امریکی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد ایران کا اسرائیل پر بھرپور وار، 24 اسرائیلی ہلاک

امریکی فضائیہ نے فردو، نطنز اور اصفہان میں موجود ایرانی جوہری مراکز پر انتہائی کامیاب کارروائی کی

تہران/واشنگٹن/تل ابیب :امریکہ کی جانب سے ایران کی حساس جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد خطہ مشرق وسطیٰ کھلی جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا  ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل پر بھرپور بیلسٹک میزائل حملے کیے جن میں درجنوں تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں اب تک 24 افراد ہلاک اور 1213 زخمی ہو چکے ہیں۔

امریکی صدر کا حملے کی تفصیل جاری کرنے کا دعویٰ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں انکشاف کیا کہ امریکی فضائیہ نے فردو، نطنز اور اصفہان میں موجود ایرانی جوہری مراکز پر انتہائی کامیاب کارروائی کی۔ ان کے مطابق فردو کا نیوکلیئر پلانٹ مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس مشن میں جدید ترین B-2 اسٹیلتھ بمبار طیارے استعمال کیے گئے اور ان تمام طیاروں نے محفوظ طریقے سے ایران کی فضائی حدود سے باہر نکل کر واپسی کا عمل مکمل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دنیا کی سب سے مہارت سے بھرپور فضائی کارروائی تھی، جس کی مثال نہیں ملتی۔

ایران کی جانب سے شدید ردعمل اور جوابی وار

ایران نے امریکی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فردو، نطنز اور اصفہان سرفہرست ہیں۔ ایران کے نائب سیاسی ڈائریکٹر نے دعویٰ کیا کہ ان سائٹس کو حملے سے پہلے ہی خالی کر دیا گیا تھا، لہٰذا کوئی بڑا جانی یا مواد کا نقصان نہیں ہوا۔

اس کے باوجود، ایران نے امریکی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب اور یروشلم پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش کر دی۔ ان حملوں میں اسرائیلی فوجی تنصیبات، بائیولاجیکل ریسرچ سینٹرز اور کمانڈ بیسز کو نشانہ بنایا گیا۔

حملہ کرنے والے طیاروں کا سراغ لگا لیا گیا

ایرانی پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی محمد نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے ان طیاروں کی موجودہ پوزیشن کا پتہ چلا لیا ہے جنہوں نے ایرانی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔ ان کے مطابق یہ طیارے اب ایران کے نشانے پر ہیں اور مزید مہلک میزائلوں کی تیاری جاری ہے۔

جنرل علی محمد کا کہنا تھا کہ ایران نے حیفہ میں واقع اسرائیلی سیل ٹاورز، اے آئی کمپنیز اور دفاعی تجربہ گاہوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کے بقول، اہداف کی شناخت میزائلوں کے مخصوص راستوں کی مدد سے کی گئی۔

اسرائیل میں شدید جانی و مالی نقصان

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی میزائل حملوں کے بعد ہلاک شدگان کی تعداد 24 تک پہنچ چکی ہے جبکہ 1213 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 16 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ حملوں کے بعد اسرائیلی فضائی حدود بند کر دی گئی ہیں، اور ملک میں ایمرجنسی نافذ ہے۔

ایرانی فوج پر اسرائیلی حملہ، 9 اہلکار شہید

جوابی حملے سے قبل اسرائیل نے ایران کے شہر یزد میں دو فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کے 7 اہلکاروں سمیت 9 ایرانی فوجی شہید ہو گئے۔ ایرانی حکام نے اس کارروائی کو بزدلانہ وار قرار دیا ہے۔

عالمی سطح پر شدید مذمت اور ردعمل

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکی حملے کو خطرناک پیش رفت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے خطے میں غیر معمولی بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے، جو پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا۔ انہوں نے فریقین سے تحمل اور فوری مذاکرات پر زور دیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی اقدام کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری، عوام اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔

 تابکاری میں کوئی اضافہ نہیں ہوا

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے بیان جاری کیا ہے کہ امریکی حملے کے باوجود تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے اور کسی قسم کی جوہری آلودگی رپورٹ نہیں ہوئی۔ ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نے بھی حفاظتی اقدامات کی تصدیق کی ہے۔

ایران نے سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا

ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ کے اس اقدام کو بین الاقوامی جارحیت قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ایرانی مشن نے کہا ہے کہ اگر سلامتی کونسل نے اس واقعے کو نظرانداز کیا تو یہ عالمی قوانین کی توہین ہوگی۔

دنیا دو حصوں میں تقسیم

ایران پر امریکی حملے کے بعد عالمی برادری شدید تقسیم کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ کیوبا، وینزویلا، چلی اور میکسیکو نے واشنگٹن کے اقدام کو کھلی جارحیت قرار دے کر شدید مذمت کی ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ امریکہ طاقت کے نشے میں انسانی اقدار کو روند رہا ہے۔

دوسری جانب برطانیہ نے امریکی کارروائی کی کھل کر حمایت کی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور یہ حملہ تہران کے نیوکلیئر خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

عرب دنیا کا محتاط اور سخت موقف

سعودی عرب، عمان، قطر اور عراق نے امریکی حملے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل کی اپیل کی ہے۔ سعودی عرب نے کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل پر زور دیا ہے، جبکہ عمان نے اسے غیر قانونی کارروائی قرار دیا ہے۔ قطر اور عراق نے بھی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

آسٹریلیا و نیوزی لینڈ کی متوازن پالیسی

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے موجودہ صورتحال پر محتاط ردعمل دیا ہے۔ دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کی ہے، تاہم امریکہ کے اقدامات کی براہ راست حمایت یا مخالفت سے گریز کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین