معروف سینئر اداکارہ عائشہ خان چل بسیں

عائشہ خان گزشتہ کچھ عرصے سے علیل تھیں اور انہوں نے خاموشی سے دنیا سے رخصت ہونے کو ترجیح دی

20 جون 2025 کو پاکستان کی نامور سینیئر ٹیلی ویژن اداکارہ عائشہ خان 77 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئیں۔ ان کی رحلت سے پاکستانی شوبز انڈسٹری سوگوار ہے، جہاں ان کی شاندار اداکاری اور یادگار ڈراموں نے ایک انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ عائشہ خان کے شاہکار ڈراموں، بشمول افشاں، عروسہ، فیملی 93، اور مہندی، نے انہیں گھر گھر میں مقبول بنایا، اور وہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے سنہری دور کی علامت رہیں۔

کراچی میں انتقال

عائشہ خان کی قریبی دوست تہمینہ خالد نے تصدیق کی کہ اداکارہ کا انتقال پانچ روز قبل 15 جون 2025 کو کراچی میں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ عائشہ خان گزشتہ کچھ عرصے سے علیل تھیں اور انہوں نے خاموشی سے دنیا سے رخصت ہونے کو ترجیح دی۔ ان کی رحلت کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد مداحوں اور شوبز شخصیات میں غم کی لہر دوڑ گئی، جو ان کی سادگی اور فن کے گرویدہ تھے۔

سنہری دور کی عظیم اداکارہ

عائشہ خان کا شمار پی ٹی وی کے سنہری دور کی ان چند اداکاراؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی منفرد اداکاری سے پاکستانی ڈراموں کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کی گہری اور اثر انگیز اداکاری نے ناظرین کے دلوں میں گھر کر لیا، اور ان کے کردار آج بھی ناقابل فراموش ہیں۔ افشاں میں ان کی جذباتی گہرائی، عروسہ میں روایتی خوبصورتی، فیملی 93 میں خاندانی اقدار، اور مہندی میں سماجی رشتوں کی عکاسی نے انہیں ایک لیجنڈ بنا دیا۔

یادگار ڈرامے

عائشہ خان کے ڈراموں نے پاکستانی ٹیلی ویژن کی تاریخ میں ایک عظیم مقام بنایا۔ افشاں نے معاشرتی مسائل کو نرمی سے پیش کیا، جبکہ عروسہ نے روایتی پاکستانی عورت کی تصویر کشی کی۔ فیملی 93 نے خاندانی رشتوں کی نزاکتوں کو اجاگر کیا، اور مہندی نے شادی بیاہ کی رسومات کو دلکش انداز میں پیش کیا۔ ان ڈراموں کی کہانیاں اور عائشہ خان کی اداکاری آج بھی نئی نسل کے لیے ایک عظیم ورثہ ہیں، جو پی ٹی وی کے معیار کی عکاسی کرتے ہیں۔

خالدہ ریاست کی بہن

عائشہ خان مشہور اداکارہ خالدہ ریاست کی بڑی بہن تھیں، جو خود بھی پی ٹی وی کے سنہری دور کی ایک نمایاں شخصیت رہیں۔ دونوں بہنوں نے اپنی اداکاری سے پاکستانی ڈراموں کو عروج بخشا، لیکن عائشہ خان نے اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ ان کا خاندانی پس منظر اور فن سے وابستگی نے انہیں شوبز انڈسٹری میں ایک احترام کی نگاہ سے دیکھا جانے والا نام بنایا۔

شوبز سے دوری

عائشہ خان نے گزشتہ کئی سالوں سے شوبز انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی اور ایک پرسکون زندگی گزار رہی تھیں۔ انہوں نے اپنی بیماری کے دوران بھی میڈیا کی توجہ سے گریز کیا اور اپنی زندگی کو نجی رکھا۔ ان کی یہ سادگی اور عاجزی ان کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو تھی، جو ان کے مداحوں کے لیے ایک مثال رہی۔ ان کی دوری کے باوجود ان کے ڈرامے آج بھی ٹیلی ویژن پر نشر ہوتے ہیں، جو ان کی مقبولیت کی گواہی دیتے ہیں۔

شوبز انڈسٹری کا غم

عائشہ خان کی وفات کی خبر پر شوبز انڈسٹری کی کئی شخصیات نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ سینئر اداکارہ سمعیہ ممتاز نے کہا، "عائشہ خان ایک عظیم فنکارہ تھیں جنہوں نے اپنی اداکاری سے ہم سب کو متاثر کیا۔” ڈراما پروڈیوسر سلطانہ صدیقی نے انہیں "پی ٹی وی کے سنہری دور کی روح” قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر مداحوں نے بھی ان کے ڈراموں کے اقتباسات اور تصاویر شیئر کر کے انہیں خراج تحسین پیش کیا، جو ان کی فنکارانہ عظمت کی دلیل ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر عائشہ خان کی رحلت کی خبر وائرل ہوئی، جہاں مداحوں نے ان کے ڈراموں کو یاد کرتے ہوئے ان کے لیے دعائیں کیں۔ ایک صارف نے لکھا، "عائشہ خان کے بغیر پی ٹی وی کا سنہری دور ادھورا ہے۔ ان کے ڈرامے ہمارے بچپن کی یاد ہیں۔” ایک اور پوسٹ میں کہا گیا، "ان کی اداکاری نے ہر کردار کو امر کر دیا۔” یہ ردعمل عائشہ خان کی مقبولیت اور ان کے فن کے گہرے اثر کو ظاہر کرتا ہے، جو نسلوں تک زندہ رہے گا۔

پاکستانی ڈراموں پر اثرات

عائشہ خان کی رحلت نے پاکستانی ڈراما انڈسٹری میں ایک عظیم خلا چھوڑ دیا ہے۔ ان کے ڈراموں نے نہ صرف تفریح فراہم کی بلکہ معاشرتی اقدار، خاندانی رشتوں، اور پاکستانی ثقافت کو بھی اجاگر کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عائشہ خان جیسے فنکاروں نے پی ٹی وی کو ایک عالمی شناخت دی، اور ان کا کام نئی نسل کے اداکاروں کے لیے ایک عظیم رہنما ہے۔ ان کی وفات ایک عہد کے خاتمے کی علامت ہے، لیکن ان کے ڈرامے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

عائشہ خان کی میراث

عائشہ خان کی اداکاری نے پاکستانی ٹیلی ویژن کو نہ صرف ایک فنکارانہ عروج بخشا بلکہ ناظرین کے دلوں میں گہرے نقوش بھی چھوڑے۔ ان کے کرداروں نے عورت کی طاقت، خاندانی رشتوں کی اہمیت، اور معاشرتی مسائل کو حساسیت سے پیش کیا۔ افشاں، عروسہ، فیملی 93، اور مہندی جیسے ڈراموں نے ان کی ورسٹائل اداکاری کو امر کر دیا۔ ان کی میراث نئی نسل کے فنکاروں اور ناظرین کے لیے ایک عظیم اثاثہ ہے، جو پاکستانی ڈراموں کی تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین