شہادت امام حسین ؑ اذیت رسولؐ کا سنگین واقعہ ہے:شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری

یزید امام حسین ؑ کی کوفہ آمد کے بارے میں آگاہ تھا، لاعلمی کا موقف دجل و فریب کاری پر مبنی ہے

تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ شہادت امام حسین ؑ نفس انسانی کا قتل نہیں بلکہ اذیت رسولؐ کا ایک اذیت ناک سنگین واقعہ ہے۔ آپؐ کو حسنین کریمین سے بے پناہ محبت تھی۔ سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں ایک روز حضور نبی اکرمؐ گھر تشریف لائے حسنین کریمین کو موجود نہ پا کر فکر مند ہوئے اور استفسار فرمایا میرے بیٹے کہاں ہیں؟ سیدہ کائنات نے عرض کیا علی کرم اللہ وجہہ انہیں اپنے ساتھ باہر لے گئے ہیں، یہ سن کر تاجدارِ کائنات اُن کی تلاش کے لئے روانہ ہوئے اور کرہ ارض کے خوش بخت حسنین کریمین کو ایک چشمے کے قریب کھیلتے ہوئے پایا۔ آپؐ نے دیکھ کر فرمایا اے علی خیال رکھنا میرے بیٹوں کو جلد گھر لے آیا کرو تاکہ ان کے جسموں کو دھوپ کی تپش نہ چھوئے۔ انہوں نے کہا کہ اب ذرا تصور کریں کہ تاجدار کائناتؐ کو جس حسن و حسین ؑ کے جسموں پر سورج کی گرمی گوارہ نہ تھی اُسی حسین ؑ کو کربلا کے تپتے ریگزاروں پر بھوک اور پیاس کی شدت کے ساتھ شہید کر دیاگیا اور قافلہ حق کے ساتھ دربار یزید تک ہتک آمیز برتائو کیا گیا، ذرا چشم تصور میں لائیں کہ جب تاجدار کائنات نے شہادت امام حسین ؑ کے مناظر دیکھے ہوں گے تو آپؐ کس قدر اذیت اور تکلیف میں آئے ہوں گے؟۔ حضرت امام حسین ؑ اور نفوس قدسیہ کو تہ تیغ کرنے والے کرہ ارض کے بدترین لوگوں کے بارے میں شک و شبہ سے کام لینا کہ آیا وہ اس قتل و غارت گری میں ملوث تھے یا نہیں تھے کس قدر بدبختی کی بات ہے۔ ایسا سوچنے والے اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت دینے کے عمل میں برابر کے شریک ہیں۔

اسے بھی پڑھیں: یزید سانحہ کربلا میں براہ راست ملوث تھا

شیخ الاسلام نے کہا کہ شہادتِ امام حسین ؑ کو ایک اتفاقی حادثہ اور اچانک رونما ہونے والا سانحہ قرار دے کر کچھ ذہن یزید کو قتل حسین ؑ سے بری الذمہ قرار دینے کی ناکام و مذموم کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یزید کا قطعی طور پر امام حسین ؑ کو قتل کرنے کا حکم کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت ہے۔ سانحہ کربلا، سانحہ مدینہ اور سانحہ مکہ میں ہر قدم یزید کے حکم سے اٹھایا گیا، اسی کے حکم سے بریدہ سر دمشق کے دربار میں پہنچائے گئے، اس نے فتح و کامرانی کے شادیانے بجائے اور لغویات و خرافات کہیں، اسی بدبخت یزید نے کہا ہم نے غزہ بدر کا بدلہ لے لیا۔ یہ سوال آج بھی موجود ہے اگر یزید نے قتل حسین ؑ کا حکم نہیں دیا تھا تو پھر قاتلین حسین ؑ کو سزا کیوں نہ دی، یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ یزید امام حسین ؑ کی کوفہ آمد کے بارے میں پیشگی آگاہ تھا، یزید کے لا علم ہونے کا موقف باطل اور دجل و فریب پر مبنی ہے۔ جید آئمہ و محدثین نے شرح و بسط کے ساتھ یہ حقائق بیان کئے ہیں کہ نہ صرف یزید امام حسین ؑ کی آمد کے بارے میں باخبر تھا بلکہ اُس نے گورنر عراق عبیداللہ بن زیاد کو امام حسین ؑ کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا مراسلہ ارسال کیا اور ناکامی یا کسی قسم کی کوتاہی کی صورت میں ابن زیاد کو سنگین ردعمل سے دو چار ہونے کی دھمکی بھی دی ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ امر کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ یہ کسی عام مسلمان کا قتل نہیں ہے بلکہ یہ قتل حسین ہے۔ یہ رسول مکرمؐ کے شہزادے اور اہل بیت کے مقدس نفوس کا قتل ہے۔ اگر یزید نے اس قتل کا حکم نہیں دیا یا وہ اس قتل سے راضی نہیں تھا تو کیا اس نے حکم قرآن کے تحت قاتلین سے قصاص لیا؟۔ وہ خود حکمران تھا اور اصول یہ ہے کہ حاکم خود قتل ناحق پر مدعی اور وارث بن کر قصاص کا حکم دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین