کراچی: ایک خوردبینی مخلوق، جسے سائنسی طور پر Naegleria fowleri کہا جاتا ہے، دنیا بھر کے گرم پانی کے ذخائر میں پائی جاتی ہے اور انسانی دماغ کے لیے ایک مہلک خطرہ بن چکی ہے۔ یہ فری-لیونگ امیبا، جو صرف ایک خلیے پر مشتمل ہوتا ہے، دماغ پر حملہ کرکے ایک جان لیوا انفیکشن کا باعث بنتا ہے، جس کی شرح اموات 97 فیصد ہے۔ اس خطرناک امیبا نے دنیا بھر میں سینکڑوں افراد کی جانیں لی ہیں، اور صرف چند خوش نصیب ہی اس کے چنگل سے بچ پائے ہیں۔ ماہرین صحت نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ گرم پانی کے ذخائر میں تیراکی یا نہانے کے دوران احتیاط برتنا ناگزیر ہے۔
Naegleria fowleri: ایک خاموش قاتل
Naegleria fowleri، جسے عام طور پر ’دماغ کھانے والا امیبا‘ کہا جاتا ہے، گرم اور میٹھے پانی کے ماحول جیسے جھیلوں، تالابوں، ندیوں، اور گرم چشموں میں پایا جاتا ہے۔ یہ امیبا ناقص صفائی والے نلوں، واٹر ٹینکوں، اور حتیٰ کہ غیر کلورین شدہ سوئمنگ پولز میں بھی موجود ہو سکتا ہے۔ اس کی سب سے خطرناک خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسانی جسم میں ناک کے راستے داخل ہوتا ہے اور براہ راست دماغ تک پہنچ کر اس کے ٹشوز کو تباہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس عمل سے ایک نایاب لیکن مہلک بیماری جنم لیتی ہے، جسے پرائمری امیبیک میننجو انسفیلائٹس (PAM) کہا جاتا ہے۔
علامات: تیزی سے بگڑتی صحت
ماہرین کے مطابق، Naegleria fowleri سے متاثر ہونے کے بعد علامات عام طور پر 1 سے 9 دن کے اندر ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ علامات دیگر بیماریوں جیسے وائرل میننجائٹس سے ملتی جلتی ہیں، جس کی وجہ سے تشخیص مشکل ہو جاتی ہے۔ اس انفیکشن کی اہم علامات میں شامل ہیں:
شدید سر درد
بخار اور جسم کا بڑھتا درجہ حرارت
متلی اور قے
ناک کا بند ہونا یا بہنا
گردن میں جکڑاؤ یا اکڑن
ذہنی الجھن اور بے چینی
دورے (seizures)
شعور کی کمی یا بے ہوشی
یہ علامات تیزی سے بگڑتی ہیں اور اکثر مریض کی موت 5 سے 7 دن کے اندر ہو جاتی ہے۔ بیماری کی شدت اور تیزی سے بگڑتی حالت کے باعث علاج کے امکانات انتہائی کم ہوتے ہیں۔
97 فیصد شرح اموات
Naegleria fowleri سے ہونے والی بیماری کی شرح اموات 97 فیصد سے زائد ہے، جو اسے دنیا کی خطرناک ترین بیماریوں میں سے ایک بناتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) اور سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کے مطابق، دنیا بھر میں اس انفیکشن کے سینکڑوں کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، لیکن زندہ بچ جانے والوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، 1962 سے 2023 تک صرف چند کیسز میں مریضوں نے اس انفیکشن سے صحت یابی حاصل کی، جو کہ انتہائی نایاب ہے۔
کیسے پھیلتا ہے یہ امیبا؟
یہ امیبا عام طور پر گرم پانی کے ذخائر میں پایا جاتا ہے، جہاں پانی کا درجہ حرارت 25 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ ندیوں، جھیلوں، گرم چشموں، اور ناقص طور پر کلورین شدہ سوئمنگ پولز میں پروان چڑھتا ہے۔ انسانوں میں یہ انفیکشن اس وقت ہوتا ہے جب پانی ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے، خاص طور پر تیراکی، ڈائیونگ، یا نہانے کے دوران۔ امیبا ناک سے ہوتا ہوا دماغ کی طرف بڑھتا ہے اور وہاں پر موجود عصبی خلیوں (neurons) کو کھانا شروع کر دیتا ہے، جس سے دماغ کی شدید سوزش اور تباہی ہوتی ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ امیبا پینے کے پانی سے نہیں پھیلتا، کیونکہ معدے میں موجود تیزاب اسے تباہ کر دیتا ہے۔ تاہم، ناقص صفائی والے پانی سے ناک دھونے یا مذہبی رسومات کے دوران پانی کے ناک میں جانے سے بھی یہ انفیکشن ہو سکتا ہے، جیسے کہ پاکستان میں کچھ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
پاکستان میں صورتحال
پاکستان، جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے، Naegleria fowleri کے پھیلاؤ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔ کراچی اور دیگر شہروں میں ناقص صفائی والے واٹر ٹینکوں اور نلکوں سے یہ انفیکشن رپورٹ ہوا ہے۔ 2019 سے 2023 تک کراچی میں کئی کیسز سامنے آئے، جن میں سے اکثر مریض جان کی بازی ہار گئے۔ ماہرین نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کے ذخائر کی باقاعدہ کلورینیشن اور صفائی کو یقینی بنایا جائے۔
ایک ایکس صارف نے اس حوالے سے لکھا، "گرم موسم اور ناقص صفائی کی وجہ سے Naegleria fowleri ہمارے لیے بڑا خطرہ ہے۔ واٹر ٹینکوں کی صفائی اور کلورینیشن پر فوری عمل کی ضرورت ہے۔” ایک اور صارف نے کہا، "یہ امیبا اتنا خطرناک ہے کہ اس سے بچاؤ ہی بہترین علاج ہے۔ عوام کو آگاہی کی ضرورت ہے۔”
بچاؤ کے اقدامات
ماہرین صحت نے Naegleria fowleri سے بچاؤ کے لیے درج ذیل اقدامات کی تجویز دی ہے:
گرم پانی سے گریز: جھیلوں، تالابوں، یا گرم چشموں میں تیراکی سے پرہیز کریں، خاص طور پر جب پانی کا درجہ حرارت زیادہ ہو۔
ناک کی حفاظت: تیراکی کے دوران ناک بند رکھنے کے لیے ناک کے کلپس استعمال کریں یا سر کو پانی سے باہر رکھیں۔
کلورین شدہ پانی: صرف کلورین شدہ یا صاف پانی میں تیراکی کریں۔
ناک دھونے میں احتیاط: نلکوں یا واٹر ٹینکوں سے پانی استعمال کرنے سے گریز کریں، خاص طور پر مذہبی رسومات کے دوران۔
پانی کے ذخائر کی صفائی: واٹر ٹینکوں اور سوئمنگ پولز کی باقاعدہ صفائی اور کلورینیشن کو یقینی بنائیں۔
علاج کے محدود امکانات
بدقسمتی سے، Naegleria fowleri سے ہونے والے انفیکشن کا علاج انتہائی مشکل ہے۔ اگرچہ کچھ اینٹی فنگل ادویات جیسے کہ امفوٹیرسین بی (Amphotericin B) اور ملیفوسین (Miltefosine) کا استعمال کیا جاتا ہے، لیکن ان کی کامیابی کی شرح بہت کم ہے۔ تشخیص میں تاخیر اور بیماری کی تیزی سے بگڑتی حالت علاج کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچاؤ ہی اس بیماری سے نمٹنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
Naegleria fowleri، یا دماغ کھانے والا امیبا، ایک ننھا لیکن انتہائی خطرناک جاندار ہے جو گرم پانی کے ذخائر میں پھیلتا ہے اور انسانی دماغ کو تباہ کر دیتا ہے۔ اس کی 97 فیصد شرح اموات اور تیزی سے بگڑتی علامات اسے ایک مہلک خطرہ بناتی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک، جہاں گرم موسم اور ناقص صفائی کے مسائل عام ہیں، وہاں اس سے بچاؤ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ گرم پانی کے ذخائر میں تیراکی سے گریز کریں، ناک کی حفاظت کریں، اور پانی کے ذخائر کی صفائی کو یقینی بنائیں۔ حکومتی اداروں کو پانی کی کلورینیشن اور آگاہی مہمات کے ذریعے اس خطرے کو کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ اس خاموش قاتل سے انسانی جانیں بچائی جا سکیں۔





















