محرم الحرام : علما پر پابندیاں کیوں لگتی ہیں؟

اسلام میں انسانی جان کی حفاظت و حرمت اور لاء اینڈ آرڈر کو اولیت دی گئی ہے

مذہب اور مسلک کے نام پر کسی کی جان لینا یا کسی کی جان کو نقصان پہنچانا دینِ اسلام میں حرام ہے۔ سوشل میڈیا میں دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض مبلغین غیر محتاط گفتگو کرتے ہیں جس میں طعنہ و تشنیع کے ساتھ دشنام طرازی بھی ہوتی ہے اس طرزِ عمل سے سوسائٹی میں بے چینی اور فساد پیدا ہوتا ہے۔ اسلام نے اس رویے سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے اور ایسے علمائے کرام پر پابندیاں بھی لگتی ہیں اور اُنہیں اپنے ہی ملک کے اندر نقص امن کے ڈر سے نقل و حمل سے روک دیا جاتا ہے۔ یہ غور طلب ہے

مومن کی جان اور کعبۃ اللہ

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا ’’( اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے، تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، مومن کے جان و مال کی حرمت اللہ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے ‘‘۔ عقائد میں اہلِ سُنت کے امام ابو منصور ماتریدی انسانی قتل کو کفر قرار دیتے ہوئے تفسیر بیان کرتے ہیں کہ جس نے کسی ایسی جان کا قتل حلال جانا جس کا ناحق قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کررکھا ہے تو گویا اس نے تمام لوگوں کے قتل کو حلال جانا کیونکہ ایسی جان جس کا قتل حرام ہے وہ شخص اس کے قتل کو حلال سمجھ کر کفر کا مرتکب ہوا ہے یعنی کسی کو ناحق قتل کر دینا کفر ہے اور ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ بعض احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ قاتل جنت کی خوشبو کو بھی ترسے گا۔

لا اینڈ آرڈر

اسلام میں انسانی جان کی حفاظت و حرمت اور لاء اینڈ آرڈر کو اولیت دی گئی ہے۔ امن، محبت اور عدم تشدد کا موضوع پاکستان ہی نہیں اقوام عالم کے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے اور آج کل تو اس کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ حضور نبی اکرمﷺ کی سیرت مبارکہ میں ہمیں جا بجا انسانوں سے محبت ، قیام امن اور عدم تشدد کے مظاہر نظر آتے ہیں۔ ہجرت مدینہ کے بعد آپ ﷺ نے نوزائیدہ ریاست مدینہ کے اندر سب سے پہلے لاء اینڈ آرڈر کو بہتر بنانے پر توجہ دی تاکہ ریاست کے تمام طبقات اپنی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کر سکیں۔

ریاست مدینہ میں پہلا نبوی اقدام

آپ ﷺ نے قیام امن کے لئے غیر مسلموں سے معاہدات کئے، ان معاہدوں میں انسانی جان و مال اور مختلف مذاہب کے عقائد کو نظریات کے تحفظ کو اولیت حاصل تھی، ریاست مدینہ میں قیامِ امن کے لئے سب سے پہلا قدم میثاق مدینہ کا اٹھایا گیا۔ میثاقِ مدینہ کے فریقین میں یہودی، نصرانی اور دیگر مذاہب کے قبائلی راہنما شریک تھے۔ آپ ﷺ اپنی خداداد بصیرت سے یہ بھانپ گئے تھے کہ اگر ریاست مدینہ کو سیاسی، سماجی، معاشی، و معاشرتی استحکام چاہیے تو اس کے لئے سب سے پہلے لا ء اینڈ آرڈر کو ٹھیک کرنا ہو گا اور پھر آپ ﷺ نے تمام قبائل سے ڈائیلاگ کیا اور انہیں ایک معاہدہ کرنے پر رضامند کیا۔

اسے بھی پڑھیں: ریاست مدینہ سے ویلفیئر سٹیٹ کا تصور ابھرا:ڈاکٹر حسن قادری

آ پﷺ تمام جہانوں کے لئے رحمت

قرآن مجید میں آپ ﷺ کی فضیلت میں یہ اعلان کیا گیا کہ ’’ اور (اے رسولِ محتشم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر‘‘۔ گویا اللہ تعالیٰ نے آپ کو پیکر امن و سلامتی اور رحمت بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ تمام کائنات کے لئے سراپا رحمت ہیں۔ اپنی اسی صفت کا اظہار خود آپ ﷺ نے متعدد مواقع پر ارشاد فرمایا ۔ مشرکین اور کفار مکہ کی طرف سے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے جاتے رہے۔ جب صحابہ کرام ؓ آپ ﷺ سے یہ عرض کرنے پر مجبور ہو جاتے یا رسول ! آپ ان ظالموں اور مشرکوں کے لئے بددعا کیجیے تو آپ ﷺ اپنے اصحابؓ کے اس تقاضے پر جواباً ارشاد فرماتے ’’مجھے لعنت کرنے والا بنا کر مبعوث نہیں کیا گیا، مجھے تو سراپا رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’وہ شخص ہماری اُمت میں سے نہیں جو ہماری اُمت میں چھوٹے بچوں پر رحمت و شفقت نہ کرے اور بڑے لوگوں کے حق ادب کو نہ پہچانے‘‘۔

دین میں کوئی جبر نہیں 

نرمی، آسانی، شیریں بیانی اور اعلیٰ حُسنِ سلوک اسلام کی تربیتی تعلیمات کا طرۂ امتیاز اور مرکز و محور ہے۔پیغمبر اسلام کی تعلیمات میں جا بجا یہ ارشادات ملتے ہیں کہ طاقت کے زور پر کسی پر کوئی نظریہ مسلط نہ کیا جائے اور آپ ﷺ نے ’’لا اکراہ فی الدین ‘‘ کی تعلیمات کو عام کیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت مبارکہ کا مطالعہ اس امر کو واضح کرتا ہے کہ آپ ﷺ نے کسی بھی معاملہ میں انتہا پسندانہ رویہ اختیار نہیں فرمایا ہمیشہ سماجی و معاشرتی حل طلب اُمور میں اعتدال والا راستہ اختیار کیا، آپ ﷺ نازک ترین حالات میں بھی ہمیشہ معتدل اور متوازن رہے۔ قرآن مجید میں اُمت محمدیہ کو ایک ایسی اُمت قرار دیا گیا ہے جو کسی بھی معاملے میں حد سے تجاوز نہیں کرتی۔

تشدد اور عدم برداشت

آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ پوری اُمت کے لئے رول ماڈل ہے مگر آپ ﷺ کی تعلیمات کے برعکس ہمارے رویوں میں تشدد اور عدم برداشت در آیا ہے۔ ہم معمولی، معمولی باتوں پر دوسروں کو نقصان پہنچانے کے در پے رہتے ہیں حتیٰ کہ جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ زندگی کے عام معاملات سے لے کر دینی، شرعی، فقہی اُمور میں بھی علمی اختلافات کو کفر و اسلام کا جھگڑا بنا لیتے ہیں اور الزام و دشنام طرازی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے یہاں تک کہ وہ منبر و محراب جو اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی تعلیمات اور دینِ حنیف کے فروغ کے لئے بروئے کارآنا چاہیے وہاں سے بھی نفرت اور عدم برداشت کا پرچار کیا جارہا ہے۔ مسلکی اختلافات کو اتنا بڑھا دیا گیا ہے کہ انسانیت کی تکریم اور عزت و مال کی حرمت کے شرعی تقاضے پیچھے رہ گئے ہیں ۔

تحریر و تقریر اور نقل و حمل پر پابندیاں

جب کبھی محرم الحرام کے ایام آتے ہیں یا عید میلاد النبی ﷺ منانے کا مہینہ آتا ہے تو امن پسند عوام یہاں تک کہ حکومتوں کی جان پر بنی ہوتی ہے، لاء اینڈ آرڈر کو بہتر بنائے رکھنے کے لئے خصوصی ٹاسک فورسز قائم کی جاتی ہیں، درس و تدریس کی تمام مجالس کو انتظامیہ مانیٹر کرتی ہے جبکہ عام حالات میں ایسا نہیں ہوتا، بعض علماء اور مبلغین پر تحریر و تقریر اور نقل و حمل کی پابندیاں بھی لگ جاتی ہیں یہ پابندیاں لگانے والوں سے زیادہ جن پر لگتی ہیں اُن کے لئے لمحہ فکریہ ہیں کہ آخر وہ ایسا لب و لہجہ کیوں اختیار کرتے ہیں جو دوسروں کے لئے باعث تکلیف اور امن کے لئے تباہی کا باعث بنتا ہے؟

سوشل میڈیا بائیکاٹ

آج کل سوشل میڈیا جلتی پر تیل گرانے کا کام کررہا ہے۔ بعض شعلہ بیان مقرر اپنے لائکس اور شیئرنگ بڑھانے کے لئے کسی کے عقیدے اور نظریے کو ٹارگٹ کرتے ہیں، بعض شخصیات کو گالیاں تک دی جاتی ہیں، اگرچہ ایسے عناصر کو روکنے کے لئے ریاست ادارے اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں لیکن پھر بھی 25کروڑ عوام میں سے 10کروڑ سے زائد سوشل میڈیا یوزرز پر نظر رکھنا حکومتی یا ریاستی اداروں کے تنہا بس کی بات نہیں ہے، اس کے لئے سوسائٹی کے امن پسند علماء اور ذمہ دار شہریوں، موبائل یوزرز ، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے، نقص امن کا سبب بنے والے مبلغین کا سوشل میڈیا پر بائیکاٹ کریں، انہیں نہ لائیک کریں، نہ شیئر کریں اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی کمنٹ کریں، یاد رہے کمنٹ اچھا ہو یا برا وہ حلقہ اثر کو بڑھاتا ہے، اس لئے ایسے شعبدہ بازوں کو دیکھتے ہی نظر انداز کر دیں۔ جب انہیں لائکس، کمنٹس اور شیئرز نہیں ملیں گے تو وہ اپنے طور اطوار بدلنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

قرآن کا حکم

قرآنِ مجید کا یہ دو ٹوک حکم ہے کہ ’’لا تفرقو‘‘ یعنی باہمی انتشار و فساد سے بچو اورزمین پر فساد نہ کرو۔ قرآن نے فساد فی الارض کو ایک بہت بڑا جرم اور گناہ قرار دیا ہے ۔اسلاف نے فرقہ واریت سے بچنے کا ایک اکسیر نسخہ عطاء کیا ہے کہ اپنا عقیدہ چھوڑو نہ اور دوسرے کے عقیدے کو چھیڑو نہ، یعنی تمہارا دین تمہارے لئے اور میرا دین میرے لئے ، کسی کے جھوٹے معبودوں کو اس لئے بھی بلا جواز برا بھلا مت کہو کہ کہیں وہ آپ کے سچے خدا کو برا بھلا کہنا شروع نہ کر دے، علماء و مشائخ کرام ، مدارس دینیہ کے اساتذہ، مبلغین ،والدین یہاں تک کہ صحافی حضرات کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اعتدال اور رواداری کی انسانی قدروں کے فروغ کے لئے لسان اور قلم کو بروئے کار لائیں۔شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی دو کُتب پڑھنے کے لائق ہیں جن کا ایک ایک حرف حکمت، نصیحت، تدبر، قرآن و سُنت فہمی میں ڈوبا ہوا ہے۔ ان کی ایک کتاب ’’اسلام میں محبت اور عدمِ تشدد‘‘ ہے جس کامطالعہ تمام علمائے کرام بالخصوص فورسز کے افسران اور مدرسین و اساتذہ کو ضرور کرنا چاہیے، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی دوسری کتاب ’’اسلام میں انسانی حقوق‘‘ ہے ۔ یہ کتاب بھی اپنے موضوع کی مناسبت سے نہایت مدلل اور فکر و نظر کے زاویوں کو بدل دینے والی ہے، اس کتاب کے مطالعہ سے قاری کو بخوبی اندازہ ہو گا کہ اسلام میں اقلیتوں، کمزور طبقات یہاں تک کہ جانوروں کے کیا حقوق ہیں؟ اللہ رب العزت ہمیں پیغمبر اسلام کی تعلیمات کے مطابق فروغ علم و امن کیلئے مقدور بھر خدمت انجام دینے کی توفیقات سے نوازے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین