22 جون 2025 کو ایک حیران کن انکشاف نے عالمی توجہ حاصل کی، جب معلوم ہوا کہ امریکی فضائیہ کے بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کے لیے بھارتی فضائی حدود استعمال کیں۔ یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی، جہاں ایران، اسرائیل، اور امریکا کے درمیان تناؤ عروج پر ہے۔ تجزیہ کاروں نے اسے بھارت کے خطے میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک کردار کی علامت قرار دیا، جو علاقائی اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ یہ رپورٹ اس اہم واقعے کی تفصیلات اور اس کے ممکنہ نتائج پر روشنی ڈالتی ہے۔
آپریشن مڈنائٹ ہیمر
امریکی بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے ایران کے تین اہم ایٹمی مراکز—فورڈو، نتنز، اور اصفہان—پر حملہ کیا، جسے امریکی حکام نے "آپریشن مڈنائٹ ہیمر” کا نام دیا۔ ان حملوں میں 14 جی بی یو-57 میسیو آرڈننس پینیٹریٹر (ایم او پی) بم استعمال کیے گئے، جو خاص طور پر زیرزمین تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ایک "شاندار فوجی کامیابی” قرار دیا، جبکہ ایرانی حکام نے اسے "وحشیانہ جارحیت” قرار دیتے ہوئے سخت جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔ یہ حملہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو شدید نقصان پہنچانے کے امریکی عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔
بھارتی فضائی حدود کا استعمال
رپورٹس کے مطابق، بی-2 بمبار طیاروں نے اپنا سفر امریکی جزیرے گوام (15° شمال، 145° مشرق) سے شروع کیا۔ یہ طیارے بحر انڈمان (10° شمال، 95°-100° مشرق) سے گزرتے ہوئے وسطی بھارت (20° شمال، 75°-80° مشرق) کی فضائی حدود سے ہو کر بحیرہ عرب کے راستے ایران کی سرحدی حدود (25°-30° شمال، 60°-65° مشرق) تک پہنچے۔ یہ طویل اور اسٹریٹجک راستہ امریکی فضائیہ کی صلاحیتوں اور بھارت کی خاموش رضامندی کو ظاہر کرتا ہے، جو اس آپریشن کی کامیابی کے لیے اہم تھا۔ بھارتی فضائی حدود کا استعمال اس حملے کی منصوبہ بندی میں ایک اہم عنصر تھا۔
بھارت کا اسٹریٹجک کردار
دفاعی تجزیہ کاروں نے اس انکشاف کو بھارت کے خطے میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک کردار کی علامت قرار دیا۔ ایک تجزیہ کار نے کہا کہ "بھارتی فضائی حدود کا استعمال خطے کے سیکیورٹی منظرنامے میں ایک نئے باب کا آغاز ہو سکتا ہے۔” یہ پیش رفت بھارت کے اسرائیل اور امریکا کے ساتھ بڑھتے ہوئے فوجی اور سفارتی تعلقات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ تاہم، بھارتی حکومت یا امریکی فوج کی جانب سے اس استعمال کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، جس سے اس معاملے پر مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ واقعہ بھارت کی غیر جانبداری کی پالیسی پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ پہلے ہی عروج پر تھا۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے ایٹمی مراکز پر ایک ہفتے سے زائد عرصے تک حملوں کے بعد، امریکی مداخلت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا۔ ایران نے ان حملوں کو "غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مدد مانگی ہے۔ دوسری جانب، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کو روکنے کے لیے ناگزیر تھے۔ اس تنازع نے خطے میں عدم استحکام کا ایک نیا دور شروع کر دیا ہے۔
بی-2 بمبار کی صلاحیتیں
بی-2 اسٹیلتھ بمبار، جنہیں "اسپریٹ” بھی کہا جاتا ہے، دنیا کے جدید ترین جنگی طیاروں میں سے ہیں۔ یہ طیارے ریڈار سے بچنے والی ٹیکنالوجی اور 11,000 کلومیٹر تک بغیر ایندھن بھرے پرواز کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہر طیارہ 18,000 کلوگرام تک ہتھیار لے جا سکتا ہے، جن میں ایم او پی جیسے بم شامل ہیں جو 60 میٹر گہرائی تک کے ڈھانچوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔ اس آپریشن میں سات بی-2 طیاروں نے حصہ لیا، جو 125 دیگر امریکی طیاروں کے ساتھ مل کر ایک پیچیدہ اور ہم آہنگ حملہ کر گئے۔ یہ امریکی فضائیہ کی تکنیکی برتری کا مظہر تھا۔
ایران کا ردعمل
اسلامی جمہوریہ ایران نے اس حملے کو "وحشیانہ فوجی جارحیت” قرار دیتے ہوئے امریکی اقدامات کی شدید مذمت کی۔ ایرانی حکام نے کہا کہ وہ اس "جرم” کا سخت جواب دیں گے اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ایران نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس حملے کی مذمت کرے اور امریکی پالیسیوں کے خلاف یکجہتی دکھائے۔ یہ دھمکیاں خطے میں مزید تناؤ اور ممکنہ جوابی کارروائیوں کا پیش خیمہ ہیں، جو عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
پاکستانی صارفین کی ناراضی
ایکس پر پاکستانی صارفین نے اس انکشاف پر شدید ردعمل دیا، خاص طور پر اس پروپیگنڈے کے خلاف جو پاکستان کی فضائی حدود کے استعمال کا دعویٰ کر رہا تھا۔ ایک صارف نے لکھا، "بھارت نے اپنی فضائی حدود دی، لیکن الزام پاکستان پر لگایا گیا، یہ منافقت ہے!” ایک اور نے کہا، "پاکستان کی فضائی حدود محفوظ ہے، بھارت کے کردار نے اس کی اصلیت کھول دی۔” یہ تبصرے پاکستانی عوام کے جذبات اور بھارت کے اسٹریٹجک کردار پر ان کے تحفظات کو ظاہر کرتے ہیں۔
بھارت کی خاموشی
بھارت نے اس معاملے پر سرکاری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا، جو اس کی محتاط سفارتی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، اس خاموشی نے خطے میں بھارت کے کردار پر سوالات اٹھائے ہیں، خاص طور پر پاکستان اور ایران جیسے پڑوسی ممالک کے تناظر میں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی اسٹریٹجک شراکت داری، خاص طور پر اسرائیل اور امریکا کے ساتھ، اسے خطے میں ایک اہم کھلاڑی بنا رہی ہے، لیکن یہ اس کے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو پیچیدہ بھی کر سکتا ہے۔ یہ صورتحال بھارت کی غیر جانبداری کی روایتی پالیسی سے انحراف کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
خطے میں عدم استحکام کا خطرہ
امریکی حملوں اور بھارتی فضائی حدود کے استعمال نے مشرق وسطیٰ میں ایک نئے تنازعے کا دروازہ کھول دیا ہے۔ ایران کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنانے سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے، جبکہ بھارت کا کردار جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان نئے اسٹریٹجک تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے، لیکن ایران کی جوابی دھمکیوں نے صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے۔ یہ واقعہ عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک نئے اسٹریٹجک دور کا آغاز
امریکی بی-2 بمبار طیاروں کا بھارتی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے ایران پر حملہ نہ صرف ایک فوجی کارروائی بلکہ خطے کے بدلتے ہوئے اسٹریٹجک منظرنامے کی عکاسی ہے۔ بھارت کا اس آپریشن میں کردار اس کی عالمی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی شراکت داری اور مشرق وسطیٰ میں اس کے بڑھتے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، اس سے پاکستان اور ایران جیسے ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات پر سوالات اٹھتے ہیں۔ یہ واقعہ عالمی اور علاقائی سطح پر نئے اتحادوں اور تنازعات کا پیش خیمہ بن سکتا ہے، جو خطے کے مستقبل کو غیر یقینی بنا رہا ہے۔





















