اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پنشن کے لیے مختص فنڈز کا حجم ایک ٹریلین روپے سے تجاوز کرچکا ہے جو ملک کے ترقیاتی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ اس بڑھتے ہوئے بوجھ کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ میں 10 ملین روپے سے زائد پنشن حاصل کرنے والے افراد پر 5 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
علاقائی کشیدگی کے ممکنہ معاشی اثرات کے پیش نظر اقدامات
اسلام آباد میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے زیراہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کی صورتحال پر حکومت گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
تمام شراکت داروں کے ساتھ توانائی تحفظ پر مشاورت
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ روز حکومت نے تمام شراکت داروں کے ساتھ توانائی کے ذخائر اور ان کی قیمتوں کی نگرانی کے سلسلے میں مفید بات چیت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی بہتری آئے گی۔
امریکی وزیر تجارت کے ساتھ مثبت گفتگو
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ گزشتہ شب ان کی امریکی وزیر تجارت سے بھی مفید گفتگو ہوئی ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو وسعت دینے پر اتفاق ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکی ٹیرف کے حوالے سے ایک مسابقتی مارکیٹ کی حیثیت رکھتا ہے اور دونوں ممالک تزویراتی شراکت دار کے طور پر درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر پائیدار عمل درآمد کی یقین دہانی
وزیر خزانہ نے زور دیا کہ قومی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ٹیکس نظام، سرکاری ادارے (SOEs) اور توانائی کے شعبے سمیت مختلف شعبوں میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا عمل جاری ہے، جس پر پائیدار بنیادوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
سرکاری اخراجات میں کمی اور قرضوں کے نظم و نسق پر توجہ
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت سرکاری اخراجات میں کمی اور قرضوں کے مؤثر انتظام و انصرام کے لیے بھی متعدد اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ان کے مطابق پنشن سمیت دیگر اہم شعبوں میں بھی اصلاحات کا عمل جاری ہے جسے تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔
10 ملین سے زائد پنشن پر 5 فیصد ٹیکس کی تجویز
محمد اورنگزیب نے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کی کہ پنشن کے لیے مختص بجٹ کی مقدار اب ایک ٹریلین روپے سے بڑھ چکی ہے جو ترقیاتی بجٹ سے زیادہ ہے۔ ایسے میں دیگر شعبوں کے لیے وسائل کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے بجٹ میں 10 ملین روپے سے زیادہ سالانہ پنشن حاصل کرنے والوں پر 5 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔
صوبوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے پر زور
وزیر خزانہ نے اس موقع پر زور دیا کہ پنشن کنٹری بیوشن اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ضمن میں سندھ اور خیبرپختونخوا میں حاصل ہونے والے تجربات سے سیکھ کر انہیں دیگر صوبوں میں بھی نافذ کیا جانا چاہیے تاکہ پورے ملک میں مربوط اصلاحاتی ڈھانچہ تشکیل دیا جا سکے۔
ٹیرف اصلاحات اور وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی
محمد اورنگزیب نے ٹیرف اصلاحات کو ایک بنیادی تبدیلی قرار دیا اور تسلیم کیا کہ اس عمل سے بعض صنعتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے وزیراعظم نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں تمام متعلقہ شراکت دار شامل ہیں، اور یہ کمیٹی ٹیرف اصلاحات کے نفاذ میں معاونت فراہم کرے گی۔





















