جہیز کی لعنت ایک ایسا ناسور ہے جو نہ صرف لڑکیوں بلکہ ان کے خاندانوں کے لیے بھی پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ یہ رسم نہ صرف محبت اور رشتوں کی بنیاد کو مادی مفادات سے آلودہ کر دیتی ہے بلکہ کئی غریب والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے قرضوں کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں۔ بعض اوقات جہیز نہ ملنے پر لڑکیوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے لیکن بھارت میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس میں کروڑوں کا جہیز دینے کے باوجود سسرال والوں نے بہو کی زندگی کو اجیرن کر کے اُسے خودکشی کرنے پر مجبور کر دیا۔
سسرالیوں کا تشدد
تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست تامل ناڈو کے شہر تھنجاوور میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس نے ایک بار پھر جہیز کے سماجی ناسور کو اجاگر کیا۔ 27 سالہ رتھنیا، جن کی شادی رواں سال اپریل 2025 میں کاوین کمار سے ہوئی تھی، نے مبینہ طور پر سسرال کی طرف سے مسلسل ہراسانی اور ذہنی و جسمانی تشدد سے تنگ آکر خودکشی کر لی۔
وافر جہیز عذاب بن گیا
رتھنیا کے گھر والوں نے شادی کے موقع پر جہیز کے طور پر 300 سونے کے سکے اور 70 لاکھ بھارتی روپے مالیت کی ایک وولوو کار فراہم کی تھی۔ اس کے علاوہ، مزید 200 سونے کے سکوں کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔ تاہم، یہ مادی دولت رتھنیا کے لیے خوشحالی کے بجائے عذاب کا باعث بنی۔ شادی کے صرف دو ماہ بعد ہی رتھنیا کو اپنے شوہر، سسر، اور ساس کی طرف سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر ذہنی و جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا جانے لگا۔29 جون 2025 کو رتھنیا نے ایک مندر جانے کے بہانے گھر سے نکل کر کیڑے مار دوا خریدی اور اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسے استعمال کر لیا۔ جائے وقوعہ پر موجود افراد نے رتھنیا کو منہ سے جھاگ نکلتے اور بے ہوش حالت میں دیکھا اور فوراً اسپتال منتقل کیا، لیکن بدقسمتی سے وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
اسے بھی پڑھیں: جہیز لینے اور دینے کے خلاف بل پیش، 5 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے
مقد مہ درج
پولیس نے رتھنیا کے شوہر کاوین کمار، سسر، اور ساس کے خلاف جہیز ہراسانی اور خودکشی پر مجبور کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا اور تینوں کو گرفتار کر لیا۔ تامل ناڈو کے قومی کمیشن برائے خواتین نے اس دلخراش واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے 72 گھنٹوں کے اندر کیس کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔
پس منظر
جہیز کا رواج جنوبی ایشیا خصوصاً بھارت میں صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ اگرچہ بھارت میں 1961 کے جہیز ممانعت ایکٹ کے تحت جہیز لینا اور دینا غیر قانونی ہے، لیکن یہ رواج آج بھی معاشرے میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ تامل ناڈو جیسے ترقی یافتہ علاقوں میں بھی جہیز کے تقاضوں نے نہ صرف خاندانوں پر مالی بوجھ ڈالا بلکہ خواتین کے لیے ذہنی و جسمانی اذیت کا باعث بن کر ان کی زندگیوں کو تباہ کیا۔قومی کمیشن برائے خواتین کے اعداد و شمار کے مطابق، بھارت میں ہر سال ہزاروں خواتین جہیز سے متعلق تشدد یا ہراسانی کی وجہ سے خودکشی کرتی ہیں یا ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے۔ 2024 میں، نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (NCRB) نے رپورٹ کیا کہ جہیز سے متعلقہ ہراسانی کے تقریباً 7,000 کیسز رجسٹر ہوئے، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔رتھنیا کا واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح مادی لالچ اور سماجی دباؤ خواتین کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔ یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا دولت کی ہوس انسانی اقدار پر حاوی ہو چکی ہے؟
جہیز کے ناسور سے نجات کیسے ممکن ہے؟
جہیز کے رواج کو ختم کرنے اور اس سے وابستہ سماجی مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ جہیز ممانعت ایکٹ 1961 کو سختی سے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیس اور عدالتی نظام کو جہیز سے متعلقہ کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے لیے خصوصی تربیت اور وسائل فراہم کیے جائیں۔ ملزمان کو فوری اور سخت سزا دینے سے دیگر افراد کے لیے عبرت کا باعث بنے گا۔جہیز کے منفی اثرات کے بارے میں بڑے پیمانے پر بیداری مہمات چلائی جانی چاہئیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں صنفی مساوات اور خواتین کے حقوق کے بارے میں تعلیم کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ میڈیا، خاص طور پر سوشل میڈیا، کو مثبت پیغامات پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔خواتین کو تعلیمی اور معاشی طور پر خود مختار بنانا ضروری ہے۔ جب خواتین مالی طور پر خود انحصار ہوں گی، وہ جہیز کے تقاضوں اور گھریلو تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت رکھیں گی۔ حکومتیں خواتین کے لیے مفت تعلیم، ہنر مندی کے پروگرامز، اور روزگار کے مواقع فراہم کریں۔جہیز کی روایت کو ختم کرنے کے لیے معاشرتی اقدار کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ شادی کو مادی لین دین کے بجائے دو افراد کے درمیان محبت، احترام، اور شراکت داری کے رشتے کے طور پر فروغ دیا جائے۔ مشہور شخصیات، مذہبی رہنما، اور کمیونٹی لیڈرز کو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔جہیز سے متعلقہ ہراسانی کا شکار خواتین کے لیے فوری مشاورت اور قانونی امداد کے مراکز قائم کیے جائیں۔ ہیلپ لائنز اور شیلٹر ہومز کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ متاثرہ خواتین کو فوری تحفظ اور رہنمائی مل سکے۔جہیز کے خاتمے کے لیے مردوں کو بھی اس مہم کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ مردوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ جہیز کا مطالبہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ غیر اخلاقی بھی ہے۔ مردوں کے لیے ورکشاپس اور تربیتی پروگرامز منعقد کیے جائیں جو صنفی مساوات کو فروغ دیں۔
گھروں کو لٹنے سے بچانے کے لیے اقدامات
جہیز کی وجہ سے کئی خاندان مالی طور پر تباہ ہو جاتے ہیں۔ گھروں کو اس تباہی سے بچانے کے لیے خاندانوں کو شادی کے اخراجات کے لیے پیشگی مالی منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور جہیز کے مطالبات کو مسترد کرنے کی ہمت دکھانی چاہیے۔خاندانوں کو جہیز سے متعلق قوانین کا علم ہونا چاہیے تاکہ وہ غیر قانونی مطالبات کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکیں۔خاندانوں کو سماجی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے سادگی سے شادی کرنے کی روایت کو فروغ دینا چاہیے۔بیٹیوں کو تعلیم یافتہ اور خود مختار بنانے سے خاندان جہیز کے بوجھ سے بچ سکتے ہیں، کیونکہ خود مختار بیٹیاں اپنی شادی کے فیصلوں میں زیادہ بااختیار ہوتی ہیں۔
رتھنیا کا المناک واقعہ ایک بار پھر ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ جہیز کا رواج نہ صرف ایک سماجی ناسور ہے بلکہ یہ انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بھی بن رہا ہے۔ اس رواج کو ختم کرنے کے لیے نہ صرف حکومتی اور قانونی اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ رتھنیا جیسی خواتین کے لیے انصاف اور ایک محفوظ مستقبل کے لیے ہمیں مل کر اس سماجی برائی کے خلاف لڑنا ہوگا۔





















