جامعہ پشاور میں تعلیمی بحران قومی مستقبل پر سوالیہ نشان ہے؛ شیخ فرحان عزیز

مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کی طرف سے تعلیم بچاؤ مہم چلانے کا اعلان، مرکزی صدر

لاہور (محمد کاشف جان)مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے مرکزی صدر شیخ فرحان عزیز نے جامعہ پشاور میں بڑھتے ہوئے تعلیمی بحران پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض ایک ادارے کا زوال نہیں بلکہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے ایک سنگین وارننگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ پشاور جیسے ادارے کی زبوں حالی قومی تعلیمی پالیسیوں کی ناکامی اور نوجوان نسل کے مستقبل سے غفلت کی عکاس ہے

جامعہ پشاور: ممتاز تعلیمی ادارہ بحران کا شکار

شیخ فرحان عزیز نے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن لاہور میں طلبہ کے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ پشاور ایک تاریخی اور تحقیقی لحاظ سے ممتاز تعلیمی ادارہ رہا ہے، لیکن آج یہ ادارہ خالی کلاس رومز، کم ہوتی انرولمنٹ اور تحقیقی سرگرمیوں کے فقدان کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی اہم اور جدید شعبہ جات، جن میں کمپیوٹر سائنس، سافٹ ویئر انجینئرنگ، ڈیٹا سائنس، فیشن ڈیزائننگ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، اور انٹیریئر ڈیزائن شامل ہیں، طلبہ سے مکمل طور پر خالی ہو چکے ہیں۔ اس صورت حال کو ایک قومی تعلیمی سانحہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ پاکستان میں جدید علوم کی تعلیم سست روی کا شکار ہو چکی ہے

پی ایچ ڈی اور ایم فل میں تشویشناک کمی

شیخ فرحان عزیز نے کہا کہ تحقیق اور اعلیٰ تعلیم میں دلچسپی کی مسلسل کمی تشویشناک ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2020 میں جامعہ پشاور میں پی ایچ ڈی کے 178 طلبہ زیر تعلیم تھے، جب کہ 2025 تک یہ تعداد گھٹ کر صرف 66 رہ گئی۔ اسی طرح جامعہ کی کل انرولمنٹ بھی 4708 سے کم ہو کر 4081 رہ گئی۔ دو سال کے اندر 600 سے زائد طلبہ تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہوئے، جو ملک میں بڑھتے ہوئے تعلیمی اضطراب کی نشاندہی کرتا ہے۔

اسے بھی پڑھیں: پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ بلا جواز ہے، سردار عمر دراز خان

روایتی اور علاقائی علوم بھی متاثر

انہوں نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ نہ صرف جدید علوم بلکہ اردو، فلسفہ، پشتو، پولیٹیکل سائنس، ریجنل اسٹڈیز اور نفسیات جیسے علمی و ثقافتی مضامین بھی زوال کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتو زبان جیسے علاقائی ورثے پر مبنی شعبہ میں ایک بھی طالب علم کا موجود نہ ہونا تعلیمی اداروں کی ترجیحات پر سوال اٹھاتا ہے

بحران کی وجوہات: بڑھتی فیسیں اور کم ہوتی اسکالرشپ

شیخ فرحان عزیز نے تعلیمی زوال کی بنیادی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فیسوں میں ہوشربا اضافہ، اسکالرشپ اسکیموں میں کمی، تحقیق کے لیے عدم سہولیات اور طلبہ کے لیے غیر سازگار تعلیمی ماحول وہ عناصر ہیں جنہوں نے جامعہ پشاور جیسے ادارے کو زوال کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے انہوں نے کہا کہ مہنگی تعلیم کی وجہ سے طلبہ اب یا تو تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں یا کم معیار والے اداروں کا انتخاب کرتے ہیں، جس سے مجموعی طور پر ملک کا تعلیمی معیار نیچے جا رہا ہے

حکومت سے فوری اصلاحاتی اقدامات کا مطالبہ

شیخ فرحان عزیز نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت جامعہ پشاور کو فوری مالی امداد فراہم کرے، فیسوں میں کمی کی جائے، اسکالرشپ اسکیمیں بحال کی جائیں، اور ایک تحقیق دوست، طلبہ دوست ماحول مہیا کیا جائے تاکہ نوجوان نسل اعلیٰ تعلیم سے جڑی رہ سکے انہوں نے وفاقی اور صوبائی سطح پر تعلیمی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں سنجیدہ اصلاحات نہ کی گئیں تو مستقبل میں پاکستان کا تعلیمی، سائنسی اور اقتصادی ڈھانچہ مزید کمزور ہو جائے گا۔

تعلیم بچاؤ مہم کا آغاز

مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے صدر نے اعلان کیا کہ ان کی تنظیم ملک گیر سطح پر ’’تعلیم بچاؤ مہم‘‘ کا آغاز کر رہی ہے۔ اس مہم کے ذریعے نہ صرف حکومت کو احساس دلایا جائے گا بلکہ نوجوان نسل کو تعلیم کے ساتھ جوڑے رکھنے کی مؤثر کوشش کی جائے گی انہوں نے کہا کہ تعلیم صرف کلاس روم کی حد تک نہیں بلکہ یہ قومی ترقی، خودمختاری، اور وقار کی بنیاد ہے۔ اگر ہم نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو بے سہارا چھوڑ دیا تو ہم اپنی نسلوں کو تحقیق، ٹیکنالوجی اور عالمی مسابقت کی دوڑ میں پیچھے چھوڑ دیں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین