دبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ایک روزہ (ون ڈے) اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ فارمیٹس میں وائیڈ بال کے قانون میں ایک اہم تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد بیٹرز کے جگہ بدلنے کے رجحان کے باعث بولرز کو درپیش مشکلات کو کم کرنا ہے۔ اس نئے قانون کا تجرباتی اطلاق (ٹرائل) جلد شروع کیا جائے گا، جو بولرز کو وائیڈ بال کے فیصلوں میں زیادہ منصفانہ مواقع فراہم کرے گا۔ آئی سی سی کے مطابق، یہ تبدیلی امپائرز کے لیے وائیڈ بال کا تعین کرنے کے ریفرنس پوائنٹ کو واضح کرے گی، جو بیٹر کی پوزیشن پر مبنی ہوگا۔
وائیڈ بال قانون میں تبدیلی کی تفصیلات
آئی سی سی کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، نئے قانون کے تحت وائیڈ بال کا فیصلہ بیٹر کی اس پوزیشن کی بنیاد پر کیا جائے گا جو وہ گیند پھینکنے سے عین قبل اختیار کرتا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ بیٹر بعد میں آف سائیڈ یا کسی اور سمت میں حرکت کر جائے، امپائر اس کی ابتدائی پوزیشن کو وائیڈ کے فیصلے کے لیے ریفرنس پوائنٹ کے طور پر استعمال کرے گا۔
اس تبدیلی کا بنیادی مقصد بیٹرز کے جگہ بدلنے (سوئچنگ) کی حکمت عملی سے پیدا ہونے والی وائیڈ بالز کی تعداد کو کم کرنا ہے، جو حالیہ برسوں میں خاص طور پر ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ آئی سی سی نے واضح کیا کہ اس ٹرائل کے دوران، اگر گیند پوپنگ کریز سے گزرتے وقت لیگ اسٹمپ اور پروٹیکٹڈ ایریا مارکر لائن کے درمیان ہو، تو اسے وائیڈ قرار نہیں دیا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے، پروٹیکٹڈ ایریا مارکر لائن کو پوپنگ کریز تک توسیع دی جائے گی تاکہ امپائرز کو وائیڈ بال کے فیصلے میں رہنمائی مل سکے۔ عملی طور پر، اس کا مطلب یہ ہے کہ بیٹر گیند پھینکنے کے وقت جہاں کھڑا ہوگا، اس پوزیشن سے وائیڈ کا تعین کیا جائے گا، خاص طور پر لیگ سائیڈ پر۔
نئے قانون کا عملی اطلاق
نئے قانون کے تحت، اگر گیند لیگ اسٹمپ سے دور پھینکی جاتی ہے لیکن پروٹیکٹڈ ایریا مارکر لائن کے اندر رہتی ہے (جو پچ پر وائیڈ کے عمومی نشانات اور لیگ اسٹمپ کے درمیان واقع ہوتی ہے)، تو اسے وائیڈ قرار نہیں دیا جائے گا، بشرطیکہ یہ لیگ اسٹمپ کی سمت میں ہو۔ اس سے بولرز کو اس وقت سہولت ملے گی جب بیٹر اپنی پوزیشن تبدیل کر کے وائیڈ بالز کے امکانات بڑھاتا ہے۔
مثال کے طور پر، اگر بیٹر گیند پھینکنے سے قبل لیگ سائیڈ پر کھڑا ہوتا ہے اور پھر آف سائیڈ کی طرف حرکت کر جاتا ہے، تو امپائر اس کی ابتدائی پوزیشن (لیگ سائیڈ) کو وائیڈ کے فیصلے کے لیے استعمال کرے گا۔ اس طرح، بولر کو غیر ضروری وائیڈز سے بچنے میں مدد ملے گی، جو اکثر بیٹرز کی حکمت عملی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
تبدیلی کا پس منظر اور ضرورت
آئی سی سی کے مطابق، حالیہ برسوں میں بیٹرز کی جگہ بدلنے کی حکمت عملی، خاص طور پر ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں، بولرز کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔ بیٹرز اپنی پوزیشن تبدیل کر کے بولرز کو دباؤ میں لاتے ہیں، جس سے وائیڈ بالز کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس رجحان نے کھیل کے توازن کو متاثر کیا ہے، کیونکہ بولرز کو غیر منصفانہ طور پر اضافی رنز دینے پڑتے ہیں۔
نئے قانون کا مقصد کھیل میں انصاف کو یقینی بنانا اور بولرز کو بیٹرز کی ایسی حکمت عملیوں سے مقابلہ کرنے کا موقع دینا ہے۔ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی تجرباتی طور پر متعارف کرائی جا رہی ہے، اور اس کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد اسے مستقل قانون کا حصہ بنانے پر غور کیا جائے گا۔
کرکٹ کمیونٹی کا ردعمل
اس اعلان کے بعد کرکٹ کے شائقین اور ماہرین کی جانب سے ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ ماہرین نے اس تبدیلی کو بولرز کے لیے ایک مثبت اقدام قرار دیا، جو حالیہ برسوں میں بیٹرز کی جارحانہ حکمت عملیوں کے سامنے مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، "آئی سی سی کا یہ فیصلہ بولرز کے لیے ایک بڑی راحت ہے۔ بیٹرز کی جگہ بدلنے کی حکمت عملی نے کھیل کا توازن خراب کر دیا تھا۔”
دوسری جانب، کچھ شائقین نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ تبدیلی بیٹرز کی آزادی کو محدود کر سکتی ہے اور کھیل کی جارحانہ نوعیت کو متاثر کرے گی۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا، "بیٹرز کی جگہ بدلنے کی حکمت عملی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی دلکشی کا حصہ ہے۔ اسے محدود کرنا کھیل کے جوش کو کم کر سکتا ہے۔”
ٹرائل کا دائرہ کار اور مستقبل
آئی سی سی نے واضح کیا کہ یہ تبدیلی فی الحال تجرباتی بنیادوں پر متعارف کی جا رہی ہے اور اس کا اطلاق محدود ایونٹس یا لیگز میں کیا جائے گا۔ ٹرائل کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ آیا اسے مستقل قانون کا حصہ بنایا جائے یا اس میں مزید ترامیم کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی خاص طور پر ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کھیل کے توازن کو بہتر بنانے میں مدد دے گی، جہاں بولرز کو اکثر بیٹرز کی جارحانہ حکمت عملیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، پروٹیکٹڈ ایریا مارکر لائن کی توسیع امپائرز کے لیے فیصلے آسان بنائے گی، جس سے وائیڈ بال کے تنازعات میں کمی متوقع ہے۔
آئی سی سی کا وائیڈ بال قانون میں تبدیلی کا فیصلہ کرکٹ کے جدید دور میں کھیل کے توازن کو برقرار رکھنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ بولرز کو بیٹرز کی جگہ بدلنے کی حکمت عملی سے نمٹنے کے لیے زیادہ منصفانہ مواقع دینے سے کھیل کی دلکشی اور مقابلے کی روح برقرار رہ سکتی ہے۔ یہ تجرباتی تبدیلی کرکٹ کی دنیا میں ایک نئی بحث کا آغاز کرے گی کہ آیا یہ کھیل کے جوش و جذبے کو بڑھاتی ہے یا اس کی جارحانہ نوعیت کو محدود کرتی ہے۔ آئندہ چند ماہ میں اس ٹرائل کے نتائج سے اس کی کامیابی کا اندازہ ہوگا، جو کرکٹ کے قوانین کی ترقی میں ایک نیا باب رقم کرے گا۔





















