ایشیا کپ 2025 کی میزبانی کے حوالے سے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، کیونکہ پاک-بھارت کشیدگی کے باعث ٹورنامنٹ کو بھارت سے منتقل کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے زیر اہتمام یہ ٹورنامنٹ ستمبر 2025 میں شیڈول ہے، لیکن سیاسی حالات کے پیش نظر اسے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ رواں سال کے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے تناظر میں کیا گیا ہے، جہاں بھارت نے پاکستان کا سفر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
پاک-بھارت کشیدگی
بھارت کو ایشیا کپ 2025 کی میزبانی سونپی گئی تھی، لیکن حالیہ سیاسی تناؤ نے اسے ناممکن بنا دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، بھارت کی جانب سے چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے پاکستان نہ جانے کے فیصلے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بھی بھارت میں میچز کھیلنے سے معذرت کر لی ہے۔ اس صورتحال نے ایشیا کپ کو غیر جانبدار مقام پر منتقل کرنے کی راہ ہموار کی ہے، جس سے ٹورنامنٹ کے انعقاد کے امکانات کو تقویت مل رہی ہے۔
نئی میزبان کے طور پر انتخاب
ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) متحدہ عرب امارات کو ایشیا کپ 2025 کے لیے غیر جانبدار مقام کے طور پر حتمی شکل دینے کے قریب ہے۔ اگرچہ بھارت کو باضابطہ طور پر میزبان کا درجہ حاصل رہے گا، لیکن میچز یو اے ای کے میدانوں میں کھیلے جائیں گے۔ یو اے ای کی جدید کرکٹ سہولیات اور غیر جانبدار حیثیت اسے اس اہم ایونٹ کے لیے مضبوط امیدوار بناتی ہے، جیسا کہ ماضی میں چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے دبئی کا انتخاب کیا گیا تھا۔
2026 ورلڈ کپ کی تیاری
ایشیا کپ 2025 کا ایڈیشن ٹی20 فارمیٹ میں کھیلا جائے گا، جو 2026 میں بھارت اور سری لنکا میں شیڈول آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ یہ ٹورنامنٹ دو ہفتوں پر محیط ہوگا اور اس میں کل 19 میچز کھیلے جائیں گے، جن میں آٹھ ٹیمیں حصہ لیں گی۔ اس ایونٹ میں بھارت، پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان، یو اے ای، عمان، اور ہانگ ہانگ شامل ہوں گی، جو شائقین کے لیے سنسنی خیز مقابلوں کا وعدہ کرتا ہے۔
پاک-بھارت مقابلہ شائقین کی توجہ کا مرکز
ایشیا کپ کا سب سے بڑا کشش کا مرکز پاک-بھارت میچ ہوتا ہے، جو شائقین کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، اگر دونوں ٹیمیں فائنل تک پہنچتی ہیں تو وہ تین بار آمنے سامنے ہو سکتی ہیں، جو ٹورنامنٹ کی دلکشی کو دوگنا کر دے گا۔ تاہم، حالیہ سیاسی تناؤ نے اس مقابلے کے انعقاد کو غیر یقینی بنا دیا ہے، اور نیوٹل وینیو کا انتخاب اسے ممکن بنانے کی کوشش ہے۔
سہ فریقی سیریز کا امکان
ایشیا کپ سے قبل یو اے ای میں پاکستان، افغانستان، اور یو اے ای کے درمیان ایک سہ فریقی سیریز کے انعقاد پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ یہ سیریز ٹورنامنٹ کی تیاریوں کے طور پر اہم کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن اس منصوبے کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی۔ یہ اقدام خطے میں کرکٹ کے فروغ اور ٹیموں کی تیاری کے لیے ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، خاص طور پر غیر جانبدار میدانوں پر مقابلوں کے تناظر میں۔
محسن نقوی کا متوقع اعلان
ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جلد ہی ایشیا کپ 2025 کے مستقبل کے حوالے سے باضابطہ اعلان کریں گے۔ ان کی قیادت میں اے سی سی اس چیلنج سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے کہ کس طرح پاک-بھارت کشیدگی کے باوجود ٹورنامنٹ کو کامیابی سے منعقد کیا جائے۔ یہ اعلان شائقین اور اسٹیک ہولڈرز کے لیے اہم ہوگا، کیونکہ اس سے ٹورنامنٹ کی حتمی شکل واضح ہو جائے گی۔
مالی و اسپانسرشپ چیلنجز
ایشیا کپ کی مالی کامیابی کا انحصار بڑی حد تک بھارتی اسپانسرز اور براڈکاسٹرز پر ہے، جنہوں نے 2024 میں 170 ملین امریکی ڈالر کے معاہدے کے تحت ٹورنامنٹ کے میڈیا رائٹس حاصل کیے تھے۔ بھارت کی عدم شرکت یا میزبانی سے ٹورنامنٹ کی کمرشل ویلیو پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں، لیکن نیوٹل وینیو کا انتخاب اس نقصان کو کم کرنے کی کوشش ہے۔ یو اے ای جیسے مقامات اس حوالے سے ماضی میں کامیاب رہے ہیں، جیسا کہ 2023 کے ایشیا کپ کے ہائبرڈ ماڈل میں دیکھا گیا۔
ایشیا کپ کا مستقبل اور غیر جانبدار وینیو
ایشیا کپ 2025 پاک-بھارت کشیدگی کے سائے میں ایک اہم موڑ پر ہے، جہاں اسے بھارت سے یو اے ای منتقل کرنے کا امکان مضبوط ہو رہا ہے۔ بھارت باضابطہ میزبان رہے گا، لیکن میچز کا انعقاد غیر جانبدار مقام پر اس ایونٹ کی کامیابی کے لیے ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔ ٹی20 فارمیٹ، آٹھ ٹیموں کی شرکت، اور پاک-بھارت مقابلے کی امیدیں شائقین کے جوش کو برقرار رکھتی ہیں۔ ایشین کرکٹ کونسل کا آئندہ اعلان اس ٹورنامنٹ کی حتمی سمت کا تعین کرے گا، جو ایشیائی کرکٹ کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔





















