فیلڈ مارشل اور امریکی صدر کی ملاقات میں ایران اسرائیل کشیدگی سمیت اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال

امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو اور خصوصی نمائندہ برائے مشرق وسطیٰ سٹیو ویٹکوف بھی موجود تھے

راولپنڈی: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس اور اوول آفس میں ظہرانے پر ملاقات ہوئی ۔ دوران ملاقات کئی اہم ترین موضوعات پرگفتگو ہوئی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات میں امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو اور خصوصی نمائندہ برائے مشرق وسطیٰ سٹیو ویٹکوف بھی موجود تھے اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر نے شرکت کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی صدر کے ساتھ فیلڈ مارشل کی ایران اسرائیل تنازع پر تفصیلی گفتگو ہوئی، رہنماؤں نے ایران اسرائیل تنازع کے پر امن حل پر زور دیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاک بھارت کشیدگی کے بعد جنگ بندی کیلئے مثبت کردار ادا کرنے پر پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے امریکی صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قائدانہ اور فیصلہ کن صلاحیتوں کی تعریف کی ۔

اسے بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میرے لئے اعزاز ، ان کا مشکور ہوں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی صدر کی اقوام عالم کو درپیش چیلنجز کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کی قائدانہ صلاحیتوں کی تعریف کی جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان اور امریکا کے درمیان انسداد دہشت گردی کے حوالے سے جاری تعاون اور خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

ایک اہم ملاقات میں پاکستان اور امریکا نے انسدادِ دہشت گردی کے میدان میں جاری تعاون کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی مثبت تجارتی معاہدے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے معاشی و تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے، معدنیات، مصنوعی ذہانت، توانائی، کرپٹو کرنسی اور دیگر جدید شعبہ جات میں باہمی تعاون کو فروغ دینے پر بھی رضامندی ظاہر کی۔

پاک فوج کے ترجمان کے مطابق، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے صدر ٹرمپ کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے دورۂ پاکستان کی باضابطہ دعوت بھی دی۔ ابتدائی طور پر طے شدہ اس ملاقات کا دورانیہ ایک گھنٹہ مقرر تھا، تاہم باہمی دلچسپی کے امور پر مفصل گفتگو کے باعث یہ ملاقات دو گھنٹے تک جاری رہی۔

یہ اہم بیٹھک دونوں ممالک کے درمیان تاریخی شراکت داری کو مزید گہرائی اور مضبوطی دینے کی ایک عملی کوشش ہے، جس کا محور عالمی امن، خطے میں استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے اہداف ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین