کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران پر حملہ؛ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کوشش ایوان میں ناکام

ایسی کارروائیوں کو روکا نہ گیا تو آئین کی اہمیت کم ہو جائے گی، اور یہ جمہوری نظام کو آمریت کی طرف دھکیل سکتا ہے

امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایران کی جوہری تنصیبات پر کانگریس کی اجازت کے بغیر فوجی حملے کے الزام میں مواخذے کی قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ قرارداد ڈیموکریٹک رکن کانگریس ال گرین نے پیش کی تھی، جنہوں نے صدر پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام عائد کیا تھا۔ تاہم، ایوان نے 344 کے مقابلے میں 79 ووٹوں سے اس تجویز کو رد کر دیا، جس سے ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تازہ کوشش ناکام ہو گئی۔

ال گرین کی قرارداد اور دلائل

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن ال گرین نے ایوان میں قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکی آئین کی حفاظت اور صدارتی اختیارات کے توازن کو برقرار رکھنا ان کا فرض ہے۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا، "یہ اقدام اٹھانا میرے لیے خوشی کا باعث نہیں، لیکن یہ ضروری ہے کیونکہ ایک فرد کو 330 ملین امریکیوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا غیر محدود اختیار نہیں دیا جا سکتا۔”

گرین نے زور دیا کہ صدر ٹرمپ کا ایران پر فوجی حملے کا فیصلہ، بغیر کانگریس کی منظوری کے، امریکی آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسی کارروائیوں کو روکا نہ گیا تو آئین کی اہمیت کم ہو جائے گی، اور یہ جمہوری نظام کو آمریت کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا، "میں یہ قرارداد اس لیے پیش کر رہا ہوں تاکہ امریکی عوام کو یقین ہو کہ کانگریس ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے سرگرم ہے۔”

ایوان کا ردعمل اور ووٹنگ

مواخذے کی قرارداد پر بحث کے دوران ایوان نمائندگان میں شدید سیاسی تقسیم دیکھی گئی۔ کئی ڈیموکریٹک ارکان نے صدر ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کی اور اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا، لیکن اکثریت نے مواخذے کی بجائے دیگر قومی ایشوز پر توجہ دینے کی حمایت کی۔ ڈیموکریٹ رکن پیٹ ایگیولر نے کہا، "ہم اس وقت صدر کے نئے ٹیکس اصلاحاتی بل پر کام کر رہے ہیں، جو امریکی معیشت کے لیے اہم ہے۔ مواخذے جیسے معاملات پر توجہ دینا ہمارے وسائل اور ترجیحات کو غیر ضروری طور پر تقسیم کرے گا۔”

ریپبلکن ارکان نے قرارداد کو سیاسی انتقام کا حربہ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کی۔ ان کا موقف تھا کہ صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی کے مفاد میں ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف کارروائی کی، جو ان کے صدارتی اختیارات کے دائرہ کار میں ہے۔ ووٹنگ کے نتائج نے واضح کیا کہ ایوان، خاص طور پر ریپبلکن اکثریت، مواخذے کے اقدام کی حمایت کے لیے تیار نہیں تھا۔

ایران پر حملے کا تنازع

ال گرین کی قرارداد کا پس منظر صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کی تین جوہری تنصیبات—فردو، نطنز، اور اصفہان—پر امریکی فضائی حملوں کا فیصلہ تھا، جو بغیر کانگریس کی منظوری کے کیا گیا۔ ان حملوں کو صدر نے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے ضروری قرار دیا تھا، لیکن ڈیموکریٹس نے اسے غیر آئینی اور خطرناک اقدام قرار دیا۔

ان حملوں کے نتیجے میں ایران نے جوابی کارروائیاں کیں، جن میں قطر اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے اور اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ اس تنازع نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو عروج پر پہنچا دیا، جس کے بعد ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا۔ تاہم، کانگریس کے کچھ ارکان نے صدر کے اس فیصلے کو غیر شفاف اور یکطرفہ قرار دیتے ہوئے مواخذے کی ضرورت پر زور دیا۔

ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تاریخ

یہ پہلا موقع نہیں جب صدر ٹرمپ کو مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل 2019 میں ان پر یوکرین کو فوجی امداد روکنے اور صدر ولادیمیر زیلنسکی پر سیاسی دباؤ ڈالنے کے الزام میں مواخذہ کیا گیا تھا۔ دوسری بار 2021 میں کیپیٹل ہل پر حملے کی ترغیب دینے کے الزام میں ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی ہوئی۔ دونوں بار ایوان نمائندگان نے مواخذے کی منظوری دی، لیکن سینیٹ نے ٹرمپ کو بری کر دیا۔

موجودہ قرارداد کے ناکام ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی ماحول اب بھی ٹرمپ کے حق میں ہے، خاص طور پر ریپبلکن پارٹی کی مضبوط حمایت کی وجہ سے۔ تاہم، ال گرین نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ امریکی جمہوریت کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔

سیاسی اور قانونی مضمرات

ال گرین کی قرارداد کی ناکامی نے امریکی سیاست میں صدارتی اختیارات اور کانگریس کے کردار پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ڈیموکریٹس کا ایک دھڑا مانتا ہے کہ صدر کے فوجی فیصلوں پر کانگریس کی منظوری لازمی ہونی چاہیے، جیسا کہ وار پاورز ایکٹ 1973 میں درج ہے۔ دوسری جانب، ریپبلکنز کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات میں صدر کو فوری فیصلے کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ امریکی آئین کے توازن اور چیک اینڈ بیلنس کے نظام پر ایک اہم امتحان تھا۔ اگرچہ مواخذہ ناکام ہو گیا، لیکن اس نے کانگریس کے اندر موجود سیاسی تقسیم کو نمایاں کیا اور مستقبل میں اس طرح کے تنازعات کے امکانات کو واضح کیا۔

عالمی ردعمل

ایران پر امریکی حملوں اور اس کے بعد مواخذے کی کوشش نے عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔ ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی حملوں کو "بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی” قرار دیا اور کہا کہ یہ مواخذے کی کوشش ان حملوں کی غیر قانونی نوعیت کو ثابت کرتی ہے۔ دوسری جانب، اسرائیل نے امریکی کارروائی کی حمایت کی اور کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے صدر ٹرمپ کے مواخذے کی قرارداد کو مسترد کرنے سے ایک بار پھر ان کے سیاسی اثر و رسوخ کی تصدیق ہوئی ہے۔ تاہم، ال گرین کی کوشش نے امریکی آئین اور جمہوری اصولوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ایران پر حملوں کے تنازع نے نہ صرف امریکی سیاست بلکہ عالمی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کی ہیں۔ جیسے جیسے یہ سیاسی ڈراما آگے بڑھتا ہے، دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا کانگریس اور صدر کے درمیان اختیارات کا یہ تنازع مستقبل میں نئے رخ اختیار کرے گا یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین