واشنگٹن: امریکا نے اسرائیل کو 510 ملین ڈالر (51 کروڑ ڈالر) مالیت کے بم گائیڈنس کٹس اور متعلقہ سازوسامان کی فروخت کی اجازت دے دی ہے، جو ایران کے ساتھ حالیہ عسکری کشیدگی کے بعد اسرائیل کی دفاعی صلاحیتوں کو تقویت دینے کے لیے اہم ہے۔ اس فروخت کی منظوری امریکی محکمہ خارجہ نے دی ہے، اور اب یہ معاملہ حتمی منظوری کے لیے امریکی کانگریس کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی تناؤ کی روشنی میں اہمیت رکھتا ہے۔
فروخت کی تفصیلات
امریکی محکمہ دفاع کے سیکیورٹی تعاون ادارے (DSCA) کے مطابق، اس ممکنہ فروخت میں 3,845 KMU-558B/B جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشن (JDAM) گائیڈنس کٹس شامل ہیں، جو 2,000 پاؤنڈ وزنی BLU-109 بموں کے لیے ہیں، اور 3,280 KMU-572F/B کٹس، جو 500 پاؤنڈ وزنی MK 82 بموں کے لیے ہیں۔ یہ گائیڈنس کٹس عام بموں کو GPS سے چلنے والی درست ہدف بندی کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں، جو ہر موسم میں میٹر کی درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے کی اجازت دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ، فروخت میں امریکی حکومت اور کنٹریکٹرز کی جانب سے انجینئرنگ، لاجسٹک، اور تکنیکی معاونت بھی شامل ہے۔
DSCA نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فروخت "اسرائیل کی موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بڑھائے گی، اس کے سرحدی علاقوں، اہم تنصیبات، اور شہری آبادی کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔” مزید کہا گیا کہ "امریکا اسرائیل کی سلامتی کے لیے پابند عہد ہے، اور یہ امریکی قومی مفادات کے لیے بھی ضروری ہے کہ اسرائیل کو ایک مضبوط اور تیار دفاعی صلاحیت فراہم کی جائے۔”
ایران کے ساتھ حالیہ تنازعہ
یہ فروخت اسرائیل کی جانب سے 13 سے 24 جون 2025 تک ایران کے جوہری تنصیبات، سائنسدانوں، اور اعلیٰ فوجی حکام کے خلاف کیے گئے بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے تناظر میں کی گئی ہے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے کیے گئے، جسے وہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ دوسری جانب، ایران نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد، جیسے توانائی کی پیداوار، کے لیے ہے۔ عالمی طاقتوں، بشمول امریکا، نے ایران کے جوہری عزائم پر خدشات کا اظہار کیا ہے، جسے وہ ہتھیاروں کی تیاری کی کوشش سمجھتی ہیں۔
اسرائیلی فضائیہ نے ان حملوں میں ہزاروں گائیڈڈ بم استعمال کیے، جن میں JDAM سے لیس بم شامل تھے، جو بنکروں اور مضبوط تنصیبات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس شدید عسکری کارروائی کے بعد اسرائیل کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہ نیا معاہدہ سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر کی پالیسی اور جنگ بندی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات کے ذریعے ایک نیا جوہری معاہدہ کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ کوششیں ناکام ہونے کے بعد انہوں نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی منظوری دی۔ حالیہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود، اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کو دوبارہ جوہری تنصیبات کی تعمیر کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا، "ہم ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت دوبارہ حاصل نہیں کرنے دیں گے، چاہے اس کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔” یہ بیان خطے میں ایک نئے تنازعے کے امکانات کو بڑھا رہا ہے۔
علاقائی اور عالمی اثرات
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ اسلحہ فروخت اور ایران پر حالیہ حملوں سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ ایران نے ان حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب، امریکا نے اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ فروخت اسرائیل کے دفاع کے لیے ضروری ہے اور خطے میں استحکام کے لیے اہم ہے۔
سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، "امریکا کی جانب سے اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت خطے میں امن کے امکانات کو کمزور کر رہی ہے۔” ایک اور صارف نے کہا، "اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے، اور یہ فروخت اس کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔”
امریکی کانگریس کی منظوری
امریکی محکمہ خارجہ نے اس فروخت کی ابتدائی منظوری دے دی ہے، لیکن حتمی فیصلہ امریکی کانگریس کے پاس ہے۔ DSCA نے کانگریس کو اس حوالے سے مطلع کر دیا ہے، اور اب کانگریس کے پاس اس معاہدے پر نظرثانی اور منظوری یا مسترد کرنے کا اختیار ہے۔ ماضی میں اسرائیل کے ساتھ اسلحہ کے معاہدوں کو کانگریس کی جانب سے شاذ و نادر ہی روکا گیا ہے، کیونکہ اسرائیل کو امریکی پالیسی میں ایک اہم اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، کچھ ڈیموکریٹ ارکان نے ماضی میں اس قسم کے معاہدوں پر انسانی حقوق کے تناظر میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
تاریخی تناظر
امریکا اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے، امریکا اس کا سب سے بڑا اتحادی رہا ہے، جو اسے اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور اسلحہ کی فروخت فراہم کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں، اسرائیل کو امریکی امداد کے تحت 3.8 بلین ڈالر سالانہ کی فوجی امداد دی جاتی ہے، جو اسے خطے میں سب سے زیادہ طاقتور فوجی قوت بناتی ہے۔ اس نئے معاہدے سے اسرائیل کی فضائیہ کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوگا، خاص طور پر اس کے F-15I، F-16I، اور F-35I لڑاکا طیاروں کے لیے۔
امریکا کی جانب سے اسرائیل کو 51 کروڑ ڈالر مالیت کے بم گائیڈنس کٹس کی فروخت خطے میں اس کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے، لیکن یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ میں نئے تنازعات کو جنم دینے کا خطرہ بھی رکھتا ہے۔ ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور اسرائیل کے سخت گیر موقف نے خطے کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکی کانگریس کی حتمی منظوری کے بعد یہ معاہدہ نافذ ہوگا، لیکن عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ یہ فروخت خطے کے امن و استحکام پر کیا اثرات مرتب کرے گی۔ اس دوران، عالمی طاقتوں کو سفارتی کوششوں کے ذریعے تناؤ کو کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک اور بڑے تنازعے سے بچا جا سکے۔





















