انڈونیشیا میں تعینات بھارتی دفاعی اتاشی کیپٹن شیو کمار نے ایک چونکا دینے والے انکشاف میں تسلیم کیا ہے کہ 7 مئی 2025 کو پاک فضائیہ کے ساتھ فضائی معرکے کے دوران بھارتی فضائیہ کے جنگی طیارے تباہ ہوئے تھے۔ یہ اعتراف اس وقت سامنے آیا جب کیپٹن شیو کمار جکارتہ میں ایک دفاعی سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ بھارتی ویب سائٹ ’دی وائر‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، انہوں نے واضح کیا کہ یہ نقصانات مودی حکومت کی جانب سے فوج کو پاکستانی فوجی تنصیبات پر حملوں سے روکنے کی پابندیوں کی وجہ سے ہوئے۔
بھارتی اتاشی کا بیان اور اس کی تفصیلات
کیپٹن شیو کمار نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاک فضائیہ کے ساتھ ہونے والی اس جھڑپ میں بھارتی فضائیہ کو نقصانات اٹھانا پڑے، لیکن انہوں نے تباہ ہونے والے طیاروں کی صحیح تعداد بتانے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم نے کچھ طیاروں کا نقصان ضرور برداشت کیا، لیکن یہ نقصانات اس لیے ہوئے کیونکہ سیاسی قیادت نے فوج کو پاکستانی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے سے منع کیا تھا۔” انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی فضائیہ نے پاکستانی فضائی دفاعی نظام کو غیر فعال کرنے کے بعد براہموس میزائلوں کے ذریعے حملے کیے، لیکن سیاسی پابندیوں نے ان کی حکمت عملی کو محدود کر دیا۔
انڈونیشیا میں بھارتی سفارتخانے نے اس بیان کو تنقیدی سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے وضاحت جاری کی۔ سفارتخانے کے مطابق، کیپٹن شیو کمار کا بیان بھارتی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور اس کے سویلین سیاسی قیادت کے تحت کام کرنے کے تناظر میں تھا، نہ کہ کسی ناکامی کے اعتراف کے طور پر۔ تاہم، اس وضاحت کے باوجود انکشاف نے بھارت میں سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔
پاکستانی دعوے اور فضائی جھڑپ کی شدت
یاد رہے کہ پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ مئی 2025 میں ہونے والی پانچ روزہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران پاک فضائیہ نے بھارت کے چھ جنگی طیاروں کو مار گرایا، جن میں فرانس سے حاصل کردہ جدید رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ پاکستانی فضائیہ کے ترجمان ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ یہ جھڑپ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس میں پاک فضائیہ نے امریکی ایف-16 اور چینی ساختہ جے-10 سی طیاروں کا استعمال کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کے 60 طیاروں کا مقابلہ کیا، جن میں 14 رافیل طیارے شامل تھے۔
پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس نے بھارتی حملوں کا موثر جواب دیا اور اپنی فضائی حدود کی حفاظت کرتے ہوئے بھارتی طیاروں کو نمایاں نقصان پہنچایا۔ پاکستانی حکام کے مطابق، انہوں نے بھارتی ڈرونز اور میزائلوں کو بھی روکا، جبکہ ان کے اپنے ایک طیارے کو معمولی نقصان پہنچا۔
بھارتی اپوزیشن کا ردعمل
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے کیپٹن شیو کمار کے بیان کو ہتھیار بنا کر مودی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکرٹری جیرام رمیش نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ مودی حکومت نے قوم سے حقائق کو چھپانے کی کوشش کی اور اس ناکامی کی ذمہ داری سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیراعظم نرندر مودی تمام جماعتوں کے اجلاس کی صدارت کرنے اور اپوزیشن کو اعتماد میں لینے سے کیوں گریز کر رہے ہیں۔
کانگریس کے ترجمان پون کھیرا نے بھی اسی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے ’آپریشن سندور‘ کے دوران طیاروں کے نقصانات کو چھپا کر قوم کو گمراہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ انکشافات وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں اور حکومت اپوزیشن کی جانب سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کے مطالبے سے خوفزدہ ہے۔
تنازع کا پس منظر
یہ فضائی جھڑپ 7 مئی 2025 کو اس وقت شروع ہوئی جب بھارت نے ’آپریشن سندور‘ کے نام سے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نو مبینہ دہشت گرد اہداف پر میزائل حملے کیے۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے 22 اپریل 2025 کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کے پہلگام میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے جواب میں کیے گئے، جسے بھارت نے پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گردی قرار دیا۔ پاکستان نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ بھارتی حملوں میں شہری علاقوں، بشمول مساجد، کو نشانہ بنایا گیا، جس سے شہری ہلاکتیں ہوئیں۔
اس کے جواب میں پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کے ساتھ شدید جھڑپ کی اور دعویٰ کیا کہ اس نے بھارتی طیاروں کو مار گرایا۔ 10 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہوا، لیکن دونوں اطراف سے متضاد دعووں نے تنازع کو ہوا دی۔
عالمی ردعمل اور تجزیہ
عالمی ماہرین نے اس جھڑپ کو پاک-بھارت تعلقات میں ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔ الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے برطانوی دفاعی تجزیہ کار مائیکل کلارک نے کہا کہ اگر بھارت نے واقعی رافیل طیارے کھوئے ہیں، تو یہ بھارتی فضائیہ کے لیے شرمندگی کا باعث ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اس نقصان کو زیادہ سے زیادہ عرصے تک افواہ کی شکل میں رکھنا چاہے گا۔
ریوٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، دو امریکی حکام نے تصدیق کی کہ پاک فضائیہ نے چینی ساختہ جے-10 طیاروں اور پی ایل-15 میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے کم از کم دو بھارتی طیاروں کو مار گرایا۔ یہ واقعہ چینی جنگی ٹیکنالوجی کے لیے ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ پہلا موقع ہے کہ چینی ساختہ طیاروں نے مغربی ٹیکنالوجی کے حامل جنگی طیاروں کو نشانہ بنایا۔
بھارتی دفاعی اتاشی کے اعتراف نے پاک-بھارت فضائی جھڑپ کے بارے میں نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ کیپٹن شیو کمار کے بیان نے نہ صرف بھارتی فضائیہ کے نقصانات کی تصدیق کی بلکہ مودی حکومت کی پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ پاکستانی دعووں اور بھارتی بیانات کے درمیان متضاد بیانیے نے اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کانگریس کی جانب سے خصوصی پارلیمانی اجلاس کے مطالبے نے بھارت میں سیاسی تناؤ کو بڑھا دیا ہے، جبکہ عالمی برادری اس علاقائی کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور فوجی حکمت عملیوں کے بارے میں نئی بحث کا آغاز کر سکتا ہے، جبکہ جنگ بندی کے باوجود مستقبل میں مزید تصادم کے خدشات بدستور موجود ہیں۔





















