18 جون 2025 کی رات ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے اسٹار شپ 36 راکٹ نے ٹیکساس کے اسٹار بیس ٹیسٹنگ سینٹر میں ایک اسٹیٹک فائر ٹیسٹ کے دوران شدید دھماکے سے تباہی کا سامنا کیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب راکٹ اپنی دسویں ٹیسٹ پرواز کی تیاری کر رہا تھا، جو مریخ کے لیے انسانوں کو لے جانے کے مسک کے عظیم خواب کا ایک اہم حصہ ہے۔ دھماکے نے نہ صرف اسپیس ایکس کے پروگرام کو ایک اور دھچکا پہنچایا بلکہ مقامی علاقوں میں بھی ہلچل مچا دی۔
دھماکے کا منظر
بدھ کی رات تقریباً 11 بجے مقامی وقت کے مطابق، اسٹار شپ 36 راکٹ اپنے چھ ریپٹر انجنوں کے اسٹیٹک فائر ٹیسٹ کے لیے تیار تھا۔ ویڈیو فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ راکٹ کے نچلے حصے سے دھواں اٹھ رہا تھا، جو معمول کی تیاری کا حصہ تھا۔ اچانک راکٹ کے اگلے حصے میں ایک زبردست پھٹاؤ ہوا، جس نے آسمان کو شدید سفید روشنی سے بھر دیا۔ چند لمحوں بعد، ایندھن کے شعلوں نے راکٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے ایک عظیم آتشیں گولہ بن گیا جو رات کے آسمان میں دور تک نظر آیا۔
تکنیکی ناکامی
اسپیس ایکس کے حکام نے اس واقعے کو ایک "بڑی تکنیکی خرابی” قرار دیا، جس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ممکنہ طور پر پے لوڈ بے میں موجود نائٹروجن کمپوزٹ اوور ریپڈ پریشر ویسل (COPV) کے پھٹنے سے ہوئی۔ کمپنی نے واضح کیا کہ ٹیسٹ سے قبل حفاظتی زون قائم کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اسپیس ایکس نے مقامی حکام کے ساتھ مل کر ٹیسٹ سائٹ اور اردگرد کے علاقے کو محفوظ بنانے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
مقامی اثرات
دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی علاقوں کے مکینوں نے زلزلے جیسی لہریں محسوس کیں۔ مقامی خبر رساں اداروں کے مطابق، براؤنس ویل اور پورٹ ایزابیل کے رہائشیوں نے بتایا کہ ان کے گھروں کی کھڑکیاں اور برتن ہلنے لگے۔ کیمرون کاؤنٹی کے حکام نے تصدیق کی کہ کوئی زخمی نہیں ہوا، لیکن شہریوں سے درخواست کی گئی کہ وہ ٹیسٹ سائٹ کے قریب نہ جائیں تاکہ امدادی کارروائیوں میں خلل نہ پڑے۔ براؤنس ویل فائر ڈیپارٹمنٹ نے فوری طور پر آگ بجھانے کے لیے عملہ روانہ کیا۔
اسٹار شپ پروگرام
اسٹار شپ 36 کی تباہی اسپیس ایکس کے لیے 2025 میں چوتھی بڑی ناکامی ہے۔ رواں سال جنوری، مارچ، اور مئی میں ہونے والی تین ٹیسٹ پروازوں کے دوران بھی اسٹار شپ کے اوپری حصے فضا میں پھٹ گئے تھے۔ ان ناکامیوں نے اسٹار شپ کے ڈیزائن اور آپریشن کی پیچیدگیوں کو اجاگر کیا ہے، جو 400 فٹ بلند دنیا کا سب سے بڑا راکٹ ہے۔ اسپیس ایکس کا مقصد اس راکٹ کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانا ہے تاکہ چاند اور مریخ کے لیے کم لاگت مشن ممکن ہو سکیں۔
ایلون مسک کا ردعمل
ایلون مسک نے اس دھماکے کو ایکس پر "صرف ایک خراش” قرار دیتے ہوئے اس کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات نے COPV کی ناکامی کی تصدیق کی تو یہ اس ڈیزائن کی پہلی ناکامی ہوگی۔ مسک کی یہ رائے اسپیس ایکس کے "تیزی سے ناکام ہو، تیزی سے سیکھو” کے فلسفے کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیاں اسٹار شپ کے حفاظتی معیارات اور ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے شیڈول پر سوالات اٹھاتی ہیں۔
ناسا اور مریخ کا خواب
اسٹار شپ ناسا کے آرٹیمس پروگرام کا ایک اہم جزو ہے، جس کے تحت 2027-2028 میں چاند پر انسانوں کی واپسی اور مریخ کے لیے ابتدائی مشن منصوبہ بند ہیں۔ ناسا نے اسٹار شپ کی ترقی کے لیے اسپیس ایکس کو 4 ارب ڈالر کے معاہدے دیے ہیں۔ اس دھماکے نے ٹیسٹنگ سائٹ کو ممکنہ طور پر نقصان پہنچایا ہے، جس سے اسٹار شپ کی اگلی پروازوں کا شیڈول متاثر ہو سکتا ہے۔ مسک نے دعویٰ کیا تھا کہ 2026 تک مریخ پر روبوٹس اور 2029 تک انسان بھیجے جا سکتے ہیں، لیکن حالیہ ناکامیوں نے ان اہداف پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بحث
ایکس پر صارفین نے دھماکے کی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے اسے اسپیس ایکس کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، "اسٹار شپ کی تباہی خلائی تحقیق کے چیلنجز کی یاد دہانی ہے۔” ایک اور پوسٹ میں کہا گیا، "مسک کا مریخ کا خواب ابھی دور نظر آتا ہے۔” پاکستانی صارفین نے بھی اس واقعے پر تبصرے کیے، جہاں @indyurdu نے رپورٹ کیا کہ دھماکے نے مقامی علاقوں میں ہلچل مچا دی۔ یہ ردعمل اسٹار شپ پروگرام کی عالمی اہمیت اور اس کی ناکامیوں پر گہری نظر رکھنے کی عکاسی کرتا ہے۔
تحقیقات اور مستقبل
اسپیس ایکس نے اعلان کیا کہ وہ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) اور دیگر حکام کے ساتھ مل کر دھماکے کی وجوہات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ناکامیاں ترقی کا حصہ ہیں اور اسٹار شپ کی وشوسنییتا کو بہتر بنانے میں مدد دیں گی۔ تاہم، میسی ٹیسٹ سائٹ کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت ابھی واضح نہیں، جو مستقبل کے ٹیسٹوں کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس کو اپنی ٹیسٹنگ حکمت عملی پر نظرثانی کرنی پڑ سکتی ہے۔
خلائی سفر کی پیچیدگیاں
اسٹار شپ 36 کا دھماکہ اسپیس ایکس کے لیے ایک اور امتحان ہے، جو خلائی سفر کی پیچیدگیوں اور خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ اگرچہ ایلون مسک اور ان کی ٹیم اسے ایک عارضی ناکامی سمجھتے ہیں، لیکن مسلسل دھماکوں نے اسٹار شپ پروگرام کی رفتار کو سست کر دیا ہے۔ ناسا، عالمی برادری، اور سرمایہ کار اسپیس ایکس کی اگلی پیش رفت کے منتظر ہیں کہ وہ اس دھماکے سے سبق سیکھ کر چاند اور مریخ کے مشنوں کو کامیاب بناتی ہے یا نہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ خلائی تحقیق کا راستہ چیلنجوں سے بھرپا ہے، لیکن اسپیس ایکس کی لچک اس کی سب سے بڑی طاقت رہی ہے۔





















