سوشل میڈیا اسٹار ثنا یوسف کے قاتل نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا

ثنا یوسف سے ملاقات کا خواہشمند تھا، لیکن ثنا کے بار بار انکار نے اسے شدید غصے میں مبتلا کر دیا

سترہ سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف کے قتل کے المناک واقعے میں گرفتار ملزم عمر حیات نے عدالت کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ 22 سالہ ملزم نے جوڈیشل مجسٹریٹ سعد نذیر کی عدالت میں پیشی کے دوران تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کروایا، جس میں اس نے تسلیم کیا کہ اس نے غصے اور انتقامی جذبات کے زیر اثر ثنا کے گھر میں گھس کر اس کے سینے پر دو گولیاں چلائیں، جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔

واقعے کی تفصیلات اور ملزم کا بیان

عدالت میں پیش کردہ اعترافی بیان کے مطابق، عمر حیات نے بتایا کہ وہ ثنا یوسف سے ملاقات کا خواہشمند تھا، لیکن ثنا کے بار بار انکار نے اسے شدید غصے میں مبتلا کر دیا۔ ملزم نے کہا کہ وہ پہلی بار ثنا کی سالگرہ پر تحفہ لے کر ان کے گھر گیا تھا، لیکن ثنا نے نہ صرف تحفہ ٹھکرا دیا بلکہ اس سے ملنے سے بھی صاف انکار کر دیا اور اسے واپس جانے کو کہا۔ اس واقعے نے عمر کے غصے کو مزید بھڑکایا۔

عمر نے مزید انکشاف کیا کہ 2 جون 2025 کو ثنا نے اسے دوبارہ ملاقات کے لیے بلایا، لیکن اس بار بھی بات نہ بن سکی۔ اس بار ملزم اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور طیش میں آ کر ثنا کے گھر میں زبردستی داخل ہو گیا۔ اس نے غیر قانونی طور پر رکھے گئے اسلحے سے ثنا کے سینے پر دو گولیاں فائر کیں، جس سے وہ فوری طور پر جان کی بازی ہار گئیں۔

واقعہ اور اس کے فوری اثرات

یہ دل دہلا دینے والا واقعہ 2 جون 2025 کی شام کو پیش آیا، جب ثنا یوسف اپنے گھر میں موجود تھیں۔ ملزم کی فائرنگ سے ان کے سینے میں دو گولیاں لگیں، جنہوں نے ان کی جان لے لی۔ پولیس کو اطلاع ملنے پر فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ کر تحقیقات شروع کی گئیں، اور عمر حیات کو چند گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا گیا۔

ثنا یوسف ایک مقبول سوشل میڈیا اسٹار تھیں، جن کے انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر ہزاروں مداح تھے۔ ان کے گانوں، ڈانس ویڈیوز، اور فیشن سے متعلق مواد نے نوجوانوں میں خاصی شہرت حاصل کی تھی۔ ان کی اچانک موت نے سوشل میڈیا پر غم و غضب کی لہر دوڑا دی، جہاں مداحوں نے ان کی یاد میں جذباتی پوسٹس اور پیغامات شیئر کیے۔ ایک صارف نے لکھا، "ثنا ایک روشن ستارہ تھیں، جن کی چمک کو ایک بزدلانہ عمل نے چھین لیا۔”

قانونی کارروائی اور عدالت کا کردار

عمر حیات کو گرفتاری کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ سعد نذیر کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اس نے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ ملزم کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 (قتل عمد) سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے جائے وقوع سے اسلحہ برآمد کر لیا ہے، اور ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا کہ ملزم نے اس قتل کی منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ یہ غصے کی ایک لمحاتی کارروائی تھی۔ تاہم، عدالت نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، اور مقدمے کی اگلی سماعت ایک ہفتے بعد طے کی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ثنا یوسف کے قتل نے سوشل میڈیا پر ایک زبردست طوفان برپا کر دیا۔ ان کے مداحوں نے نہ صرف غم کا اظہار کیا بلکہ خواتین کے خلاف تشدد اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی حفاظت سے متعلق سوالات بھی اٹھائے۔ ایک مداح نے لکھا، "ثنا کی موت ہم سب کے لیے ایک سبق ہے کہ ہمیں اپنی خواتین کو تحفظ دینا ہوگا۔” ایک اور صارف نے کہا، "سوشل میڈیا کی شہرت اپنے خطرات بھی لاتی ہے، ہمیں اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔”

یہ واقعہ سوشل میڈیا اسٹارز کے لیے سیکیورٹی کے مسائل کو بھی اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر ان خواتین کے لیے جو عوامی شخصیت بن کر اپنی نجی زندگی کو خطرات سے دوچار کرتی ہیں۔ کئی مداحوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سخت پالیسیاں بنانی چاہئیں۔

ثنا یوسف کی میراث

ثنا یوسف اپنی کم عمری میں ہی سوشل میڈیا کی دنیا میں ایک نمایاں نام بن چکی تھیں۔ ان کی ویڈیوز میں ان کی توانائی، اعتماد، اور تخلیقی صلاحیتیں جھلکتی تھیں، جنہوں نے ہزاروں لوگوں کو متاثر کیا۔ وہ نہ صرف اپنی خوبصورتی اور فن کے لیے جانی جاتی تھیں بلکہ اپنی مثبت سوچ اور مداحوں سے گہرے رابطے کی وجہ سے بھی مقبول تھیں۔ ان کی موت نے ایک ایسی خلا چھوڑ دیا ہے جو شاید کبھی پُر نہ ہو۔

معاشرتی اور قانونی مضمرات

اس واقعے نے پاکستان میں خواتین کے تحفظ اور سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو اپنی نجی زندگی کے تحفظ کے لیے اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہتر تربیت اور وسائل کی ضرورت ہے۔

عدالتی کارروائی کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ملزم کے اعترافِ جرم کے بعد مقدمہ تیزی سے آگے بڑھے گا، اور اسے سخت سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، اس واقعے نے معاشرے میں غصے کے کنٹرول اور ذہنی صحت کے مسائل پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔

ثنا یوسف کا قتل ایک دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، جس نے نہ صرف ان کے مداحوں بلکہ پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ عمر حیات کے اعترافِ جرم نے اس کیس میں ایک اہم پیش رفت کی ہے، لیکن یہ واقعہ خواتین کی حفاظت اور سوشل میڈیا کی دنیا کے چیلنجز پر گہری سوچ بیدار کرتا ہے۔ جیسے جیسے یہ مقدمہ آگے بڑھتا ہے، امید کی جاتی ہے کہ ثنا کے قتل سے متعلق انصاف ملے گا اور معاشرے میں ایسی المناک واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین