واشنگٹن: 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد شروع ہونے والی امریکی جنگوں نے مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا، اور افریقی خطوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ ایک امریکی یونیورسٹی کی تازہ تحقیق کے مطابق، ان جنگوں پر اب تک 58 کھرب ڈالر سے زائد خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ انسانی جانوں کا نقصان ناقابل تلافی ہے۔ یہ جنگیں نہ صرف مالیاتی بوجھ کا باعث بنیں بلکہ لاکھوں افراد کی ہلاکت اور کروڑوں کی بے گھری کا سبب بھی بنیں۔
ہلاکتوں کا ہولناک حجم
براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ کے "کوسٹس آف وار” پراجیکٹ کی رپورٹ کے مطابق، 2001 سے 2023 تک امریکی زیرقیادت جنگوں میں تقریباً 9 لاکھ 40 ہزار افراد براہ راست تشدد کا شکار ہو کر ہلاک ہوئے۔ ان میں امریکی فوجی، کنٹریکٹرز، اتحادی افواج کے اہلکار، صحافی، امدادی کارکن، اور عام شہری شامل ہیں۔ تاہم، یہ اعدادوشمار صرف براہ راست ہلاکتوں تک محدود نہیں۔ اگر بالواسطہ اثرات—جیسے کہ خوراک کی کمی، ادویات کی قلت، اور جنگ سے متعلقہ بیماریوں—کو شامل کیا جائے تو ہلاکتوں کی تعداد 45 سے 47 لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ بالواسطہ اموات بنیادی ڈھانچے کی تباہی، صحت کے نظام کے انہدام، اور معاشی بدحالی کا نتیجہ ہیں۔
عراق: سب سے زیادہ شہری ہلاکتیں
عراق جنگ، جو 2003 میں صدام حسین کی بعث پارٹی کی حکومت کے خاتمے کے لیے شروع کی گئی، امریکی جنگوں میں سب سے زیادہ شہری ہلاکتوں کا باعث بنی۔ رپورٹ کے مطابق، عراق میں تقریباً 3 لاکھ 15 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے 2 لاکھ 15 ہزار عام شہری تھے۔ یہ تعداد کسی بھی امریکی جنگ میں شہری ہلاکتوں کا سب سے بڑا تناسب ہے۔ جنگ کے نتیجے میں عراق کا صحت کا نظام، بنیادی ڈھانچہ، اور معیشت تباہ ہو گئی، جس سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور کروڑوں کی زندگیاں متاثر ہوئیں۔
افغانستان اور پاکستان پر اثرات
افغانستان میں 2001 سے 2021 تک جاری رہنے والی جنگ امریکی تاریخ کی طویل ترین عسکری مہم تھی۔ اس جنگ میں تقریباً 2 لاکھ 43 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جن میں 70 ہزار عام شہری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، 53 ہزار مخالف جنگجو اور 70 ہزار افغان فوجی و پولیس اہلکار بھی جان سے گئے۔ اس جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے، جہاں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 67 ہزار افراد جنگ سے متعلقہ تشدد کی بھینٹ چڑھے۔ اس کے علاوہ، لاکھوں افراد کی بے گھری اور معاشی بدحالی نے خطے کو طویل مدتی نقصان پہنچایا۔
شام اور یمن: تباہی کی ایک اور داستان
شام میں 2014 سے 2021 تک جاری رہنے والی جنگ، جو داعش کے خلاف امریکی زیرقیادت اتحاد کا حصہ تھی، 2 لاکھ 69 ہزار ہلاکتوں کا باعث بنی۔ اسی طرح، یمن میں جاری تنازعہ، جس میں امریکا نے سعودی اتحاد کی حمایت کی، 1 لاکھ 12 ہزار افراد کی ہلاکت کا سبب بنا۔ یمن میں جنگ کی وجہ سے 1 کروڑ 74 لاکھ سے زائد افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ 85 ہزار سے زائد بچے بھوک سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان جنگوں نے بنیادی ڈھانچے، صحت کے نظام، اور معاشرتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے اثرات آج بھی جاری ہیں۔
ایران پر حالیہ حملے اور اقوام متحدہ کا چارٹر
امریکی تحقیق میں حال ہی میں ایران پر کیے گئے حملوں کا بھی ذکر ہے، جنہیں امریکا نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جائز قرار دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، یہ حملے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے، جن میں سات B-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے 14 بنکر بسٹر بم گرائے۔ تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان حملوں سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جو پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے۔ ایران نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔
مالیاتی بوجھ: 58 کھرب ڈالر کا خرچ
امریکی جنگوں پر خرچ ہونے والی رقم حیران کن ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2001 سے 2023 تک ان جنگوں پر 58 کھرب ڈالر سے زائد خرچ ہو چکے ہیں۔ اس میں 23 کھرب ڈالر افغانستان اور پاکستان، 21 کھرب ڈالر عراق اور شام، اور 3.55 کھرب ڈالر دیگر جنگی علاقوں پر خرچ ہوئے۔ اس کے علاوہ، آنے والے 30 سالوں میں امریکی فوجیوں کے سابق فوجیوں کی دیکھ بھال پر 22 کھرب ڈالر سے زائد خرچ ہونے کا امکان ہے۔ یہ مالیاتی بوجھ امریکی معیشت پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے، جس سے ملازمتوں کا نقصان اور شرح سود میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانی نقصانات اور بے گھری
ان جنگوں نے نہ صرف ہلاکتوں بلکہ بے گھری کا ایک بڑا بحران بھی پیدا کیا۔ رپورٹ کے مطابق، 3 کروڑ 80 لاکھ سے 6 کروڑ افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے، جو دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔ شام سے 56 لاکھ افراد نے دیگر ممالک میں پناہ لی، جبکہ 65 لاکھ افراد ملک کے اندر بے گھر ہوئے۔ افغانستان میں 40 لاکھ افراد اندرونی طور پر بے گھر ہوئے، جن میں 60 فیصد بچے ہیں۔ پاکستان، اردن، لبنان، اور ایران جیسے پڑوسی ممالک نے لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی، لیکن 2023 میں پاکستان اور ایران سے 10 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو زبردستی واپس بھیجا گیا، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد ایکس پر صارفین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "امریکا کی جنگوں نے پوری دنیا کو تباہی سے دوچار کیا۔ 58 کھرب ڈالر اور 47 لاکھ اموات کے بعد بھی کیا حاصل ہوا؟” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "یہ اعدادوشمار دل دہلا دینے والے ہیں۔ خودمختار ممالک پر حملے اور پھر امن کی توقع؟ یہ ناممکن ہے۔” کچھ صارفین نے امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان جنگوں سے دہشت گردی کم ہونے کے بجائے بڑھی ہے، جیسے کہ عراق میں داعش کا عروج۔
ماہرین کی رائے اور عالمی تنقید
ماہرین نے ان جنگوں کو امریکی خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے 2004 میں عراق جنگ کو غیر قانونی قرار دیا تھا، کیونکہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی تھی۔ برطانوی تحقیقاتی رپورٹ، چلکوٹ رپورٹ (2016)، نے بھی اس جنگ کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ پرامن متبادلات پر غور نہیں کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان جنگوں نے خطے میں عدم استحکام کو بڑھاوا دیا، جس سے داعش جیسے گروہوں کا عروج ہوا۔
امریکا کی 9/11 کے بعد کی جنگوں نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ 58 کھرب ڈالر کے مالیاتی نقصان اور 47 لاکھ اموات کے علاوہ، کروڑوں افراد کی بے گھری، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، اور معاشی بدحالی نے متاثرہ ممالک کو طویل مدتی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ عراق، افغانستان، شام، یمن، اور پاکستان میں ہونے والی تباہی نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو جنم دیا۔ ایران پر حالیہ حملوں نے خطے میں نئے تنازعات کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ یہ وقت ہے کہ عالمی برادری ان جنگوں کے اثرات کا جائزہ لے اور مستقبل میں ایسی تباہی سے بچنے کے لیے پرامن حل تلاش کرے۔





















