مشرق وسطیٰ میں جاری تناؤ کے درمیان ایک اہم اور تشویشناک پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان سے چند لمحات قبل ایران نے اسرائیل پر شدید میزائل حملے کیے، جس کے نتیجے میں 4 اسرائیلی شہری ہلاک اور کم از کم 9 زخمی ہوگئے۔ اس حملے نے جنگ بندی کے امکانات کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے اور خطے میں کشیدگی کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔
بیرشیبا پر میزائل حملہ
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کی ایمرجنسی سروس ’میگن ڈیوڈ ایڈم‘ (MDA) نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی اسرائیل کے شہر بیرشیبا میں ایرانی میزائل کے گرنے سے 4 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ دو زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ 6 دیگر افراد کو جائے وقوع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایک گھنٹے کے دوران 6 مرتبہ ایئر سائرن بجائے گئے، جو شہریوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوئے۔
حملوں کے نتیجے میں متعدد رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ بیرشیبا میں ایک رہائشی عمارت پر براہ راست میزائل حملے سے تباہی کی تصاویر منظر عام پر آئیں، جہاں عمارت کا ایک حصہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، شہریوں کو خبردار کرنے کے لیے نصب کردہ حفاظتی نظام نے کئی میزائلوں کو روکنے میں کامیابی حاصل کی، لیکن کچھ میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔
ایرانی ردعمل اور جنگ بندی کا تنازع
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، یہ میزائل حملے اس وقت کیے گئے جب صدر ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان مرحلہ وار جنگ بندی کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ ایران نے جنگ بندی کے نفاذ سے قبل کم از کم 5 میزائل داغے، جن کا ہدف اسرائیل کے اہم شہری اور فوجی مراکز تھے۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے اسرائیل کی حالیہ جارحیت کا جواب تھے، جس میں ایران کی جوہری تنصیبات اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ ایران کی جانب سے مسلسل میزائل حملوں کا سلسلہ جاری رہا، حتیٰ کہ جنگ بندی کا اعلان ہونے کے بعد بھی۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ "ہمارے فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائلوں کو روکا، لیکن کچھ شہری علاقوں میں نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوگئے۔” اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ان حملوں کو "غیر انسانی” قرار دیتے ہوئے ایران سے "بھرپور جواب” دینے کا عزم ظاہر کیا۔
جنگ بندی کے امکانات پر سوالیہ نشان
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جنگ بندی کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ تاہم، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اس اعلان پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور کہا کہ "کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں ہوا، لیکن اگر اسرائیل اپنی جارحیت روکتا ہے تو ایران بھی جوابی کارروائی سے گریز کرے گا۔”
اسرائیل نے بھی واضح کیا کہ وہ جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کا سخت جواب دے گا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ "ہم اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔” اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بندی کا نفاذ ابھی تک غیر یقینی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بدستور موجود ہے۔
عالمی برادری کا ردعمل
ان حملوں نے عالمی برادری میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فریقین سے فوری طور پر تحمل اور سفارتی مذاکرات کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ "یہ تنازع خطے کو تباہی کے دہانے پر لے جا سکتا ہے۔”
دوسری جانب، قطر اور عمان جیسے ممالک نے سفارتی کوششوں کو تیز کر دیا ہے تاکہ دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کہا کہ "ہم تمام فریقین سے رابطے میں ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ جنگ بندی کامیاب ہوگی۔”
پس منظر
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کیے، جن میں نطنز اور فردو کے اہم ایٹمی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا تھا، جو اس کے خیال میں خطے کے لیے خطرہ ہے۔ جواب میں ایران نے اسرائیل پر متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں تل ابیب، حیفہ، اور بیرشیبا جیسے شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیل کی جانب سے ایران کے فوجی اہداف، ایئر بیسز، اور توانائی کے ڈھانچے پر حملوں نے بھی تنازع کو مزید ہوا دی۔ ایرانی حکام نے ان حملوں کو "غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
ایران کے تازہ میزائل حملوں اور اسرائیل کے سخت ردعمل نے جنگ بندی کے امکانات کو دھندلا دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر فریقین نے فوری طور پر سفارتی کوششیں نہ کیں تو یہ تنازع ایک مکمل جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کے شعبے پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ، قطر، اور عمان، اس تنازع کو روکنے کے لیے سرگرم عمل ہیں، لیکن دونوں ممالک کے درمیان گہرے عدم اعتماد نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ فی الحال، بیرشیبا کے شہری خوف اور اضطراب کے عالم میں ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج نے شہریوں سے محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی ہے۔
جنگ بندی کا مستقبل غیر یقینی ہے، لیکن اگر دونوں ممالک نے اس معاہدے پر عمل کیا تو یہ خطے میں امن کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔ عالمی رہنماؤں کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا ایران اور اسرائیل اس موقع کو ضائع کیے بغیر سفارتی حل کی طرف بڑھ سکتے ہیں یا نہیں۔





















