بھارتی پنجابی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ نیرو باجوہ نے اپنی تازہ ریلیز ہونے والی فلم ’سردار جی 3‘ میں پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کے ساتھ کام کرنے کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر ان فالو کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، نیرو نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ سے فلم کی تمام پروموشنل پوسٹس حذف کر دیں، جس سے شائقین اور سوشل میڈیا صارفین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ صارفین یہ قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ کیا نیرو باجوہ کو بھارتی انتہا پسند ہندو گروہوں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے ہانیہ عامر کے ساتھ سوشل میڈیا رابطہ منقطع کیا اور فلم سے متعلق مواد ہٹایا۔
’سردار جی 3‘ اور پاک-بھارت کشیدگی
’سردار جی 3‘ کی شوٹنگ اس وقت مکمل کی گئی تھی جب پاک-بھارت تعلقات میں کشیدگی عروج پر نہیں تھی۔ فلم میں پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر نے ایک اہم کردار ادا کیا، جو پنجابی فلموں کے مشہور سیکوئل کی تیسری کڑی ہے۔ تاہم، حالیہ پاک-بھارت کشیدگی اور جنگی تناؤ کے بعد بھارتی انتہا پسند گروہوں نے فلم کے میکرز پر دباؤ ڈالا کہ وہ یا تو ہانیہ عامر کے کردار کو فلم سے ہٹائیں یا پھر بھارت میں فلم کے بائیکاٹ کا سامنا کریں۔
اس تنازع کے پیش نظر، فلم کے میکرز نے بھارت میں ریلیز سے گریز کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ’سردار جی 3‘ کو عالمی سطح پر، خاص طور پر کینیڈا، آسٹریلیا، برطانیہ، اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں 27 جون 2025 کو ریلیز کیا جائے گا۔ فلم کے مرکزی اداکار اور پنجابی سنیما کے سپر اسٹار دلجیت دوسانجھ نے ایک حالیہ انٹرویو میں اس فیصلے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا، "میکرز نے اس فلم میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔ اگر وہ اسے بیرون ملک ریلیز کرنا چاہتے ہیں تو میں ان کے ساتھ ہوں۔ فن کو سیاسی تنازعات سے بالاتر ہونا چاہیے۔”
نیرو باجوہ کا ہانیہ عامر کو ان فالو کرنا
نیرو باجوہ، جو ’سردار جی 3‘ میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں، نے حال ہی میں ہانیہ عامر کو انسٹاگرام پر ان فالو کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے فلم کی تشہیر سے متعلق تمام پوسٹس اپنے سوشل میڈیا ہینڈل سے ہٹا دیں، جن میں ہانیہ عامر کے ساتھ تصاویر اور فلم کے پروموشنل مواد شامل تھا۔ اس اقدام نے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا کر دیا، اور صارفین نے قیاس آرائیاں شروع کر دیں کہ کیا نیرو کو بھارتی انتہا پسند گروہوں کی جانب سے دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔
ایک پاکستانی صارف نے ایکس پر لکھا، "نیرو باجوہ نے ہانیہ عامر کو ان فالو کیا اور ’سردار جی 3‘ کی پوسٹس ڈیلیٹ کر دیں۔ یہ واضح ہے کہ ان پر بھارتی انتہا پسندوں کا دباؤ ہے۔” ایک اور صارف نے کہا، "ہانیہ عامر ایک باصلاحیت اداکارہ ہیں، لیکن بھارتی سیاست ان کے فن کو نشانہ بنا رہی ہے۔ یہ شرم ناک ہے۔”
کیا نیرو باجوہ کو دھمکیاں موصول ہوئیں؟
سوشل میڈیا پر چلنے والی بحث میں کئی صارفین نے دعویٰ کیا کہ نیرو باجوہ کو بھارتی انتہا پسند ہندو گروہوں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں، جنہوں نے پاکستانی اداکارہ کے ساتھ کام کرنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم، نیرو باجوہ یا ان کی ٹیم کی جانب سے اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ نہ ہی فلم کے میکرز نے ان دھمکیوں کی تصدیق یا تردید کی ہے۔
پنجابی فلم انڈسٹری کے ایک تجزیہ کار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاک-بھارت کشیدگی کے باعث پنجابی سنیما پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے، خاص طور پر ایسی فلموں پر جو دونوں ممالک کے فنکاروں کو یکجا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا، "نیرو باجوہ ایک بڑی اسٹار ہیں، اور ان کا یہ اقدام شاید دباؤ کا نتیجہ ہو۔ لیکن اس سے فلم کی عالمی ریلیز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔”
’سردار جی 3‘ کی عالمی ریلیز
’سردار جی 3‘ پنجابی سنیما کی مقبولترین فرنچائز کا حصہ ہے، جس کے پچھلے دو حصوں—’سردار جی‘ (2015) اور ’سردار جی 2‘ (2016)—نے باکس آفس پر ریکارڈ کامیابی حاصل کی تھی۔ اس فلم میں دلجیت دوسانجھ اور نیرو باجوہ کے ساتھ ہانیہ عامر کی شمولیت نے پاکستانی اور عالمی شائقین میں خاصی دلچسپی پیدا کی تھی۔ فلم کی کہانی ایک ہلکے پھلکے رومانوی اور کامیڈی ڈرامے پر مبنی ہے، جو پنجابی ثقافت کو خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔
فلم کے میکرز نے بھارت میں ممکنہ بائیکاٹ سے بچنے کے لیے اسے عالمی مارکیٹ میں ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا۔ کینیڈا، جہاں پنجابی ڈائسپورا کی بڑی تعداد موجود ہے، اس فلم کی سب سے بڑی مارکیٹ سمجھا جا رہا ہے۔ فلم کے ڈسٹری بیوٹرز نے امید ظاہر کی ہے کہ ’سردار جی 3‘ عالمی باکس آفس پر ’جٹ اینڈ جولیٹ 3‘ کی طرح ریکارڈ توڑ کامیابی حاصل کرے گی، جو 2024 میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی پنجابی فلم بن چکی ہے۔
پاک-بھارت فنون کی مشترکہ کوششیں
پاکستان اور بھارت کے فنکاروں نے ماضی میں متعدد بار مشترکہ طور پر کام کیا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں سیاسی تناؤ نے ان مواقع کو محدود کر دیا ہے۔ ہانیہ عامر، جو پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری کی ایک معروف اداکارہ ہیں، نے ’سردار جی 3‘ کے ذریعے پنجابی سنیما میں اپنا ڈیبیو کیا۔ ان کی شمولیت کو پاک-بھارت ثقافتی تعاون کی ایک اہم کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، لیکن حالیہ تنازع نے اس تعاون پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر پاکستانی شائقین نے ہانیہ عامر کی حمایت میں آواز اٹھائی ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "ہانیہ عامر نے اپنی محنت سے پنجابی سنیما میں جگہ بنائی، لیکن بھارتی انتہا پسند ان کے ٹیلنٹ کو قبول نہیں کر سکتے۔” دوسری جانب، بھارتی شائقین نے بھی نیرو باجوہ کے فیصلے پر ملا جلا ردعمل دیا۔ کچھ نے ان کے اقدام کو درست قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے فنون کی آزادی پر حملہ قرار دیا۔
’سردار جی 3‘ کی ریلیز کے موقع پر نیرو باجوہ کا ہانیہ عامر کو ان فالو کرنا اور فلم سے متعلق پوسٹس حذف کرنا ایک غیر متوقع تنازع کا باعث بن گیا ہے۔ اگرچہ یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ اس کی وجہ بھارتی انتہا پسند گروہوں کی دھمکیاں ہیں، لیکن اس کی تصدیق کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔ فلم کے میکرز نے بھارت میں بائیکاٹ کے خطرے سے بچنے کے لیے عالمی مارکیٹ پر توجہ مرکوز کی ہے، اور دلجیت دوسانجھ کی حمایت نے اس فیصلے کو مزید تقویت دی ہے۔
یہ واقعہ پاک-بھارت فنون کے تعاون کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔ کیا فن سیاسی تناؤ سے بالاتر ہو سکتا ہے، یا یہ تنازعات فنکاروں کو تقسیم کرنے کا باعث بنیں گے؟ ’سردار جی 3‘ کی عالمی ریلیز اور اس کے نتیجے میں ہونے والی بحث اس سوال کا جواب دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔





















