ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کی خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانے

غیر نمونہ، فینسی، جعلی اور بغیر نمبر پلیٹس والی وہیکلز کے خلاف کریک ڈائون کا فیصلہ

لاہورپاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہونے کے باعث اپنی گہما گہمی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ٹریفک مسائل کا شکار ہے۔ شہریوں کی زندگی محفوظ بنانے اور سڑکوں پر نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے پنجاب ٹریفک پولیس مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کے استعمال کو لازمی قرار دینا بھی انہی کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد ٹریفک حادثات میں ہونے والی اموات اور زخمیوں کی تعداد کو کم کرنا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی ٹریفک پنجاب مرزا فاران بیگ کی ہدایت پر صوبے بھر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری ہیں۔

ہیلمٹ کی خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانے

ایڈیشنل آئی جی ٹریفک پنجاب مرزا فاران کے احکامات کے تحت رواں ماہ صوبہ بھر میں ہیلمٹ نہ پہننے کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی گئی۔ ترجمان کے مطابق، 60 ہزار سے زائد شہریوں کو ہیلمٹ کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر 12 کروڑ 74 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ خاص طور پر لاہور میں یہ تعداد نمایاں رہی، جہاں 1 کروڑ 52 لاکھ 88 ہزار روپے سے زائد کے جرمانے کیے گئے۔ مرزا فاران نے واضح کیا کہ ہیلمٹ کا استعمال نہ صرف قانون کی پاسداری ہے بلکہ یہ حادثات کے دوران سر کی چوٹوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کارروائیوں کا مقصد شہریوں کی زندگیوں کا تحفظ ہے، نہ کہ محض جرمانے عائد کرنا۔

سیٹ بیلٹ کی پابندی پر عملدرآمد

اسی طرح، سیٹ بیلٹ کے بغیر گاڑی چلانے والوں کے خلاف بھی پنجاب ٹریفک پولیس نے سخت ایکشن لیا۔ رواں ماہ صوبہ بھر میں 14 ہزار 600 سے زائد چالان ٹکٹ جاری کیے گئے۔ ایڈیشنل آئی جی ٹریفک نے کہا کہ گاڑی میں سوار تمام افراد کے لیے سیٹ بیلٹ کا استعمال لازمی ہے، کیونکہ یہ حادثات کے دوران شدید زخمی ہونے یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے امکانات کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت کے لیے ٹریفک قوانین کی سختی سے پابندی کریں۔

مستقبل کی حکمت عملی

پنجاب ٹریفک پولیس نے اعلان کیا ہے کہ ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔ مرزا فاران نے کہا کہ ٹریفک پولیس شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے تعاون کی اپیل کی اور کہا کہ ٹریفک قوانین کی پابندی نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ یہ ایک سماجی ذمہ داری بھی ہے۔

جعلی، غیر نمونہ اور فینسی نمبر پلیٹس

لاہور میں جعلی، غیر نمونہ اور فینسی نمبر پلیٹس کا استعمال ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ نہ صرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ ای چالان سسٹم سے بچنے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کو بھی ہوا دیتا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سی ٹی او لاہور ڈاکٹر اطہر وحید نے جعلی اور غیر نمونہ نمبر پلیٹس کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں ایک جامع حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے، جس میں عوامی آگاہی اور قانونی کارروائی دونوں شامل ہیں۔

تین روزہ آگاہی مہم

سی ٹی او لاہور نے 27 جون سے جعلی، فینسی اور غیر نمونہ نمبر پلیٹس کے خلاف کریک ڈاؤن سے قبل تین روزہ آگاہی مہم شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس مہم کا مقصد شہریوں کو ٹریفک قوانین کے مطابق نمبر پلیٹس کے استعمال کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔ اس دوران شہریوں کو وارننگ دی جائیں گی تاکہ وہ اپنی گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کو ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے معیار کے مطابق درست کر لیں۔ ڈاکٹر اطہر نے کہا کہ یہ مہم شہریوں کو موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ بغیر کسی قانونی کارروائی کے اپنی گاڑیوں کی نمبر پلیٹس درست کر لیں۔

کریک ڈاؤن اور قانونی کارروائی

27 جون سے شروع ہونے والے کریک ڈاؤن کے دوران جعلی، غیر نمونہ یا ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔ سی ٹی او لاہور نے واضح کیا کہ ایسی گاڑیوں کے مالکان کو کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا، اور صرف ایکسائز کے معیار کے مطابق نمبر پلیٹس والی گاڑیاں ہی اس کارروائی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ اس کے علاوہ، جعلی نمبر پلیٹس بنانے والے مینوفیکچررز کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ڈاکٹر اطہر نے شہریوں کو خبردار کیا کہ ای چالان سے بچنے کے لیے نمبر پلیٹس میں ردوبدل نہ کریں، ورنہ ان کے خلاف مقدمہ درج ہو سکتا ہے۔

عوامی آگاہی کے لیے ٹریفک ایجوکیشن

سی ٹی او لاہور نے سرکل افسران اور ٹریفک ایجوکیشن ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ شہر کی مختلف سڑکوں اور چوکوں پر آگاہی مہم چلائیں۔ اس مہم کے ذریعے شہریوں کو جعلی اور غیر نمونہ نمبر پلیٹس کے استعمال کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے گا۔ ڈاکٹر اطہر نے کہا کہ ایسی کارروائیاں شہریوں کی حفاظت اور ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور اپنی گاڑیوں پر معیاری نمبر پلیٹس لگائیں تاکہ غیر ضروری قانونی مسائل سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین