سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواستیں منظور، پی ٹی آئی مخصوص نشستوں سے ہاتھ دھو بیٹھی

جبکہ حکومتی اتحاد کو 77 نشستیں مل گئیں، جس سے اسے قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی ہے

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستوں پر ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے 12 جولائی 2024 کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی تمام مخصوص نشستوں سے محروم ہو گئی، جبکہ حکومتی اتحاد کو 77 نشستیں مل گئیں، جس سے اسے قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔ عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کر کے مخصوص نشستوں کی تقسیم کا حتمی فیصلہ کرے۔

فیصلے کی تفصیلات

سپریم کورٹ کے 10 رکنی آئینی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس امین الدین خان نے کی، نے مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستوں کی سماعت مکمل کی۔ بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس عامر فاروق، جسٹس ہاشم کاکڑ، اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔ فیصلہ سات ججز کی اکثریتی رائے سے سنایا گیا، جس میں تمام نظرثانی درخواستیں منظور کر لی گئیں۔

عدالت نے اپنے چار صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ 12 جولائی 2024 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے، اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں پی ٹی آئی سے قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی اسمبلیوں کی 55 مخصوص نشستیں واپس لے لی گئیں، جو اب حکومتی اتحاد کو تفویض کی جائیں گی۔

حکومتی اتحاد کو دو تہائی اکثریت

اس فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کو دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔ 336 اراکین پر مشتمل ایوان میں دو تہائی اکثریت کے لیے 224 اراکین کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اب حکومتی اتحاد کے پاس 237 اراکین کی حمایت موجود ہے۔ یہ اضافی نشستیں حکومتی اتحاد کی پارلیمانی طاقت کو مزید مستحکم کریں گی اور قانون سازی کے عمل میں اسے نمایاں برتری فراہم کریں گی۔

ججز کے اختلافی نوٹس اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری

جسٹس جمال مندوخیل نے اپنی رائے کو 39 نشستوں تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا، جبکہ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی نے مشروط طور پر نظرثانی درخواستیں منظور کیں۔ دونوں ججز نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ مخصوص نشستوں کی تقسیم کا معاملہ الیکشن کمیشن کے سپرد کیا جاتا ہے۔ الیکشن کمیشن کو ہدایت دی گئی کہ وہ تمام متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے کہ کس سیاسی جماعت کی کتنی نشستیں بنتی ہیں۔

بینچ کی تشکیل اور تنازعات

ابتدائی طور پر اس کیس کی سماعت کے لیے 13 رکنی آئینی بینچ تشکیل دیا گیا تھا، لیکن بعد میں یہ 11 رکنی اور پھر 10 رکنی بینچ تک محدود ہو گیا۔ جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نے ابتدائی سماعت کے دوران ہی نظرثانی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ اس کے علاوہ، جسٹس صلاح الدین پنہور نے سماعت کے دوران بینچ سے علیحدگی اختیار کر لی۔

جسٹس صلاح الدین نے ریمارکس دیے کہ ان کی شمولیت پر اعتراضات اٹھائے گئے، جن سے عدالت کے وقار کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا، "میں 2010 سے وکلا کے ساتھ پیشہ ورانہ تعلق رکھتا ہوں، لیکن اعتراضات کے انداز نے ادارے کی ساکھ کو چیلنج کیا۔ اس لیے میں ادارے کے وقار کے تحفظ کے لیے بینچ سے الگ ہو رہا ہوں۔” انہوں نے واضح کیا کہ ان کا یہ فیصلہ کسی اعتراض کے اعتراف کے طور پر نہ لیا جائے۔

سماعت کے دوران تنازع

سماعت کے دوران ایڈووکیٹ حامد خان کی جانب سے پیش کردہ دلائل پر تنازع پیدا ہوا۔ جسٹس امین الدین خان نے حامد خان کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے رویے کی وجہ سے بینچ کی کارروائی متاثر ہوئی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے بھی ریمارکس دیے کہ ایک ہی پارٹی سے دو وکلا کی دلائل دیتے ہوئے شمولیت غیر معمولی ہے، لیکن عدالت نے رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں موقع دیا۔

جسٹس صلاح الدین نے مزید کہا کہ وکلا کے دلائل سے انہیں ذاتی طور پر تکلیف ہوئی، کیونکہ ان پر جانبداری کا الزام لگایا گیا۔ انہوں نے کہا، "عوام میں یہ تاثر دینا کہ جج جانبدار ہے، ناقابل قبول ہے۔ عدالت کا وقار سب سے مقدم ہے۔” ایڈووکیٹ حامد خان نے اپنے دفاع میں کہا کہ وہ نظرثانی درخواستوں پر دلائل دینے کے حقدار ہیں، لیکن عدالت نے ان کے موقف کو مسترد کر دیا۔

سیاسی اثرات

اس فیصلے سے پاکستان تحریک انصاف کو بڑا دھچکا لگا ہے، کیونکہ مخصوص نشستوں سے محرومی سے اس کی پارلیمانی طاقت نمایاں طور پر کم ہو جائے گی۔ دوسری جانب، حکومتی اتحاد کی پوزیشن مضبوط ہونے سے قانون سازی اور سیاسی استحکام کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ موجودہ سیاسی منظرنامے میں اہم تبدیلیاں لا سکتا ہے، خاص طور پر آئندہ قانون سازی کے حوالے سے۔

الیکشن کمیشن اب اس فیصلے کی روشنی میں مخصوص نشستوں کی تقسیم کا حتمی شیڈول تیار کرے گا۔ ذرائع کے مطابق، اس عمل میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں، کیونکہ الیکشن کمیشن کو تمام سیاسی جماعتوں کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرنی ہوگی۔

عوامی اور سیاسی ردعمل

فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر عوام اور سیاسی کارکنوں کی جانب سے ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے حامیوں نے اس فیصلے کو جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ قرار دیا، جبکہ حکومتی اتحاد کے رہنماؤں نے اسے عدالتی انصاف کی فتح قرار دیا۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، "یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے لیے بڑا دھچکا ہے، لیکن جمہوریت کے لیے عدالتی فیصلے ہمیشہ اہم ہوتے ہیں۔”

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔ پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں سے محرومی اور حکومتی اتحاد کی دو تہائی اکثریت نے پارلیمانی توازن کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی تقسیم کے بعد سیاسی منظرنامہ مزید واضح ہوگا۔ فی الحال، یہ فیصلہ عدالتی استقلالیت اور سیاسی استحکام کے درمیان ایک نازک توازن کی عکاسی کرتا ہے، جو آنے والے دنوں میں ملکی سیاست کی سمت متعین کرے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین