پاکستان آبادی میں اضافہ کا نیا ریکارڈ بنانے جارہا ہے: وفاقی وزیر صحت

گلگت کی چوٹی سے کراچی کے ساحل تک سیوریج پینے کے پانی میں مل رہا ہے

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کا قومی ہیلتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان آبادی میں اضافہ کا نیا ریکارڈ بنانے جارہا ہے۔ انہوں پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے لیکن سال 2030 تک یہ چوتھا بڑا ملک بن جائے گا۔ ورلڈ بینک کے 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی موجودہ آبادی تقریباً 240 ملین ہے جس میں سالانہ 2 فیصد کی شرح سے اضافہ ہورہا ہے۔ وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان جلد ہی انڈونیشیا کو پیچھے چھوڑ دے گا، جبکہ بھارت، بنگلہ دیش اور ایران جیسے ممالک آبادی پر کنٹرول اور نظام صحت کے حوالے سے بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ آبادی میں اضافے کو روکنے کے لیے قومی پالیسی بنانا ناگزیر ہے۔

پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کا بحران

وزیر صحت نے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 68 فیصد بیماریاں گندے پانی کے استعمال سے جنم لیتی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد بیماریاں ناقص پانی اور صفائی کے نظام سے منسلک ہیں۔ مصطفی کمال نے بتایا کہ ملک میں سیوریج ٹریٹمنٹ کا کوئی موثر نظام موجود نہیں ہے، اور گلگت کی چوٹی سے کراچی کے ساحل تک سیوریج پینے کے پانی میں مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی سے 68 فیصد بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

صحت کے نظام کی خرابی اور بیماریوں کا پھیلاؤ

وزیر صحت نے پاکستان میں صحت کے نظام کی خراب صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہیپاٹائٹس سی اور ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے 2022 کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 10 ملین افراد ہیپاٹائٹس سی سے متاثر ہیں، جبکہ انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن کے مطابق 33 ملین سے زائد افراد ذیابیطس کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ، 40 فیصد پاکستانی بچوں کو غذائیت کی کمی کے باعث نشوونما میں مسائل کا سامنا ہے۔ پولیو کا مرض بھی صرف پاکستان اور افغانستان تک محدود رہ گیا ہے، جو ایک سنگین چیلنج ہے۔

اسے بھی پڑھیں: غیر مسلم آبادی والے ایشائی ملک میں اسلامی تدفین کا قانون نافذ

تعلیم اور صحت کی سہولیات کی کمی

مصطفی کمال نے تعلیم اور صحت کی سہولیات کی کمی کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 26 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو یونیسکو کے 2023 کے اعداد و شمار سے مطابقت رکھتا ہے۔ ہسپتالوں کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) جیسے ادارے چند ہزار افراد کے لیے بنائے گئے تھے، لیکن آج لاکھوں مریض وہاں علاج کے لیے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کی حالت ایسی ہے کہ وہ جلسوں کے بعد کی صورتحال سے مشابہ ہے، اور موجودہ وسائل سے صحت کی ضروریات پوری کرنا ناممکن ہے۔

علاج سے بہتر حل

وزیر صحت نے زور دیا کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے، لیکن پاکستان کا موجودہ ماحول لوگوں کو بیمار بنانے کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اربوں ڈالرز سے ہسپتال بنانے کے باوجود بھی مسائل حل نہیں ہوں گے جب تک پرہیز کو فروغ نہ دیا جائے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ان کی اولین ترجیح لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانا ہے۔ اس سلسلے میں، انہوں instantly ناقص غذائیت، گندے پانی اور غیر صحت مند ماحول جیسے مسائل سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈیجیٹل ہیلتھ اصلاحات: ایک نیا قدم

مصطفی کمال نے صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں یونیورسل میڈیکل ریکارڈ کا نظام موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کی میڈیکل ہسٹری جانچنا مشکل ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ شناختی کارڈ نمبر کو میڈیکل ریکارڈ نمبر کے طور پر استعمال کیا جائے گا، اور یونیورسل میڈیکل ریکارڈ سسٹم جلد متعارف کرایا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ٹیلی میڈیسن کے ذریعے ہسپتالوں پر دباؤ کم کیا جائے گا، اور پرائمری ہیلتھ کیئر سنٹرز کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ WHO کے مطابق، ٹیلی میڈیسن سے صحت کی خدمات تک رسائی 30 فیصد تک بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔

اسے بھی پڑھیں: پاکستان کی 66 فیصد آبادی غذائیت والی خوراک سے محروم،عالمی ادارہ خوراک

 صحت مند مستقبل کے لیے اقدامات کی ضرورت

وزیر صحت نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان کو صحت اور آبادی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری جامع پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے۔ آبادی پر کنٹرول، صاف پانی کی فراہمی، پرہیز کی ترویج، اور ڈیجیٹل ہیلتھ اصلاحات کے ذریعے ہی صحت کے نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ انسانوں کو بیمار ہونے سے بچایا جائے، اور اس کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین