وزارت پاور ڈویژن نےدوسرے میٹر کی تنصیب سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کی نہ صرف سختی سے تردید کی ہے بلکہ انہیں گمراہ کن بھی قرار دیا ہے۔
وزارت پاور ڈویژن نے ایک ہی گھر میں بجلی کے ایک سے زائد میٹرز لگانے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو سراسر جھوٹا اور گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق ایسی افواہیں عوام میں بے چینی اور انتشار پھیلانے کی دانستہ کوشش ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دوسرا بجلی کا میٹر لگانے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی، اور یہ سہولت مروجہ قوانین کے تحت آج بھی دستیاب ہے۔
اسے بھی پڑھیں: بجلی چوری پر 10 سال قید کی سزا دی جائے گی،وزارتِ توانائی
قانونی دائرہ کار: نیپرا کے ضوابط کیا کہتے ہیں؟
پاور ڈویژن نے نیپرا کنزیومر سروسز مینول 2021 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ رہائشی مقامات پر دوسرا میٹر لگانے کی اجازت موجود ہے، بشرطیکہ وہ جگہ علیحدہ پورشن، علیحدہ سرکٹ، علیحدہ داخلی راستہ، اور علیحدہ کچن پر مشتمل ہو۔ یہ ضابطہ صارفین کو شفاف اور منصفانہ طریقے سے بجلی کے میٹرز حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ ترجمان نے زور دیا کہ یہ قوانین نئے نہیں بلکہ پہلے سے نافذ العمل ہیں۔
جھوٹی خبروں کا قانونی نوٹس: پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کا عندیہ
ترجمان پاور ڈویژن نے خبردار کیا کہ ایسی جھوٹی اور گمراہ کن خبروں کو پھیلانا یا شیئر کرنا پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت قابل سزا جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی افواہوں کا مقصد نہ صرف عوام کو گمراہ کرنا بلکہ بجلی کے نظام کی شفافیت کو نقصان پہنچانا بھی ہے۔ پاور ڈویژن نے ایسی سرگرمیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
بجلی کے ناجائز استعمال پر سخت موقف
بیان میں واضح کیا گیا کہ بجلی کے ناجائز استعمال اور سبسڈی کے غلط فائدے اٹھانے کے خلاف قوانین پہلے سے موجود ہیں اور یہ اب بھی مکمل طور پر نافذ العمل ہیں۔ پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے مسلسل کوشاں ہیں تاکہ اصل حقدار صارفین کو ان کا جائز حق مل سکے۔
عوام سے تعاون کی اپیل
پاور ڈویژن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی جھوٹی خبروں پر توجہ نہ دیں اور بجلی کے میٹرز کے درست استعمال کے لیے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے تعاون کریں۔ ترجمان نے کہا کہ شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے صارفین کا تعاون ناگزیر ہے تاکہ بجلی کا نظام موثر اور منصفانہ طریقے سے چل سکے۔
افواہوں کا جائزہ: سوشل میڈیا پر کیا گردش کر رہا تھا؟
سوشل میڈیا پر گزشتہ چند دنوں سے ایسی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ ایک ہی گھر میں دو بجلی کے میٹرز لگانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ یہ پابندی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے نافذ کی گئی ہے، جبکہ دیگر نے اسے سبسڈی کے نظام میں تبدیلی سے جوڑا۔ ان افواہوں نے عوام میں تشویش پیدا کی، خاص طور پر ان گھرانوں میں جہاں علیحدہ پورشنز کے لیے دو میٹرز استعمال کیے جاتے ہیں۔ پاور ڈویژن کے اس بیان نے ان تمام افواہوں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ کوئی نئی پابندی عائد نہیں کی گئی، اور یہ سب گمراہ کن پروپیگنڈا تھا۔





















