پشاور: خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں دریائے سوات میں اچانک آنے والے سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں 16 افراد پانی کی نذر ہوئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق، اب تک 7 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ 3 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔ باقی 6 افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن بدستور جاری ہے۔ اس دلخراش واقعے نے سیاحوں اور مقامی افراد میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، جبکہ حکام نے عوام سے ندی نالوں سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔
واقعے کی تفصیلات
ذرائع کے مطابق، یہ افسوسناک حادثہ اس وقت پیش آیا جب سیالکوٹ کے علاقے ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان سمیت دیگر سیاح دریائے سوات کے کنارے ناشتہ کر رہے تھے۔ صبح تقریباً 8 بجے، بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث دریائے سوات میں پانی کا بہاؤ اچانک تیز ہوا، اور ایک زوردار سیلابی ریلے نے سیاحوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ متاثرہ خاندان سے تعلق رکھنے والے 10 افراد، جن میں ایشال، انفال، میرہ، آئمہ، آئیان، نمرہ، اور شرمین شامل ہیں، اس ریلے کی نذر ہو گئے۔ اس کے علاوہ، سیالکوٹ سے ہی تعلق رکھنے والے عجوہ، عبداللہ، اور روبینہ، اور کراچی سے تعلق رکھنے والے معیز اللہ بھی اس سانحے کا شکار ہوئے۔
ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر جنرل شاہ فہد نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا، "ہمارے 120 سے زائد اہلکار پانی کے تیز بہاؤ کے باوجود پانچ مختلف مقامات پر امدادی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔ اب تک 7 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ 3 افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔” شاہ فہد نے مزید کہا کہ تیز رفتار پانی اور خراب موسم امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیدا کر رہا ہے، لیکن ٹیمیں اپنی پوری صلاحیت سے کام کر رہی ہیں۔
متاثرین اور خاندانی نقصان
اس سانحے کی سب سے دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ مرنے والوں میں سے 10 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے، جو سیالکوٹ کے علاقے ڈسکہ سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک عینی شاہد، عدنان، جو اس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، نے بتایا، "ہم سب دریائے سوات کے کنارے ناشتہ کر رہے تھے۔ اچانک پانی کا ریلا آیا، اور سیکنڈوں میں میری آنکھوں کے سامنے میری فیملی کے 10 افراد، جن میں 4 خواتین اور 6 بچے شامل تھے، بہہ گئے۔” انہوں نے بتایا کہ سیلاب کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ فرار ہونے کا موقع ہی نہ مل سکا۔
سوات کے میئر شاہد علی نے بتایا کہ صبح 8 بجے سیلاب کا الرٹ جاری کیا گیا تھا، لیکن بدقسمتی سے سیاحوں تک یہ معلومات بروقت نہ پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا، "یہ سیاح پنجاب سے آئے تھے اور انہیں مقامی حالات کا زیادہ علم نہ تھا۔ جب تک ہم اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچے، بہت نقصان ہو چکا تھا۔”
ریسکیو آپریشن کی تفصیلات
ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال فیضی نے بتایا کہ امدادی کارروائیاں انگارو ڈھیری، غلیگے، امام ڈھیرائی، اور مینیار سمیت پانچ مختلف مقامات پر جاری ہیں۔ انہوں نے کہا، "امام ڈھیرائی میں 22 افراد پانی میں پھنس گئے تھے، جنہیں ریسکیو اسٹیشن 33 کی ٹیم نے بحفاظت نکال لیا۔” اس کے علاوہ، انگارو ڈھیری سے 3 لاشیں اور غلیگے سے ایک لاش برآمد کی گئی، جبکہ بائی پاس ریلیکس ہوٹل کے قریب 10 افراد کے ڈوبنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ مینیار میں 7 افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں، جہاں ریسکیو اسٹیشنز 44 اور 55 مشترکہ طور پر امدادی سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ پانی کی بلند سطح اور تیز بہاؤ کے باعث سرچ آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ تاہم، پیشہ ور غوطہ خوروں، کشتیوں، اور دیگر جدید تکنیکوں کے ذریعے لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔
حکومتی اقدامات اور فلڈ سیل کا قیام
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اس سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کی ہدایت پر ایک فلڈ سیل قائم کر دیا گیا ہے، جو سیلاب یا دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کام کرے گا۔ ترجمان وزیراعلیٰ نے بتایا کہ شہری کسی بھی ہنگامی صورتحال کی اطلاع یا امداد کے لیے +92 340 9418852 یا 1177 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مون سون کے دوران ندی نالوں، دریاؤں، اور نشیبی علاقوں سے دور رہیں اور ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو متاثرہ علاقوں میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکام کے ساتھ مل کر متاثرین کی ہر ممکن مدد کرے گی۔
چارسدہ میں سیلاب کا الرٹ
دریائے سوات میں خوازہ خیلہ کے مقام پر پانی کا اخراج 77,782 کیوسک تک بڑھ جانے کے باعث چارسدہ میں بھی سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریلیف) کے مطابق، یہ پانی کی مقدار اونچے درجے کے سیلاب کی نشاندہی کرتی ہے۔ چارسدہ میں خیالی کے مقام سے گزرنے والے سیلابی پانی سے نمٹنے کے لیے متعلقہ عملے کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام نے مقامی آبادی سے کہا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور غیر ضروری طور پر دریائے سوات کے قریب نہ جائیں۔
دیر لوئر میں بھی امدادی کارروائیاں
دریائے سوات کے علاوہ، دیر لوئر کے علاقے منڈہ اور خزانہ میں برساتی ندیوں میں پھنسے 5 افراد کو بچانے کے لیے بھی ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ ان افراد میں 2 خواتین، 2 بچے، اور ایک مرد شامل ہیں۔ ریسکیو 1122 اور مقامی فلاحی تنظیموں کی ٹیمیں مشترکہ طور پر انہیں بحفاظت نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مون سون کی شدت اور حفاظتی اپیل
پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) کے مطابق، بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی نم ہوائیں اور مغربی ہواؤں کے اثرات کے باعث خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں، بشمول سوات، دیر، چترال، مانسہرہ، ایبٹ آباد، اور پشاور میں موسلا دھار بارشوں اور تیز ہواؤں کا امکان ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مون سون کے دوران ندیوں اور برساتی نالوں سے دور رہیں، کیونکہ اچانک سیلابی ریلوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ایک دردناک یاد دہانی
یہ سانحہ مون سون کے موسم میں ندیوں اور دریاؤں کی خطرناک نوعیت کی ایک دردناک یاد دہانی ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان میں 2010 اور 2022 کے سیلابوں نے ہزاروں جانیں لیں اور اربوں روپے کا نقصان کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید بارشوں اور سیلابوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے لیے پیشگی تیاری اور حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
ریسکیو حکام اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوام سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ مقامی حکام کے جاری کردہ الرٹس پر عمل کریں اور غیر ضروری خطرات سے بچیں۔ دریائے سوات میں اس سانحے نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ فطرت کی قوتوں کے سامنے احتیاط ہی بہترین حکمت عملی ہے۔





















