ایشیا کپ؛ بھارت کی شرکت کا معاملہ تاحال غیر یقینی کا شکار

ایونٹ 12 سے 28 ستمبر تک متحدہ عرب امارات میں منعقد ہو سکتا ہے

لاہور: ایشیا کپ 2025 میں بھارتی کرکٹ ٹیم کی شرکت کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا، جبکہ پاک-بھارت تعلقات میں کشیدگی نے اس اہم ایونٹ کے انعقاد پر گہرے سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ تاہم، آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ 2025 میں دونوں ٹیموں کو ایک ہی گروپ میں شامل کرنے سے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کی امیدیں بڑھ گئی ہیں کہ بھارت ممکنہ طور پر ایشیا کپ میں بھی شریک ہوگا۔ ذرائع کے مطابق، ایونٹ 12 سے 28 ستمبر تک متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں منعقد ہو سکتا ہے، لیکن بھارت کی جانب سے شرکت کی سرکاری تصدیق ابھی تک موصول نہیں ہوئی۔

پاک-بھارت تعلقات اور ایشیا کپ پر اثرات

پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری سیاسی تناؤ نے ایشیا کپ 2025 کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ماضی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ تعلقات سیاسی تناؤ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ 2023 کے ایشیا کپ میں پاکستان نے ہائبرڈ ماڈل اپناتے ہوئے بھارتی میچز سری لنکا میں منعقد کروائے تھے، کیونکہ بھارتی ٹیم نے پاکستان کا سفر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ رواں سال چیمپیئنز ٹرافی سے قبل دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز نے ایک معاہدے کے تحت طے کیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کی سرزمین پر میچز نہیں کھیلیں گے، اور اس کے بجائے تمام مقابلے تیسرے، غیر جانبدار مقامات پر ہوں گے۔ اس معاہدے کا اطلاق چیمپیئنز ٹرافی 2025 میں دیکھا گیا، جہاں بھارت نے اپنے میچز دبئی میں کھیلے۔

اس بار ایشیا کپ کی میزبانی بھارت کے پاس ہے، لیکن سیاسی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایونٹ کے یو اے ای منتقل ہونے کے امکانات نمایاں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ایشیا کپ 12 سے 28 ستمبر تک ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کھیلا جائے گا، جو 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاری کے طور پر اہم ہے۔ تاہم، بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے ابھی تک ایشین کرکٹ کونسل کو اپنی شرکت کی حتمی تصدیق نہیں دی، جس سے ایونٹ کے انعقاد پر غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے۔

مالی و براڈکاسٹنگ چیلنجز

ایشیا کپ کی اہمیت صرف کھیل کے میدان تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مالی اور اقتصادی پہلو بھی انتہائی اہم ہے۔ گزشتہ سال سونی پکچرز نیٹ ورک انڈیا نے 2024 سے 2031 تک کے تمام اے سی سی ایونٹس کے میڈیا رائٹس 170 ملین ڈالر میں حاصل کیے تھے۔ اس معاہدے میں مینز اور ویمنز ایشیا کپ کے تمام ایڈیشنز، انڈر 19 ایشیا کپ، اور ایمرجنگ ٹیمز ٹورنامنٹس شامل ہیں۔ ایشیا کپ کی مالی کامیابی کا انحصار بڑی حد تک بھارت اور پاکستان کے درمیان میچوں پر ہے، جو کرکٹ کے سب سے بڑے مقابلوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

حال ہی میں سونی نے ایشیا کپ کے لیے ایک پروموشنل پوسٹر جاری کیا، جس میں بھارت، سری لنکا، اور بنگلہ دیش کے کپتانوں کو نمایاں کیا گیا، لیکن پاکستانی کپتان کی عدم موجودگی نے سوشل میڈیا پر تنازع کو جنم دیا۔ کئی پاکستانی شائقین نے اسے ایشین کرکٹ کونسل کے چیئرمین محسن نقوی کی ناکامی قرار دیا اور اسے قومی وقار کا معاملہ بنایا۔ ایک صارف نے لکھا کہ پاکستانی کپتان کو پرومو سے ہٹانا ناقابل قبول ہے، اور محسن نقوی کو اس پر فوری عمل کرنا چاہیے۔

بھارتی بائیکاٹ کی افواہوں کی تردید

گزشتہ دنوں ایسی خبریں گردش میں تھیں کہ بی سی سی آئی نے ایشین کرکٹ کونسل کے موجودہ چیئرمین محسن نقوی کی قیادت میں ایشیا کپ اور ویمنز ایمرجنگ ایشیا کپ سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم، بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیوجیت سیکیا نے ان رپورٹس کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ ایشیا کپ یا دیگر اے سی سی ایونٹس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال بی سی سی آئی کا فوکس انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) اور انگلینڈ کے دورے پر ہے۔

تاہم، ذرائع نے اشارہ دیا کہ اگر بھارت نے ایشیا کپ میں پاکستان کے خلاف میچ فورفیٹ کرنے کا فیصلہ کیا تو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) بھی مستقبل کے ایونٹس میں اسی طرح کا جوابی اقدام اٹھا سکتا ہے۔ ایسی صورتحال ایشیا کپ کی ساکھ اور مالی استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ بھارت کی غیر موجودگی میں ایونٹ کی براڈکاسٹنگ ویلیو اور اسپانسرشپ بری طرح متاثر ہوگی۔

ویمنز ورلڈ کپ سے بڑھتی امیدیں

آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ 2025 کے لیے حال ہی میں اعلان کردہ گروپس میں پاکستان اور بھارت کو ایک ہی گروپ میں رکھا گیا ہے، جسے بغیر کسی مخالفت کے قبول کیا گیا۔ اس سے ایشین کرکٹ کونسل کو امید ہے کہ بھارت ایشیا کپ میں بھی شرکت کرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی شرکت کے بغیر ایشیا کپ کا انعقاد مالی اور تنظیمی اعتبار سے ناقابل عمل ہوگا، کیونکہ ایونٹ کی آمدنی کا بڑا حصہ بھارت-پاکستان میچ سے حاصل ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ، بھارتی ٹیم کی جگہ کسی دوسری ٹیم کو ایونٹ میں شامل کرنا بھی ممکن نہیں لگتا، کیونکہ اس سے نہ صرف ایونٹ کی کشش کم ہوگی بلکہ اسپانسرز اور براڈکاسٹرز کی دلچسپی بھی ختم ہو سکتی ہے۔ ایشین کرکٹ کونسل کے سابق کمرشل اینڈ ایونٹس چیف پربھاکرن تھنراج نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایشیا کپ کی مالی کامیابی کا انحصار بھارت-پاکستان میچ پر ہے، جو اسے "اے سی سی کے منیٹائزیشن پلان کا انجن” بناتا ہے۔

یو اے ای ممکنہ میزبان کے طور پر

ایشیا کپ 2025 کے لیے متحدہ عرب امارات کو ایک غیر جانبدار اور مثالی میزبان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یو اے ای ماضی میں 1984، 1995، اور 2018 میں ایشیا کپ کی کامیاب میزبانی کر چکا ہے۔ اس کی جدید کرکٹ سہولیات، غیر جانبدار حیثیت، اور موسم کی سازگار صورتحال اسے ایشیا کپ کے لیے موزوں بناتی ہے۔ تاہم، ایونٹ کے انعقاد کا حتمی فیصلہ بھارت کی شرکت پر منحصر ہے، جو ابھی تک غیر یقینی ہے۔

ویمنز ایمرجنگ ایشیا کپ کی منسوخی

یاد رہے کہ سری لنکا میں 6 جون سے ویمنز ایمرجنگ ایشیا کپ کا انعقاد ہونا تھا، لیکن خراب موسم اور چکن گونیا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات کی وجہ سے اسے ملتوی کر دیا گیا۔ سری لنکا کرکٹ بورڈ کے صدر شامی سلوا نے ایشین کرکٹ کونسل کے چیئرمین محسن نقوی کو خط لکھ کر ایونٹ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی، جسے منظور کر لیا گیا۔

ایشین کرکٹ کونسل کی قیادت

ایشین کرکٹ کونسل کے موجودہ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ محسن نقوی ہیں، جنہوں نے گزشتہ ماہ سری لنکا کرکٹ کے صدر شامی سلوا سے یہ ذمہ داری سنبھالی۔ محسن نقوی کی قیادت میں ایشین کرکٹ کونسل ایشیا کپ کے انعقاد کے لیے پرعزم ہے، لیکن بھارت کی شرکت کے بغیر ایونٹ کی کامیابی ایک بڑا چیلنج ہوگی۔

ایشیا کپ 2025 کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بدستور جاری ہے، اور پاک-بھارت تعلقات میں کشیدگی اس ایونٹ کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ بھارتی شرکت کی تصدیق نہ ہونے کی صورت میں ایونٹ کا انعقاد خطرے میں پڑ سکتا ہے، جو ایشین کرکٹ کونسل اور خطے کی دیگر کرکٹنگ قوموں کے لیے مالی و تنظیمی نقصان کا باعث بنے گا۔ ویمنز ورلڈ کپ میں دونوں ٹیموں کی ایک گروپ میں شمولیت نے امید کی ایک کرن روشن کی ہے، لیکن حتمی فیصلہ اگلے چند ہفتوں میں متوقع ہے۔ ایشین کرکٹ کونسل اور شائقین کرکٹ اب اس اہم موڑ پر نظریں جمائے ہوئے ہیں کہ آیا یہ ایونٹ اپنی روایتی رونق کے ساتھ منعقد ہوگا یا سیاسی تناؤ ایک بار پھر کرکٹ کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین