کم چینی کے ساتھ کافی پینا لمبی عمر کا سبب بن سکتا ہے، تحقیق

تقریباً نصف امریکی آبادی روزانہ کم از کم ایک کپ کافی پیتی ہے

20 جون 2025 کو شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ روزانہ ایک یا دو کپ کافی کا استعمال، بشرطیکہ اس میں چینی اور کریم کی مقدار کم ہو، زندگی کی مدت بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ مطالعہ، جو جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہوا، کافی کے صحت بخش فوائد کو اجاگر کرتا ہے اور پاکستانی کافی پینے والوں کے لیے ایک نئی امید کی کرن لے کر آیا ہے۔ بلیک کافی یا کم چینی والی کافی قبل از وقت موت کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے، جو صحت مند طرز زندگی کے لیے ایک سادہ لیکن مؤثر عادت کی نشاندہی کرتی ہے۔

عالمی مشروب پر توجہ

ٹفٹس یونیورسٹی کے سینئر محقق فینگ فینگ ژینگ نے بتایا کہ کافی دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے مشروبات میں سے ایک ہے، اور تقریباً نصف امریکی آبادی روزانہ کم از کم ایک کپ کافی پیتی ہے۔ پاکستان میں بھی کافی کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں جہاں کیفے کلچر عروج پر ہے۔ اس تحقیق نے کافی کے صحت پر اثرات کو جانچنے کے لیے ایک جامع نقطہ نظر اختیار کیا، جس سے یہ معلوم ہوا کہ اس کے فوائد اس کے استعمال کے طریقے پر منحصر ہیں۔

مطالعہ کا دائرہ کار

محققین نے 1999 سے 2018 تک نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ایگزامینیشن سروے (NHANES) میں شریک 46 ہزار سے زائد امریکیوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ اس مطالعے میں شرکاء کی کافی کی قسم (کیفینیٹڈ یا ڈی کیف)، استعمال کی مقدار، اور اس کے ساتھ شامل چینی یا سیر شدہ چکنائی (جیسے کریم) کی سطح کا جائزہ لیا گیا۔ یہ جامع تجزیہ کافی کے صحت پر اثرات کو سمجھنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے، جو عالمی اور پاکستانی آبادی کے لیے یکساں اہم ہے۔

اہم نتائج

تحقیق سے پتہ چلا کہ روزانہ کم از کم ایک کپ کیفینیٹڈ کافی پینے والوں میں کسی بھی وجہ سے قبل از وقت موت کا خطرہ 16 فیصد تک کم ہوا۔ مزید یہ کہ، جو افراد روزانہ دو سے تین کپ کیفینیٹڈ کافی پیتے ہیں، ان میں یہ خطرہ 17 فیصد تک کم پایا گیا۔ یہ نتائج کافی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور دیگر فعال مرکبات کی بدولت ہیں، جو دل کی بیماریوں، دائمی سوزش، اور دیگر سنگین امراض سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ پاکستانی صارفین کے لیے یہ ایک خوشخبری ہے جو اپنی روزمرہ زندگی میں کافی کو شامل کر رہے ہیں۔

چینی اور کریم کا اثر

مطالعے نے واضح کیا کہ کافی کے صحت بخش فوائد اس وقت ختم ہو جاتے ہیں جب اس میں زیادہ مقدار میں چینی یا سیر شدہ چکنائی والی کریم شامل کی جاتی ہے۔ ایسی کافی کا زیادہ استعمال نہ صرف وزن بڑھنے اور ذیابیطس کے خطرے کو بڑھاتا ہے بلکہ قبل از وقت موت کے امکانات کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ محققین نے مشورہ دیا کہ بلیک کافی یا کم چینی کے ساتھ کافی پینا صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے، جو پاکستانی گھرانوں کے لیے ایک عملی مشورہ ہے جہاں میٹھی کافی کا رجحان عام ہے۔

کیفینیٹڈ بمقابلہ ڈی کیف

تحقیق میں کیفینیٹڈ اور ڈی کیف کافی دونوں کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اگرچہ کیفینیٹڈ کافی کے زیادہ واضح فوائد پائے گئے، ڈی کیف کافی پینے والوں میں بھی کچھ صحت بخش اثرات دیکھے گئے، بشرطیکہ اس میں چینی یا کریم کی مقدار کم ہو۔ یہ نتائج ان افراد کے لیے حوصلہ افزا ہیں جو کیفین سے گریز کرتے ہیں لیکن کافی کے ذائقے سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں، جہاں ڈی کیف کافی کا استعمال بڑھ رہا ہے، یہ معلومات صارفین کے لیے ایک رہنما اصول فراہم کرتی ہے۔

صحت مند عادات

پاکستان میں کافی کا استعمال شہری متوسط طبقے میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، لیکن اکثر اسے زیادہ چینی یا کریم کے ساتھ پیا جاتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج پاکستانی عوام کے لیے ایک اہم پیغام رکھتے ہیں کہ وہ اپنی کافی کی عادت کو صحت مند بنائیں۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ بلیک کافی یا کم چینی کے ساتھ کافی کو ترجیح دی جائے تاکہ اس کے اینٹی آکسیڈنٹ فوائد سے مکمل استفادہ کیا جا سکے۔ یہ تبدیلی نہ صرف صحت کو بہتر بنائے گی بلکہ طویل زندگی کے امکانات کو بھی بڑھائے گی۔

کافی کی مقبولیت

فینگ فینگ ژینگ نے بتایا کہ کافی کی عالمی مقبولیت اسے صحت کے مطالعے کا ایک اہم موضوع بناتی ہے۔ امریکا میں جہاں نصف آبادی روزانہ کافی پیتی ہے، وہیں پاکستان جیسے ممالک میں بھی کیفے کلچر اور گھریلو کافی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اس تحقیق نے کافی کے صحت پر مثبت اثرات کو ثابت کر کے عالمی سطح پر اس کے استعمال کو مزید فروغ دینے کی راہ ہموار کی ہے۔ پاکستانی صارفین اب اس مشروب کو ایک صحت بخش انتخاب کے طور پر دیکھ سکتے ہیں، بشرطیکہ اسے درست طریقے سے استعمال کیا جائے۔

پاکستانی صارفین کا جوش

ایکس پر پاکستانی صارفین نے اس تحقیق کو سراہتے ہوئے اپنی کافی کی عادات پر تبصرے کیے۔ ایک صارف نے لکھا، "بلیک کافی اب میری نئی پسند ہے! یہ تحقیق ہمارے لیے ایک گیم چینجر ہے۔” ایک اور پوسٹ میں کہا گیا، "کم چینی والی کافی سے زندگی بڑھ سکتی ہے، یہ تو حیرت انگیز ہے!” یہ ردعمل پاکستانی عوام کے بڑھتے ہوئے صحت سے متعلق شعور اور کافی کی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے، جو اس تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

مستقبل کے لیے مشورے

ماہرین نے پاکستانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کافی کے استعمال میں صحت مند طریقے اپنائیں۔ بلیک کافی کو ترجیح دینا، چینی کی مقدار کم کرنا، اور مصنوعی کریمرز سے گریز کرنا چند آسان اقدامات ہیں جو صحت کے فوائد کو بڑھا سکتے ہیں۔ پاکستانی گھرانوں میں جہاں چائے کی ثقافت غالب ہے، کافی کو ایک صحت مند متبادل کے طور پر اپنانا ایک مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ یہ تحقیق پاکستانی معاشرے کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنی روزمرہ عادات کو بہتر بنائیں۔

کافی کے ساتھ صحت مند زندگی

جرنل آف نیوٹریشن کی اس تحقیق نے ثابت کیا کہ کم چینی یا بلیک کافی کا روزانہ ایک سے تین کپ پینا قبل از وقت موت کے خطرات کو 16 سے 17 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔ پاکستانی صارفین کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی کافی کی عادت کو صحت مند بنائیں اور اس کے اینٹی آکسیڈنٹ فوائد سے استفادہ کریں۔ کیفینیٹڈ یا ڈی کیف، دونوں ہی صورتیں فائدہ مند ہیں جب تک چینی اور کریم کا استعمال محدود رکھا جائے۔ یہ مطالعہ نہ صرف کافی کی عالمی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ پاکستانی معاشرے کے لیے ایک صحت مند اور طویل زندگی کی نوید بھی لاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین