دبئی :دنیا کے سب سے بڑے شاپنگ مال دبئی مال میں ایک انتہائی غیر معمولی واقعہ پیش آیا جب دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم نے ایک فرانسیسی ریستوران میں موجود تمام افراد کے کھانے کا بل اپنی جیب سے ادا کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شیخ حمدان اپنے ہم منصب ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کے ہمراہ بغیر کسی پروٹوکول کے دبئی مال کے ایک مشہور فرانسیسی ریستوران میں داخل ہوئے۔
دونوں ولی عہد نے نہایت سادگی اور وقار کے ساتھ ریستوران میں موجود دیگر مہمانوں کو سلام کیا اور پرسکون ماحول میں اپنا کھانا تناول کیا۔ کھانے کے دوران انہوں نے نہ صرف اپنے کھانے کا بل ادا کیا بلکہ ریستوران میں موجود تمام مہمانوں کے بل کی ادائیگی بھی خاموشی سے کردی۔ بتایا گیا ہے کہ مہمانوں کے کھانوں کا مجموعی بل 30 ہزار اماراتی درہم تھا، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 23 لاکھ روپے کے لگ بھگ بنتا ہے۔
جب کھانے کے بعد مہمانوں نے اپنے بل مانگے تو ریستوران انتظامیہ نے انہیں مطلع کیا کہ شیخ حمدان اور شیخ خالد نے پہلے ہی سب کے بل ادا کر دیے ہیں۔ اس غیر متوقع اور فیاضانہ عمل نے ریستوران میں موجود تمام افراد کو حیرت اور خوشی سے دوچار کردیا۔
ریستوران انتظامیہ نے اس واقعے کو ایک اعزاز اور فخر کا لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ولی عہد نہایت سادگی، عاجزی اور وقار کے ساتھ پیش آئے۔ ان کی سخاوت اور شائستگی نے نہ صرف ریستوران کے عملے بلکہ وہاں موجود تمام مہمانوں پر گہرا اثر چھوڑا۔ انتظامیہ نے مزید کہا کہ شیخ حمدان اور شیخ خالد کی اس فیاضی نے دبئی کی روایتی مہمان نوازی اور اماراتی ثقافت کی عکاسی کی، جو ہمیشہ سے اپنی سخاوت اور گرمجوشی کے لیے مشہور ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہوا، جہاں لوگوں نے دونوں ولی عہد کی سادگی اور ان کے اس فیاضانہ عمل کی بھرپور تعریف کی۔ ایک صارف نے لکھا، "یہ ہے اصل اماراتی ثقافت، جہاں سادگی اور سخاوت ایک ساتھ چلتی ہے۔” ایک اور صارف نے کہا، "شیخ حمدان اور شیخ خالد نے اپنے اس عمل سے ثابت کیا کہ عظیم لیڈر ہمیشہ دوسروں کے لیے سوچتے ہیں۔”
یہ واقعہ نہ صرف دبئی مال کے اس فرانسیسی ریستوران کے لیے ایک یادگار لمحہ بن گیا بلکہ اس نے دبئی اور متحدہ عرب امارات کی روایتی مہمان نوازی اور فیاضی کو ایک بار پھر عالمی سطح پر اجاگر کیا۔
شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم دبئی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی ایک معروف و مقبول شخصیت ہیں، جنہیں دنیا بھر میں فزّاع (Fazza) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ 14 نومبر 1982 کو دبئی میں پیدا ہوئے اور ان کے والد شیخ محمد بن راشد المکتوم متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیرِ اعظم اور دبئی کے حکمران ہیں۔ شیخ حمدان نے ابتدائی تعلیم دبئی میں حاصل کی، بعد ازاں برطانیہ کی مشہور رائل ملٹری اکیڈمی سینڈ ہرسٹ سے فارغ التحصیل ہوئے اور لندن اسکول آف اکنامکس سمیت دیگر اداروں سے حکومت و معیشت کی تعلیم حاصل کی۔
شیخ حمدان نے 2008 میں دبئی کے ولی عہد کا منصب سنبھالا اور جلد ہی خود کو ایک جدید، متحرک اور وژنری رہنما کے طور پر منوایا۔ وہ دبئی کی جدید ترقی، ڈیجیٹل انقلابی اقدامات، نوجوانوں کی فلاح و بہبود، اور تعلیم کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں انہوں نے دبئی میں مصنوعی ذہانت، ای-گورننس اور سمارٹ سٹی منصوبوں کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 2024 میں انہیں متحدہ عرب امارات کا وفاقی نائب وزیر اعظم اور وزیرِ دفاع بھی مقرر کیا گیا، جو ان کے اثر و رسوخ کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
شیخ حمدان نہ صرف ایک سیاسی اور انتظامی رہنما ہیں بلکہ ان کی شخصیت کا ادبی اور کھیلوں سے تعلق بھی نہایت مضبوط ہے۔ وہ "فزّاع” کے نام سے عربی شاعری میں مقبول ہیں، اور ان کی نظموں میں عشق، حب الوطنی اور فطرت سے محبت جیسے موضوعات شامل ہوتے ہیں۔ گھڑسواری ان کا شوق ہی نہیں بلکہ ان کی شناخت بھی ہے، اور وہ عالمی سطح پر انعام یافتہ گھڑ سوار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ورلڈ ایکوئسٹرین گیمز میں متحدہ عرب امارات کی نمائندگی کرتے ہوئے طلائی تمغے حاصل کیے ہیں۔
اپنے عوامی رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے شیخ حمدان سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ ان کے انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر لاکھوں مداح موجود ہیں جہاں وہ اپنی زندگی، مشاغل اور سرکاری مصروفیات کو عوام کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ انہوں نے 2019 میں شیخہ شیخہ بنت سعید بن ثانی المکتوم سے شادی کی، اور اب ان کے چار بچے ہیں۔ ان کی شخصیت میں روایتی عرب اقدار اور جدید عالمی بصیرت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے، جو انہیں نہ صرف امارات بلکہ دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے ایک مثالی رہنما بناتا ہے۔





















