19 جون 2025 کو پاکستان کی معیشت نے عالمی اعتماد کی بحالی کے ساتھ ایک نئے عروج کی جانب پیش قدمی کی، جس کی واضح عکاسی ترسیلات زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں ریکارڈ اضافے سے ہوتی ہے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی قیادت میں معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ، اور ترقیاتی اقدامات نے پاکستان کو استحکام کی راہ پر گامزن کیا۔ یہ کامیابیاں نہ صرف ملکی معیشت کے لیے ایک سنگ میل ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی بہتر ہوتی ساکھ کی گواہ بھی ہیں۔
معیشت کی مضبوط بنیاد
مالی سال 2024-25 کے پہلے 11 ماہ میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا، جو 34.89 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ ان ترسیلات کا 70 فیصد حصہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، اور امریکا سے موصول ہوا، جو پاکستانی تارکین وطن کے اپنے وطن پر گہرے اعتماد کا مظہر ہے۔ یہ مالی امداد نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے بلکہ ملکی معیشت کے لیے ایک مضبوط ستون کا کردار بھی نبھا رہی ہے۔
برآمدات میں پیش رفت
ایس آئی ایف سی کے مؤثر اقدامات کی بدولت پاکستانی برآمدات نے یورپی منڈیوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں یورپ کو 7.553 ارب ڈالر کی برآمدات ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.62 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ اضافہ پاکستان کی مصنوعات کے معیار، مسابقتی قیمتوں، اور عالمی تجارت میں بہتر حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اس پیش رفت نے پاکستان کو بین الاقوامی منڈیوں میں ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کیا، جو معاشی استحکام کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری
غیر ملکی سرمایہ کاری کے شعبے میں پاکستان نے قابل ذکر کامیابیاں سمیٹیں۔ ایس آئی ایف سی کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں نے سماجی خدمات، ربڑ، سیمنٹ، تعمیرات، اور گھریلو اشیا جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے۔ غیر ملکی کمپنیوں نے اپنے منافع کی واپسی میں 115 فیصد کا شاندار اضافہ کیا، جو پاکستان کے سازگار کاروباری ماحول اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ رجحان ملکی معیشت کی پائیداری اور ترقی کے امکانات کو مزید روشن کرتا ہے۔
پائیدار ترقی کی جانب قدم
پاکستان نے ماحول دوست پالیسیوں کے تحت ایک تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے اپنا پہلا گرین سکوک جاری کیا، جس سے 30 ارب روپے ماحولیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے۔ یہ اقدام نہ صرف قابل تجدید توانائی اور ماحولیاتی تحفظ کے منصوبوں کو فروغ دے گا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی پائیدار ترقی کے عزم کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ گرین سکوک کی کامیابی نے عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی، جو پاکستان کی سبز معیشت کی صلاحیت کو سراہ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کی حمایت
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے 1.4 ارب ڈالر کے پائیدار ترقیاتی فنڈز کی منظوری دی، جو عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے پاکستانی معیشت پر اعتماد کا واضح اشارہ ہے۔ یہ فنڈز معاشی اصلاحات، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اور سماجی بہبود کے منصوبوں کے لیے استعمال ہوں گے۔ آئی ایم ایف کی یہ حمایت پاکستان کی معاشی پالیسیوں کی شفافیت اور حکومتی اقدامات کی کامیابی کی دلیل ہے، جو ملک کو مالیاتی استحکام کی جانب لے جا رہی ہے۔
ایس آئی ایف سی کا کردار
اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل نے اپنے دوسرے سال میں معیشت کی بحالی اور ترقی کے لیے ایک متحرک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اس کی سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری آسانیوں، اور اصلاحات پر مبنی پالیسیوں نے نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کیا بلکہ مقامی صنعتوں کو بھی فروغ دیا۔ ایس آئی ایف سی کے تحت شروع کیے گئے منصوبوں نے روزگار کے مواقع پیدا کیے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیا، اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی فراہم کی۔
معاشی اصلاحات
ایس آئی ایف سی کی قیادت میں معاشی اصلاحات نے پاکستان کو موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے اور مستقبل کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ ٹیکس نظام کی بہتری، کاروباری اخراجات میں کمی، اور شفاف مالیاتی پالیسیوں نے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کا ماحول پیدا کیا۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئی، مہنگائی پر قابو پایا گیا، اور زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام آیا، جو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔
پاکستان کی مضبوط پوزیشن
پاکستان پر عالمی اعتماد کی بحالی نے اسے بین الاقوامی سطح پر ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر پیش کیا۔ ترسیلات زر، برآمدات، اور سرمایہ کاری میں اضافے نے پاکستان کی معاشی صلاحیت اور حکومتی پالیسیوں کی کامیابی کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کیا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اور یورپی ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی تعلقات نے پاکستان کی سفارتی اور معاشی ساکھ کو مزید بلند کیا۔ یہ پیش رفت عالمی معاشی فورمز پر پاکستان کی مضبوط موجودگی کی عکاس ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پر پاکستانی صارفین نے معاشی بحالی اور عالمی اعتماد کی بحالی پر خوشی کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، "ترسیلات زر اور سرمایہ کاری میں اضافہ پاکستان کی ترقی کی نئی داستان ہے۔” ایک اور پوسٹ میں کہا گیا کہ "ایس آئی ایف سی نے پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط بنانے میں شاندار کردار ادا کیا۔” عوامی حمایت نے حکومتی اقدامات کی مقبولیت اور قومی اتحاد کو اجاگر کیا، جو معاشی ترقی کے لیے ایک اہم عنصر ہے۔
مستقبل کے امکانات
پاکستان کی معیشت اب ایک پائیدار ترقی کے راستے پر ہے، جس کی بنیاد مضبوط معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری، اور عالمی اعتماد پر استوار ہے۔ گرین سکوک، آئی ایم ایف فنڈز، اور ایس آئی ایف سی کے اقدامات نے پاکستان کو ایک جدید اور ترقی یافتہ معیشت بنانے کی راہ ہموار کی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو پاکستان اگلے چند سالوں میں خطے کی نمایاں معیشتوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف معاشی استحکام بلکہ قومی فخر کا باعث بھی ہے۔
پاکستان کا عروج
پاکستان نے ترسیلات زر میں 34.89 ارب ڈالر، یورپی برآمدات میں 8.76 فیصد اضافہ، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے متعدد شعبوں میں نمایاں پیش رفت کے ساتھ عالمی اعتماد بحال کر لیا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی قیادت، گرین سکوک کا اجرا، اور آئی ایم ایف کی حمایت نے پاکستان کی معیشت کو استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ یہ کامیابیاں نہ صرف ملکی معیشت کے لیے ایک سنگ میل ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی بہتر ساکھ اور قومی فخر کا باعث بھی ہیں۔ پاکستان اب ایک پائیدار اور خوشحال مستقبل کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔





















