ایلون مسک کو امریکہ سے نکالے جانے کا خطرہ

شاید ہمیں DOGE کو ایلون پر چھوڑ دینا چاہیے،ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی شہرت یافتہ ارب پتی اور ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک کے خلاف ایک چونکا دینے والا بیان دیا ہے، جس میں انہوں نے مسک کو ان کے آبائی وطن جنوبی افریقہ واپس بھیجنے کی دھمکی دی ہے۔ یہ بیان ٹرمپ اور مسک کے درمیان حالیہ دنوں میں بڑھتی ہوئی سیاسی اور ذاتی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، جو امریکی بجٹ، قومی قرض کی حد، اور الیکٹرک گاڑیوں کے مینڈیٹ جیسے اہم معاملات پر شدید اختلافات کی وجہ سے سامنے آئی ہے۔

تنازع کا آغاز

ایلون مسک، جو جنوبی افریقہ میں پیدا ہوئے اور 2002 میں امریکی شہری بنے، نے حال ہی میں صدر ٹرمپ کی حمایت یافتہ مالیاتی قانون سازی، جسے ’ون بگ بیوٹیفل بل‘ کہا جاتا ہے، پر کھل کر تنقید کی۔ مسک نے اس بل کو ’انتہائی مضحکہ خیز‘ اور ’ملک کے لیے نقصان دہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قومی خزانے پر 3 سے 5 ٹریلین ڈالر کا اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اس بل کی منظوری سے ’امریکہ ایک ایسی پارٹی کے زیر اثر ہے جو غیر ضروری اخراجات کو فروغ دیتی ہے،‘ اور ایک نئی سیاسی جماعت ’امریکہ پارٹی‘ بنانے کا عندیہ دیا۔

ٹرمپ نے مسک کی اس تنقید کو ذاتی حملہ سمجھا اور فوری ردعمل دیتے ہوئے اپنی سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ مسک کو ان کے کاروبار کے لیے ملنے والی ’اربوں ڈالر کی سرکاری سبسڈیز‘ کے بغیر اپنی کمپنیاں بند کر کے جنوبی افریقہ واپس جانا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے مزید طنزیہ انداز میں کہا کہ محکمہ حکومتی کارکردگی (DOGE)، جس کی سربراہی مسک نے 2025 کے اوائل میں کی تھی، اب مسک کے خلاف ہی تحقیقات کا آغاز کر سکتا ہے تاکہ ان کے کاروباری مفادات اور سرکاری معاہدوں کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔

ٹرمپ کی دھمکی

فلوریڈا میں ایک امیگریشن ڈیٹنشن سینٹر کے دورے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ واقعی ایلون مسک کو ملک بدر کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے جواب میں کہا، ’’ہمیں اس پر غور کرنا ہوگا۔ میں نہیں جانتا، دیکھتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مسک کے خلاف محکمہ حکومتی کارکردگی (DOGE) کو استعمال کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا، ’’شاید ہمیں DOGE کو ایلون پر چھوڑ دینا چاہیے۔ DOGE ایک دیوہیکل ادارہ ہے جو ایلون کو ہڑپ کر سکتا ہے۔ یہ کیسا رہے گا؟ وہ بہت ساری سبسڈیز لیتا ہے۔‘‘

ٹرمپ کا یہ بیان نہ صرف مسک کے لیے ایک براہ راست دھمکی ہے بلکہ ان کے کاروباری مفادات، خاص طور پر ٹیسلا، اسپیس ایکس، اور اسٹارلنک کے لیے اربوں ڈالر کے سرکاری معاہدوں اور سبسڈیز پر بھی ایک واضح حملہ ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، مسک کی کمپنیوں نے گزشتہ دو دہائیوں میں تقریباً 38 ارب ڈالر کے سرکاری معاہدوں، قرضوں، سبسڈیز، اور ٹیکس مراعات حاصل کی ہیں۔

مسک کا ردعمل

ایلون مسک نے ٹرمپ کی اس دھمکی کے جواب میں ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں انہوں نے لکھا، ’’اس معاملے کو بڑھانے کا بہت دل چاہ رہا ہے، لیکن میں فی الحال خود کو روک رہا ہوں۔‘‘ انہوں نے ٹرمپ کے بیان کو ایک ویڈیو کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس تنازع کو مزید ہوا نہیں دینا چاہتے۔ تاہم، مسک نے اپنی پوزیشن واضح کی کہ وہ اس بل کی وجہ سے ریپبلکن پارٹی سے مایوس ہیں اور اسے ’پارکی پگ پارٹی‘ (غیر ضروری اخراجات کی حامی پارٹی) قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اس بل کی حمایت کرنے والے قانون سازوں کے خلاف پرائمری انتخابات میں دیگر امیدواروں کی مالی مدد کریں گے۔

سیاسی کشیدگی کی جڑیں

ٹرمپ اور مسک کے درمیان یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب مسک نے جون 2025 میں ٹرمپ کے بل کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔ اس بل میں ٹیکس کٹوتیوں اور اخراجات میں اضافے کی تجاویز شامل ہیں، جو قومی قرض میں 3.3 ٹریلین ڈالر کا اضافہ کر سکتی ہیں۔ مسک، جو 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کے سب سے بڑے مالی حامیوں میں سے ایک تھے اور جنہوں نے تقریباً 270 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی، نے اس بل کو ’امریکی شہریوں کے لیے تباہ کن‘ قرار دیا۔

اس سے قبل، مسک ٹرمپ کے قریبی اتحادی تھے اور انہوں نے محکمہ حکومتی کارکردگی (DOGE) کی سربراہی کرتے ہوئے وفاقی اخراجات میں کٹوتی کی کوشش کی۔ تاہم، مئی 2025 میں مسک نے اس عہدے سے استعفیٰ دے دیا تاکہ اپنی کمپنیوں پر توجہ دے سکیں۔ اس کے بعد سے دونوں کے تعلقات میں دراڑیں نمایاں ہوئیں، جو جون 2025 میں اس وقت عروج پر پہنچ گئیں جب مسک نے ٹرمپ پر جیوفری ایپسٹین فائلز سے تعلق کا الزام لگایا، جسے انہوں نے بعد میں واپس لے لیا اور معافی مانگی۔

قانونی امکانات

ایلون مسک، جو 2002 میں امریکی شہری بنے، کو ملک بدر کرنے کے لیے ان کی شہریت منسوخ کرنا ضروری ہے، جو کہ ایک پیچیدہ قانونی عمل ہے جسے ’ڈینچرلائزیشن‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے لیے حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ مسک نے شہریت کے درخواست کے عمل میں جھوٹ بولا یا دھوکہ دہی کی۔ واشنگٹن پوسٹ نے 2024 میں رپورٹ کیا تھا کہ مسک نے 1995 میں اسٹوڈنٹ ویزا پر امریکہ میں رہتے ہوئے غیر قانونی طور پر کام کیا تھا، کیونکہ وہ سٹینفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ نہ لے سکے تھے۔ تاہم، مسک نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ ان کا ویزا J-1 سے H1-B میں تبدیل ہوا تھا، اور ان کے تمام ریکارڈز حکام کے پاس موجود ہیں۔

ماہرین قانون کے مطابق، مسک کی شہریت منسوخ کرنا اور انہیں ملک بدر کرنا ایک مشکل عمل ہے، کیونکہ اس کے لیے ٹھوس ثبوتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیاما رحمانی، ویسٹ کوسٹ ٹرائل لا فرم کے صدر، نے کہا، ’’ٹرمپ انتظامیہ کے لیے مسک کو ملک بدر کرنا مشکل ہوگا، کیونکہ ڈینچرلائزیشن ایک پیچیدہ اور نایاب عمل ہے۔‘‘

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس تنازع نے سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس پر، ایک زبردست بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’ٹرمپ اور مسک کے درمیان یہ لڑائی امریکی سیاست کی نئی ڈرامائی سطح ہے۔ مسک کو ڈی پورٹ کرنا ناممکن نہیں، لیکن یہ ایک قانونی ڈرامہ ہوگا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’مسک نے ٹرمپ کو الیکشن جتوایا، اور اب وہی انہیں ملک سے نکالنے کی بات کر رہا ہے۔ یہ ہے سیاست کی اصلیت۔‘‘

مسک کے کاروباری مفادات پر اثرات

ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد ٹیسلا کے شیئرز میں منگل کے روز 5 فیصد کی کمی دیکھی گئی، حالانکہ بدھ کو اس میں کچھ بحالی ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ مسک کی کمپنیوں کے سرکاری معاہدوں کو منسوخ کرنے کی دھمکی پر عمل کرتے ہیں، تو اسپیس ایکس اور ٹیسلا جیسے اداروں کو شدید مالی نقصان ہو سکتا ہے۔ اسپیس ایکس کے ناسا اور محکمہ دفاع کے ساتھ معاہدوں کی مالیت اربوں ڈالر ہے، جو مسک کے کاروباری امپائر کا اہم حصہ ہیں۔

ٹرمپ اور مسک کا ماضی

ٹرمپ اور مسک کے تعلقات کی ابتدا 2024 کے صدارتی انتخابات کے دوران ہوئی، جب مسک نے ٹرمپ کی مہم کے لیے بھاری مالی امداد فراہم کی اور ان کے ساتھ متعدد انتخابی تقریبات میں شریک ہوئے۔ مسک نے جولائی 2024 میں ٹرمپ پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد ان کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، DOGE کے سربراہ کے طور پر مسک کی پالیسیوں، خاص طور پر وفاقی اخراجات میں کٹوتی کی کوششوں، نے کئی ریپبلکن قانون سازوں کی ناراضی مول لی، جس سے ان کے اور ٹرمپ کے درمیان فاصلے بڑھنے لگے۔

ٹرمپ اور مسک کے درمیان یہ تنازع امریکی سیاست میں ایک غیر معمولی موڑ کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں دو طاقتور شخصیات اپنے اختلافات کو عوامی طور پر سوشل میڈیا اور میڈیا کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے مسک کو ملک بدری کی دھمکی نہ صرف ان کے ذاتی تعلقات کے خاتمے کی علامت ہے بلکہ امریکی معیشت، ٹیکنالوجی، اور سیاسی منظر نامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ مسک کی کمپنیوں کے لیے سرکاری معاہدوں کا ممکنہ خاتمہ اور ان کی شہریت پر سوالات اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس تنازع کا رخ امریکی سیاست اور کاروباری دنیا کے لیے اہم ہوگا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین