pressure System) قائم ہو جاتا ہے، تو گرم ہوائیں زمین کے قریب جم جاتی ہیں، جس سے ہیٹ ویو پیدا ہوتی ہے۔
ہیٹ ویو کی علامات
درجہ حرارت کا 40، 45 یا اس سے بھی اوپر چلے جانا
ہوا میں نمی کی کمی
دن کے وقت سورج کی تیز روشنی
گرمی سے جسمانی کمزوری یا چکر آنا
پسینے کا زیادہ آنا یا کبھی بند ہو جانا (شدید حالت میں)
ہیٹ ویو کے انسانی صحت پر اثرات
ہیٹ اسٹروک (Heat Stroke):
جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے اور پسینہ آنا بند ہو جاتا ہے۔ یہ جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔
ہیٹ ایگزاشن (Heat Exhaustion):
جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی ہو جاتی ہے، جس سے تھکن، چکر اور بیہوشی ہو سکتی ہے۔
پانی کی کمی (Dehydration):
جسم سے زیادہ پسینہ خارج ہونے کی وجہ سے پانی کی شدید کمی ہو جاتی ہے۔
بچوں، بزرگوں اور مریضوں کے لیے زیادہ خطرناک:
ان کی جسمانی قوت مدافعت کم ہوتی ہے۔
ہیٹ ویو سے بچاؤ کے اقدامات
زیادہ پانی پینا:
دن بھر پانی یا مشروبات استعمال کریں، چاہے پیاس نہ بھی لگے۔
دھوپ سے بچاؤ:
دوپہر 11 سے شام 4 بجے کے دوران دھوپ میں نہ نکلیں۔ اگر جانا ضروری ہو تو چھتری، ٹوپی یا سن گلاسز کا استعمال کریں۔
ہلکے اور کھلے کپڑے پہنیں:
سوتی اور ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں تاکہ گرمی کم لگے۔
غذائیت بھرا کھانا کھائیں:
ہلکا اور پانی والا کھانا کھائیں، زیادہ تیل یا مسالے سے پرہیز کریں۔
کولر یا پنکھے کا استعمال:
کمرے کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کریں۔ اگر ممکن ہو تو ایئر کنڈیشنڈ جگہوں پر وقت گزاریں۔
کمزور افراد کا خاص خیال رکھیں:
بزرگوں، بچوں، حاملہ خواتین اور بیمار افراد کو خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔





















