اسلام آباد: مہنگائی کے بوجھ تلے دبے پاکستانی عوام کے لیے ایک اور معاشی دھچکے کی تیاری ہو رہی ہے، کیونکہ یکم جولائی 2025 سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق، اگلے 15 روز کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 11 روپے اور 15 روپے فی لیٹر تک اضافہ متوقع ہے۔ یہ فیصلہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کی تفصیلات
پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع نے بتایا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) آج شام تک پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں سے متعلق سمری وزارت پیٹرولیم کو ارسال کرے گی۔ اس سمری کی روشنی میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب وزیراعظم شہباز شریف سے مشاورت کے بعد نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان کریں گے، جو آج رات متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق، ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے، جو زراعت، ٹرانسپورٹ، اور صنعتی شعبوں پر براہ راست اثر انداز ہوگا۔ اسی طرح، پیٹرول کی قیمت میں 11 روپے فی لیٹر اضافے کی توقع ہے، جو گاڑیوں کے مالکان اور روزمرہ سفر کرنے والے شہریوں کے لیے مالی بوجھ میں اضافے کا باعث بنے گا۔
اضافے کی وجوہات
ماہرین کے مطابق، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ متوقع اضافہ دو اہم عوامل کا نتیجہ ہے:
حالیہ ہفتوں میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو عالمی سطح پر توانائی کی طلب اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کی وجہ سے ہے۔
پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں حالیہ دنوں میں مسلسل دباؤ کا شکار ہے، جس سے درآمد شدہ تیل کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔
ان عوامل نے مل کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی راہ ہموار کی ہے، جو ملکی معیشت اور عوام کے لیے ایک نیا چیلنج پیش کر رہا ہے۔
عوام اور معیشت پر اثرات
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف روزمرہ اخراجات میں اضافہ ہوگا بلکہ اس کے اثرات مختلف شعبوں پر بھی پڑیں گے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے، جو پہلے ہی مہنگائی سے متاثرہ عوام کے لیے ایک نیا بوجھ ہوگا۔ زرعی شعبے میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے کسانوں کے لیے لاگت میں اضافہ ہوگا، جو خوراک کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ اضافہ صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت کو بھی بڑھا سکتا ہے، جس سے ملکی برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک معاشی تجزیہ کار نے کہا، "پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے، کیونکہ یہ توانائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کے لیے متبادل اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔”
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، "مہنگائی پہلے ہی آسمان چھو رہی ہے، اور اب پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ؟ یہ عوام کے ساتھ ظلم ہے۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "حکومت کو چاہیے کہ وہ روپے کی قدر مستحکم کرنے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرے، ورنہ عوام کا جینا مشکل ہو جائے گا۔”
کچھ صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پیٹرولیم لیوی کو کم کر کے عوام کو ریلیف فراہم کرے۔ ایک صارف نے لکھا، "جب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کا فائدہ عوام کو نہیں ملتا، لیکن جیسے ہی قیمتیں بڑھتی ہیں، اس کا بوجھ فوراً عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔”
حکومتی اقدامات اور چیلنجز
حکومت پہلے ہی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت سخت معاشی اصلاحات پر عمل کر رہی ہے، جس میں توانائی کے شعبے میں سبسڈیز کو کم کرنا شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ آئی ایم ایف کے مطالبات کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن اس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
حکومتی ذرائع نے بتایا کہ وزیر خزانہ اور وزیراعظم اس اضافے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں، لیکن عالمی مارکیٹ کے دباؤ اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث ان کے پاس اختیارات محدود ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متوقع اضافہ پاکستانی عوام کے لیے ایک نیا معاشی چیلنج لے کر آیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 11 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے سے نہ صرف روزمرہ اخراجات بڑھیں گے بلکہ معیشت کے دیگر شعبوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی اس اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے متبادل پالیسیوں پر غور کرے، جیسے کہ پیٹرولیم لیوی میں کمی یا کم آمدنی والے طبقات کے لیے سبسڈی پروگرامز کا آغاز۔ آج رات نئی قیمتوں کے اعلان کے بعد اس فیصلے کے اثرات مزید واضح ہوں گے، لیکن فی الحال یہ عوام کے لیے ایک مشکل معاشی لمحہ ہے۔





















