ایران اسرائیل کشیدگی ،عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑااضافہ

برینٹ آئل کی قیمت میں 7.4 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 74.46 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے

لندن :مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہو گئی ہے، جہاں اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان پیدا ہونے والی جنگی صورتحال نے توانائی کی عالمی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس تناؤ کے نتیجے میں سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کی فضا پیدا ہوئی ہے، جس نے تیل کی قیمتوں کو پر لگا دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق برینٹ آئل کی قیمت میں 7.4 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 74.46 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔ اسی طرح کروڈ آئل کی قیمت میں 5.7 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور اب اس کی نئی قیمت 73.15 ڈالر فی بیرل ہو چکی ہے۔

ماہرین معاشیات کے مطابق، ایران اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی بڑے تصادم کا خدشہ عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر خلیجی خطے سے تیل کی ترسیل کو۔ یہی خدشہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بنیادی سبب بن رہا ہے۔

واضح رہے کہ ایران دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے اور خلیج فارس کے راستے تیل کی عالمی ترسیل میں اس کا کلیدی کردار ہے۔ اس علاقے میں کوئی بھی جنگی کارروائی یا ناکہ بندی عالمی مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔

بین الاقوامی منڈیوں میں تیزی سے بڑھتی قیمتوں کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کا اثر مقامی صارفین پر بھی پڑ سکتا ہے، خصوصاً پٹرول، ڈیزل اور دیگر توانائی کے نرخوں میں اضافے کی صورت میں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی، تو آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس سے عالمی معیشت کو بھی دھچکا لگنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین