21 جون 2025 کو اسلامی جمہوریہ ایران کی پاسداران انقلاب (IRGC) نے اسرائیل پر اپنا 18واں حملہ کیا، جس نے خطے کو ایک نئے اور خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا۔ ایران نے وسطی اور جنوبی اسرائیل کے فوجی اہداف، آپریشنل مراکز، اور فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا، جبکہ اسرائیل نے جوابی کارروائی میں ایران کے میزائل ذخائر اور فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔ یہ مسلسل حملے عالمی جنگ بندی کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے خطے میں تباہی اور خوف پھیلا رہے ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے اعلان جنگ اور اسرائیلی وزیر دفاع کی دھمکیوں نے تنازع کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
ایران کا 18واں حملہ
پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ انہوں نے اسرائیل کے وسطی علاقوں میں فوجی تنصیبات، آپریشنل معاونت کے مراکز، اور بن گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ ایران کے مقامی طور پر تیار کردہ شہید-136 ڈرونز اور ٹھوس و مائع ایندھن سے چلنے والے میزائلوں کے ذریعے کیا گیا۔ IRGC نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کا جدید دفاعی نظام، بشمول ایرو اور ڈیوڈز سلنگ، ان حملوں کو روکنے میں ناکام رہا۔ ڈین گش میں ایک رہائشی عمارت کو میزائل کے ٹکڑوں سے نقصان پہنچا، جس سے آگ بھڑک اٹھی، لیکن جانی نقصان کی فوری رپورٹس سامنے نہیں آئیں۔
اسرائیل کا جوابی حملہ
اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے وسطی علاقوں میں میزائل ذخائر، لانچنگ انفراسٹرکچر، اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے فوری جوابی کارروائی شروع کی۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے تہران اور دیگر شہروں میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور اسلحہ گوداموں کو تباہ کیا۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ اب "خامنہ ای کے خاتمے” تک جاری رہے گی۔ ایران نے ان حملوں کے دوران اپنے ایئر ڈیفنس سسٹم کی کارکردگی کی تعریف کی، دعویٰ کیا کہ متعدد اسرائیلی میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے گئے۔
شدید مالی نقصان
ایران نے جمعے کی صبح اسرائیل کے جنوبی شہر بیرشیبہ پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش کی، جس سے رہائشی علاقوں، گاڑیوں، اور انفراسٹرکچر کو بھاری نقصان پہنچا۔ مائیکروسافٹ آفس کے قریب آگ بھڑک اٹھی، اور متعدد گاڑیاں جل کر راکھ ہو گئیں۔ میگن ڈیوڈ ایڈم کی ایمرجنسی سروسز نے فوری طور پر آگ بجھانے اور ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ اگرچہ کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، لیکن ایک روز قبل بیرشیبہ کے سوروکا ہسپتال پر حملے میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ ہسپتال کے اندر ایک فوجی اڈہ موجود تھا، جو انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔
سیجل میزائل کا استعمال
ایران نے اپنے آپریشن وعدہ صادق سوم کے تحت 11ویں حملے میں پہلی بار جدید سیجل میزائلوں کا استعمال کیا، جو تل ابیب اور حیفہ کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے۔ یہ میزائل اپنی بلند پرواز اور درست ہدف زنی کی صلاحیت کے لیے مشہور ہیں۔ IRGC نے دعویٰ کیا کہ ان کے فتح، عماد، غدر، اور خیبرشکن میزائلوں نے اسرائیل کے دفاعی نظام کو چیرتے ہوئے اہم تنصیبات کو تباہ کیا۔ حیفہ کی بندرگاہ اور ایک بڑے آئل ڈپو کو نشانہ بنانے کی ویڈیو ایرانی میڈیا پر شیئر کی گئی، جس نے اسرائیل میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
دونوں طرف بھاری نقصان
اتوار کے روز ایران اور اسرائیل کے درمیان جھڑپوں نے نئی شدت اختیار کی۔ ایران نے تل ابیب اور حیفہ پر 50 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے، جنہوں نے ڈیمونا جوہری تنصیبات سمیت متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل نے جوابی کارروائی میں تہران، مشہد، اور دیگر ایرانی شہروں پر حملے کیے، جن میں پانی کی پائپ لائن اور مشہد ایئرپورٹ کو نقصان پہنچا۔ تہران میں کار بم دھماکوں میں 14 ایٹمی سائنسدان شہید ہوئے، جبکہ اسرائیل نے پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف جنرل محمد کاظمی اور نائب حسن محقق کی ہلاکت کا دعویٺ کیا۔ ایران نے ان شہادتوں کی تصدیق کی، جس نے تنازع کو مزید گہرا کر دیا۔
ایران میں سائبر اور مواصلاتی بندش
اسرائیلی سائبر حملوں کے خدشے کے پیش نظر ایران نے ملک بھر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز معطل کر دیں۔ وزارت انفارمیشن نے اسے قومی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ IRGC نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے "مقبوضہ علاقوں کی فضاؤں پر مکمل کنٹرول” حاصل کر لیا ہے، جبکہ اسرائیلی فوج نے ایران کے 44 ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز مار گرانے کا دعویٺ کیا۔ ایرانی خفیہ ایجنسی نے تہران میں موساد کے دو ایجنٹس کو گرفتار کیا، جن پر تخریب کاری اور قتل کی وارداتیں کرنے کا الزام ہے۔ اسلامشہر میں موساد کی مبینہ ڈرون ورکشاپ بھی پکڑی گئی۔
جنگ بندی کی کوششیں
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا، لیکن اسرائیلی حملے جاری رہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے ایران اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی، جسے روس کے ایران کے ساتھ اسٹریٹجک معاہدے کی روشنی میں دیکھا جا رہا ہے۔ جرمنی، فرانس، اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے جمعے کو جنیوا میں ایرانی ہم منصب سے جوہری مذاکرات کیے، جن کا مقصد ایران کو پرامن جوہری پروگرام تک محدود رکھنا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیل کے حملوں میں امریکی ملوثیت کا الزام لگاتے ہوئے خبردار کیا کہ جنگ خلیج فارس تک پھیل سکتی ہے۔
سفارت کاری یا طاقت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتوں میں ایران-اسرائیل تنازع میں براہ راست مداخلت کا فیصلہ کرنے کا اعلان کیا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ ٹرمپ سفارتی حل کے خواہشمند ہیں لیکن ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر دعویٺ کیا کہ وہ دونوں فریقین کے درمیان معاہدہ کروا سکتے ہیں، لیکن ایران کے امریکی مفادات پر حملے کی صورت میں "بے مثال” جواب دیا جائے گا۔ ایران نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو اسرائیل کی حمایت پر حملوں کی دھمکی دی۔
اسرائیل میں تباہی
ایرانی حملوں نے اسرائیل کے شہروں تل ابیب، حیفہ، اور بیرشیبہ میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ حیفہ کی تیل ریفائنری بند کر دی گئی، جبکہ بات یم اور بیسان میں درجنوں عمارتیں تباہ ہوئیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، 14 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ 35 شہری لاپتہ ہیں۔ تل ابیب میں دھماکوں کے بعد دھوئیں کے بادل چھا گئے، اور شہریوں کو بنکرز میں پناہ لینے کی ہدایت کی گئی۔ اسرائیلی فوج نے صحافیوں کو متاثرہ علاقوں کی رپورٹنگ سے روک دیا، جس سے معلومات کی سنسرشپ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
سائنسدانوں اور کمانڈرز کی شہادت
ایران نے اسرائیلی حملوں میں 224 افراد کی شہادت کی تصدیق کی، جن میں 90 فیصد عام شہری ہیں۔ تہران میں وزارت دفاع کی عمارت اور مشہد ایئرپورٹ کو نقصان پہنچا، جبکہ پانی کی پائپ لائن کی تباہی سے شہری مشکلات کا شکار ہیں۔ IRGC کے انٹیلی جنس چیف جنرل محمد کاظمی اور نائب حسن محقق سمیت 20 سے زائد کمانڈرز کی شہادت نے ایران کی عسکری قیادت کو دھچکا لگایا۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے سخت جوابی کارروائی کی دھمکی دی، جبکہ خامنہ ای نے "صہیونی ریاست پر رحم نہ کرنے” کا اعلان کیا۔
سوشل میڈیا پر ہلچل
ایکس پر ایرانی اور اسرائیلی حملوں کی ویڈیوز وائرل ہوئیں، جہاں پاکستانی صارفین نے تنازع پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، "یہ جنگ خطے کو تباہ کر دے گی، عالمی برادری کو فوری مداخلت کرنی چاہیے۔” ایک اور پوسٹ میں کہا گیا، "ایران اور اسرائیل کی جارحیت سے کوئی فائدہ نہیں، صرف تباہی ہوگی۔” عرب میڈیا نے ایرانی حملوں کو "اب تک کا سب سے شدید” قرار دیا، جبکہ اسرائیلی میڈیا نے شہریوں میں پھیلے خوف کو اجاگر کیا۔ خامنہ ای کی ٹویٹس، جن میں خیبر کی فتح کی علامتی تصویر شامل تھی، نے مذہبی اور تاریخی تناظر میں تنازع کو شدت دی۔
خطے میں جنگ کا خطرہ
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری میزائل اور ڈرون حملوں نے خطے کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایران کے 100 سے زائد سپر سونک میزائلوں اور اسرائیل کے جوابی حملوں نے دونوں ممالک میں بھاری تباہی مچائی۔ عالمی کوششوں، بشمول روس کی ثالثی اور یورپی مذاکرات، کے باوجود جنگ بندی کے امکانات معدوم ہیں۔ ٹرمپ کی سفارتی یا عسکری مداخلت کے فیصلے سے تنازع کی سمت متعین ہوگی۔ خامنہ ای اور اسرائیلی قیادت کے سخت بیانات نے امن کی امیدوں کو ماند کر دیا ہے۔ یہ تنازع نہ صرف ایران اور اسرائیل بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔





















