چین میں پارک کی منفرد نوکری کیلئے 10 ہزار سے زائد افراد کی درخواستیں موصول

منتخب افراد کو وائلڈ مین کے روپ میں ملبوس ہو کر پارک میں گھومنا ہوگا

20 جون 2025 کو چین کے شینونگجیا نیشنل پارک کی جانب سے جاری کردہ ایک غیر معمولی نوکری کے اشتہار نے عالمی توجہ حاصل کر لی۔ اس اشتہار میں پارک کے اندر دیومالائی مخلوق "وائلڈ مین” کا کردار ادا کرنے والوں کے لیے روزانہ 500 یوان (69.60 ڈالر) کی پیشکش کی گئی، جس کے نتیجے میں 10 ہزار سے زائد افراد نے درخواست دی۔ یہ نوکری سیاحوں کے لیے ایک منفرد تجربہ تخلیق کرنے اور پارک کی ثقافتی دلکشی کو اجاگر کرنے کا حصہ ہے۔ صرف 16 خوش نصیب افراد کو یہ کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا، جو چین کے سیاحتی شعبے میں ایک نئی جہت کا اضافہ کر رہا ہے۔

وائلڈ مین کا کردار

شینونگجیا نیشنل پارک، جو صوبہ ہوبی میں واقع ہے، اپنی سرسبز پہاڑیوں اور "وائلڈ مین” یا "یئرین” کی دیومالائی کہانیوں کے لیے مشہور ہے۔ یہ مخلوق، جو تقریباً دو میٹر لمبی، سرخ یا بھورے بالوں سے ڈھکی، اور تیز رفتار بتائی جاتی ہے، مقامی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے۔ نوکری کے اشتہار کے مطابق، منتخب افراد کو وائلڈ مین کے روپ میں ملبوس ہو کر پارک میں گھومنا ہوگا، سیاحوں کے سامنے صرف "وو وو” جیسی آوازیں نکالنی ہوں گی، اور کبھی کبھار تجریدی رقص پیش کرنا ہوگا۔ یہ کردار سیاحوں کو ایک عمیق تجربہ فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

بے پناہ دلچسپی

7 جون 2025 کو اشتہار کے اجرا کے بعد سے، شینونگجیا پارک کے منتظمین کو درخواستوں کا سیلاب موصول ہوا۔ چائنا ڈیلی کے مطابق، پہلی رات ہی 2,000 سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں، جو چند دنوں میں بڑھ کر تقریباً 10,000 تک پہنچ گئیں۔ منتظمین نے شارٹ ویڈیو پلیٹ فارمز جیسے ڈوئن (چینی ٹک ٹاک) اور ژیاوہونگشو پر 20 سے زائد فین گروپس قائم کیے، ہر گروپ میں 500 ارکان شامل ہیں۔ یہ گروپس نوکری کے شوقین افراد کو راغب کرنے اور ان کی دلچسپی کو برقرار رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ بنے۔

صرف 16 عہدوں کے لیے مقابلہ

اس نوکری کی غیر معمولی مقبولیت کے باوجود، شینونگجیا پارک صرف 16 افراد کو منتخب کرے گا، جو اسے ایک انتہائی مسابقتی موقع بناتا ہے۔ درخواست دہندگان میں سے ترجیح ان افراد کو دی جائے گی جو جنگلی زندگی سے مانوس ہوں، خام خوراک کھانے کے عادی ہوں، اور شارٹ ویڈیوز بنانے میں تخلیقی صلاحیت رکھتے ہوں۔ منتخب افراد کو جولائی سے اگست تک پارک کے جنگلات میں رہنا ہوگا، جہاں وہ اپنا کھانا اور رہائش خود ترتیب دیں گے، البتہ ایک ملین یوان کا حادثاتی انشورنس فراہم کیا جائے گا۔

نوکری کے تقاضے

وائلڈ مین کے کردار کے لیے امیدواروں کو سخت ضوابط کی پابندی کرنی ہوگی۔ انہیں سیاحوں کے سامنے بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، سوائے اس کے کہ کوئی بیت الخلا کا راستہ پوچھے۔ وہ صرف "وو وو” جیسی آوازیں نکالیں گے اور وائلڈ مین کے لباس میں پارک کے مخصوص علاقوں میں گشت کریں گے۔ سیاحوں کی طرف سے پھینکے گئے کھانے کو قبول کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، اور خام خوراک کھانے کا تجربہ رکھنے والوں کو ترجیح دی جائے گی۔ امیدواروں کو نامعلوم مخلوقات سے سامنا ہونے پر بھاگنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

عالمی شہرت یافتہ مقام

شینونگجیا نیشنل پارک، جو 2016 میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہوا، اپنی بے مثال حیاتیاتی تنوع اور دلفریب مناظر کے لیے جانا جاتا ہے۔ 3,253 مربع کلومیٹر پر پھیلا یہ پارک نایاب سنہری ناک والے بندروں، دیوہیکل سیلامینڈرز، اور دیگر خطرے سے دوچار انواع کا گھر ہے۔ اس کے علاوہ، پارک کی دیومالائی کہانیاں، خاص طور پر وائلڈ مین کی داستانیں، سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ یہ نوکری اسی ثقافتی ورثے کو زندہ رکھنے اور سیاحت کو فروغ دینے کی ایک تخلیقی کوشش ہے۔

سوشل میڈیا پر ہلچل

اس انوکھی نوکری کے اشتہار نے چینی سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی۔ سینا ویبو پر ایک صارف نے تبصرہ کیا، "کون اس نوکری کو ٹھکرا سکتا ہے جو پاگل پن کے ساتھ پیسہ کمانے کا موقع دے؟” ژیاوہونگشو پر ایک ویڈیو، جسے 13,000 سے زائد بار دیکھا گیا، نے ایک صارف کو یہ کہتے ہوئے نقل کیا کہ وہ خود 500 یوان ادا کر کے یہ کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ پاکستانی ایکس صارفین نے بھی اس خبر پر دلچسپی ظاہر کی، جہاں ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ "یہ نوکری پاکستان کے ایڈونچر پسند نوجوانوں کے لیے بھی ایک خواب ہو سکتی ہے۔”

سیاحت میں جدت

ماہرین کا کہنا ہے کہ شینونگجیا کی یہ نوکری سیاحت کے شعبے میں "عمیق تجربات” کی ایک نئی لہر کی نمائندگی کرتی ہے۔ ہینان ووکیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر فو ماوزینگ نے بتایا کہ یہ نقطہ نظر جامد مناظر کو متحرک کہانیوں میں بدلتا ہے، جو سیاحوں کی منفرد تجربات کی طلب کو پورا کرتا ہے۔ اس سے قبل، چین کے دیگر سیاحتی مقامات جیسے تائیہانگ ووزہی ماؤنٹین نے "مونکی کنگ” کے کردار کے لیے اداکار بھرتی کیے، جبکہ ہونان کے تانہے اینشنٹ ٹاؤن نے تاریخی کرداروں کے لیے نوکریاں پیش کیں۔ یہ رجحان سیاحت کو سماجی اور جواں جذبے سے بھرپور بناتا ہے۔

چیلنجز اور مواقع

اگرچہ یہ نوکری مالی طور پر پرکشش اور ایڈونچر سے بھرپور ہے، اس کے چیلنجز بھی کم نہیں۔ امیدواروں کو جنگلی ماحول میں رہنا ہوگا، جہاں وہ اپنا خیمہ لگائیں گے اور روزمرہ کی ضروریات خود جمع کریں گے، سوائے محفوظ پودوں اور جانوروں کے۔ کام کے اوقات صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک ہیں، اور امیدواروں کو اپنی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کی بھی ذمہ داری دی جائے گی۔ یہ نوکری نہ صرف جسمانی فٹنس بلکہ تخلیقی صلاحیتوں اور ماحول کے ساتھ ہم آہنگی کا تقاضا کرتی ہے۔

ایک عالمی رجحان کی عکاسی

پاکستان میں، جہاں سیاحت کے شعبے میں جدت کی ضرورت بڑھ رہی ہے، شینونگجیا کی یہ مہم ایک متاثر کن مثال پیش کرتی ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں جیسے ہنزہ، سوات، یا چترال میں مقامی ثقافت اور دیومالائی کہانیوں پر مبنی ایسی عمیق سرگرمیاں سیاحت کو فروغ دے سکتی ہیں۔ پاکستانی ماہرین سیاحت کا کہنا ہے کہ ایسی تخلیقی نوکریاں نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط کریں گی بلکہ عالمی سیاحوں کو بھی راغب کریں گی۔ شینونگجیا کا یہ منصوبہ پاکستانی سیاحتی حکام کے لیے ایک سبق ہے کہ کس طرح مقامی ورثے کو جدید تقاضوں کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔

شینونگجیا کا تخلیقی انقلاب

شینونگجیا نیشنل پارک کی "وائلڈ مین” نوکری نے نہ صرف 10 ہزار سے زائد درخواست دہندگان کو راغب کیا بلکہ سیاحت کے شعبے میں تخلیقی جدت کی ایک نئی مثال بھی قائم کی۔ 69.60 ڈالر روزانہ کی پیشکش کے ساتھ یہ نوکری دیومالائی ورثے کو زندہ رکھنے اور سیاحوں کے لیے ایک ناقابل فراموش تجربہ فراہم کرنے کی کوشش ہے۔ اگرچہ صرف 16 افراد کو منتخب کیا جائے گا، لیکن اس اشتہار کی عالمی شہرت نے شینونگجیا کو سیاحت کے نقشے پر ایک نمایاں مقام دیا ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کے لیے ایک متاثر کن ماڈل ہے کہ کس طرح ثقافتی داستانیں اور جدید سیاحت کو ملایا جا سکتا ہے

متعلقہ خبریں

مقبول ترین