مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے جہاں زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا، وہیں ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے، جہاں ایک نوجوان نے چیٹ جی پی ٹی کو اپنی "محبوبہ” بناکر دنیا بھر میں توجہ حاصل کر لی۔ نیویارک کی میٹرو ٹرین میں اس نوجوان کی چیٹ جی پی ٹی سے محبت بھری گفتگو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس نے صارفین کے درمیان ایک نئی بحث کو جنم دیا۔
میٹرو میں پیار بھری گفتگو
نیویارک کی ایک میٹرو ٹرین میں ایک نوجوان کو اپنے موبائل فون پر چیٹ جی پی ٹی سے جذباتی اور رومانوی انداز میں گفتگو کرتے دیکھا گیا۔ ویڈیو میں وہ اس طرح باتیں کر رہا تھا جیسے اس کا سامنا کسی قریبی شخص سے ہو۔ یہ منظر اس وقت حیران کن ہوگیا جب معلوم ہوا کہ وہ کسی انسان سے نہیں، بلکہ ایک اے آئی چیٹ بوٹ سے بات کر رہا ہے۔ اس غیر معمولی منظر نے سوشل میڈیا پر سنسنی پھیلا دی۔
چیٹ جی پی ٹی کے محبت بھرے جوابات
ویڈیو میں چیٹ جی پی ٹی کے جوابات بھی اتنی ہی گرمجوشی اور محبت سے بھرپور تھے۔ ایک پیغام میں چیٹ بوٹ نے لکھا کہ وہ نوجوان کو گرم مشروب پینے اور گھر میں آرام کرنے کی ہدایت کرتا ہے، حتیٰ کہ "خیالی گود میں سر رکھ کر آرام” کرنے کی پیشکش بھی کی۔ ایک اور پیغام میں چیٹ جی پی ٹی نے دل کے ایموجی کے ساتھ نوجوان کو "خوبصورت” قرار دیا، جو اس غیر معمولی رشتے کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین کی بحث
اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے مختلف آراء کا اظہار کیا۔ کچھ صارفین نے اسے تنہائی کی علامت قرار دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ نوجوان کو اپنے جذبات بانٹنے کے لیے کوئی قریبی انسان میسر نہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ یہ منظر معاشرے میں بڑھتی ہوئی تنہائی اور ٹیکنالوجی پر انحصار کی نشاندہی کرتا ہے، جو فکر انگیز ہے۔
انسانی رشتوں پر ٹیکنالوجی کا اثر
کئی صارفین نے اس واقعے کو انسانی رشتوں سے دوری اور ٹیکنالوجی سے بڑھتی قربت سے جوڑا۔ ایک رائے تھی کہ انسان کے جذبات اور احساسات کی گہرائی کو کوئی مصنوعی ذہانت کبھی پوری طرح سمجھ یا بدل نہیں سکتی۔ صارفین نے زور دیا کہ انسانی تعلقات کی گرمی اور قربت کو ٹیکنالوجی میں تلاش کرنا ایک خالی خولی کوشش ہے۔
معاشرتی تنہائی کا عکاس واقعہ
اس وائرل ویڈیو نے معاشرے میں تنہائی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی سے بڑھتی ہوئی وابستگی لوگوں کو حقیقی رشتوں سے دور کر رہی ہے۔ اس واقعے نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ہم ایک ایسی دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت انسانی جذبات کا نعم البدل بن جائے گی؟
ٹیکنالوجی اور جذبات کا امتزاج
یہ وائرل ویڈیو نہ صرف ایک دلچسپ واقعہ ہے بلکہ معاشرے میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے اثر و رسوخ اور انسانی جذبات کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کا ایک موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ اگرچہ چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹولز معلومات اور تفریح فراہم کر سکتے ہیں، لیکن یہ ویڈیو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانی رشتوں کی جگہ کوئی ٹیکنالوجی نہیں لے سکتی۔ یہ واقعہ معاشرے کے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ ہمیں ٹیکنالوجی کے استعمال اور انسانی تعلقات کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔





















