اسلام آباد: حکومت پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدے کے تحت مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے گیس کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے جمعہ کے روز ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی۔ اس اقدام سے مالی سال 2025-26 کے لیے 888 ارب 60 کروڑ روپے کی آمدنی کی ضرورت پوری ہوگی، جبکہ غیر گھریلو صارفین کے لیے 29 فیصد اضافے سے 72 ارب روپے کی اضافی آمدن متوقع ہے۔
گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تفصیلات
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ سمری کی روشنی میں ای سی سی نے یکم جولائی 2025 سے گیس کی نئی قیمتوں کی منظوری دی۔ گھریلو صارفین کے لیے مقررہ چارجز میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا، جبکہ غیر گھریلو صارفین، بشمول بجلی کے شعبے اور صنعتی صارفین، کے لیے اوسطاً 10 سے 29 فیصد تک اضافہ کیا گیا۔
محفوظ گھریلو صارفین مقررہ چارجز 400 روپے سے بڑھا کر 600 روپے فی ماہ کر دیے گئے۔
غیر محفوظ گھریلو صارفین، مقررہ چارجز 1,000 روپے سے بڑھا کر 1,500 روپے فی ماہ کر دیے گئے۔
بلک صارفین، گیس کے نرخ 9.5 فیصد اضافے کے ساتھ 2,900 روپے سے 3,175 روپے فی ملین برٹش رمل یونٹ کر دیے گئے۔
بجلی کا شعبہ گیس کی قیمتوں میں 29 فیصد اضافہ کیا گیا، جو 1,050 روپے سے بڑھ کر 1,350 روپے فی ہوگئی۔ اس سے بجلی کے اوسط نرخ پر فی یونٹ 0.12 روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
صنعتی (صارفین، نرخ 9.3 فیصد اضافے کے ساتھ 2,150 روپے سے 2,350 روپے فی مقرر کیے گئے۔
ای سی سی نے گھریلو صارفین کے لیے ایک سلیب فائدہ بھی ختم کر دیا، جس کے تحت اب ہر زمرے کے صارفین سے پہلی شرح کے مطابق چارجز وصول کیے جائیں گے۔ وزارت خزانہ کے مطابق، یہ فیصلہ اوگرا قانون کے تحت لاگت کی ریکوری اور ریگولیٹری تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا۔ یہ اقدام آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ ساختی اہداف سے بھی ہم آہنگ ہے، جن میں کراس سبسڈی کا خاتمہ اور کم آمدنی والے صارفین کے لیے براہ راست امداد شامل ہے۔
مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوشش
پیٹرولیم ڈویژن نے خبردار کیا تھا کہ موجودہ گیس قیمتوں کی بنیاد پر مالی سال 2026 کے اختتام تک دونوں سوئی کمپنیوں—سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی)—کو 41 ارب روپے کا خسارہ متوقع تھا۔ ایس این جی پی ایل کے لیے 493 ارب 54 کروڑ روپے اور ایس ایس جی سی کے لیے 354 ارب 18 کروڑ روپے کی آمدنی کی توقع تھی، جو اوگرا کے مقرر کردہ ہدف 888 ارب 60 کروڑ روپے سے کم تھی۔ ای سی سی کے فیصلے سے اس خسارے کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جس میں ایس این جی پی ایل کے لیے 534 ارب 46 کروڑ روپے اور ایس ایس جی سی کے لیے 354 ارب 20 کروڑ روپے کی آمدنی شامل ہے۔
وزارت خزانہ نے واضح کیا کہ گھریلو صارفین پر اضافی بوجھ کم کرنے کے لیے صرف مقررہ چارجز میں اضافہ کیا گیا، جبکہ بڑے صارفین، بجلی کے شعبے، اور صنعتی شعبے پر اضافی لاگت منتقل کی گئی۔ یہ فیصلہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے مطابق کراس سبسڈی کے خاتمے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے براہ راست امداد کے عزم کا حصہ ہے۔
چینی کی درآمد پر فیصلہ موخر
ای سی سی کے اجلاس میں چینی کی درآمد کے معاملے پر بھی غور کیا گیا تاکہ مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کو مستحکم کیا جا سکے۔ تاہم، کمیٹی اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہ کر سکی اور اسے مزید جائزے کے لیے ایک 10 رکنی اسٹیئرنگ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ یہ کمیٹی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سربراہی میں کام کرے گی اور اس میں وزیر تجارت، معاون خصوصی برائے خارجہ امور، سیکریٹری خزانہ، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، اور دیگر اہم حکام شامل ہوں گے۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی سفارشات جلد از جلد ای سی سی کو پیش کرے۔
دیگر اہم فیصلے
ای سی سی نے اجلاس میں 856 ارب روپے کی 14 ضمنی گرانٹس کی منظوری دی، جن میں سے اہم درج ذیل ہیں
وزارت خزانہ، قرض کی واپسی کے لیے 832 ارب روپے کی گرانٹ۔
وزارت دفاع، ملازمین کی تنخواہوں، واجبات، اور حالیہ پاک-بھارت جھڑپوں میں شہید ہونے والوں کے لیے وزیراعظم کے اعلان کردہ پیکیج کے تحت ادائیگیوں کے لیے 15 ارب 84 کروڑ روپے۔
اسٹریٹجک پلانز ڈویژن سپارکو کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے کی گرانٹ۔
اس کے علاوہ، ای سی سی نے چھوٹے کسانوں اور پسماندہ علاقوں کے لیے ایک رسک کور اسکیم کے اجرا کی اصولی منظوری دی۔ یہ اسکیم 7 لاکھ 50 ہزار نئے زرعی قرض دہندگان کو رسمی مالیاتی نظام سے جوڑے گی اور تین سال میں 300 ارب روپے کے اضافی قرضوں کا باعث بنے گی۔
اجلاس میں ترسیلات زر کی ترغیبی اسکیموں میں مجوزہ تبدیلیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ای سی سی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارت خزانہ کو ہدایت دی کہ وہ 31 جولائی 2025 تک اس حوالے سے ایک جامع منصوبہ پیش کریں۔
عوامی اور معاشی اثرات
گیس کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافے سے گھریلو اور صنعتی صارفین پر مالی بوجھ بڑھے گا، جو پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دباؤ سے دوچار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کے تحت ناگزیر تھا، لیکن اس سے عوام کی قوت خرید اور صنعتی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بجلی کے نرخ میں اضافے سے صارفین کے لیے بجلی کے بلوں میں بھی اضافہ ہوگا، جو معاشی مشکلات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
دوسری جانب، حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ مالیاتی خسارے کو کم کرنے اور توانائی کے شعبے کی پائیداری کے لیے ضروری تھا۔ وزارت خزانہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کم آمدنی والے صارفین کو بی آئی ایس پی کے ذریعے براہ راست امداد فراہم کی جائے گی تاکہ ان پر اضافی بوجھ کم کیا جا سکے۔





















