لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے سابق آل راؤنڈر اظہر محمود کو قومی ٹیسٹ ٹیم کا عبوری ہیڈ کوچ مقرر کرنے کے فیصلے نے کرکٹ حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس اعلان کے اگلے ہی روز، سابق پاکستانی کرکٹر باسط علی نے ایک مقامی یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں، جنہوں نے پی سی بی کی فیصلہ سازی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ باسط علی نے دعویٰ کیا کہ اصل میں سابق کپتان مصباح الحق کو ٹیسٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بنایا جانا تھا، لیکن پی سی بی کے اندرونی دھڑے بندیوں اور اثر و رسوخ نے اس فیصلے کو بدل دیا۔
اظہر محمود کی تقرری
پاکستان کرکٹ بورڈ نے 30 جون 2025 کو باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ 50 سالہ سابق آل راؤنڈر اظہر محمود اپریل 2026 تک اپنے معاہدے کی مدت مکمل ہونے تک قومی ٹیسٹ ٹیم کے عبوری ریڈ بال ہیڈ کوچ کے طور پر ذمہ داریاں نبھائیں گے۔
اظہر محمود، جو اپریل 2024 میں دو سالہ معاہدے کے تحت پی سی بی سے وابستہ ہوئے تھے، اس سے قبل قومی ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ 2016 سے 2019 تک پاکستانی ٹیم کے بولنگ کوچ بھی رہ چکے ہیں اور انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ میں دو چیمپئن شپ ٹائٹلز جیتنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔
اظہر محمود کی کوچنگ میں پاکستان آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025-27 کا آغاز اکتوبر-نومبر 2025 میں جنوبی افریقہ کے خلاف دو میچوں کی ہوم سیریز سے کرے گا۔ اس کے بعد مارچ-اپریل 2026 میں بنگلہ دیش کے خلاف دو میچوں کی سیریز کھیلی جائے گی۔ یہ سیریز پاکستانی ٹیم کے لیے اہم ہیں، کیونکہ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں مستقل کارکردگی دکھانا پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
باسط علی کے انکشافات
سابق پاکستانی کرکٹر باسط علی، جنہوں نے 1993 سے 1996 تک 19 ٹیسٹ اور 50 ون ڈے میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی، نے ایک مقامی یوٹیوب چینل پر گفتگو کے دوران پی سی بی کے فیصلے کے پیچھے چھپے رازوں سے پردہ اٹھایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مصباح الحق، جو ماضی میں پاکستانی ٹیم کے کامیاب کپتان اور کوچ رہ چکے ہیں، کو ٹیسٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بنانے کا فیصلہ تقریباً طے ہو چکا تھا۔
باسط نے کہا، ’’مصباح الحق کا نام ہیڈ کوچ کے لیے فائنل ہو چکا تھا، لیکن پی سی بی کے اندر ہونے والی پس پردہ تبدیلیوں نے سب کچھ بدل دیا۔ ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید اور ٹی 20 کپتان سلمان علی آغا کی حمایت نے اس فیصلے کو پلٹ دیا، اور بالآخر اظہر محمود کو عبوری ہیڈ کوچ کا عہدہ سونپ دیا گیا۔‘‘ انہوں نے پوری ذمہ داری سے کہا کہ یہ فیصلہ سیاسی دباؤ اور ترجیحات کی تبدیلی کی وجہ سے ہوا۔
باسط نے مزید انکشاف کیا کہ سلمان علی آغا کے ’ووٹ‘ نے اس تقرری میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا، ’’کچھ باتیں ایسی ہیں جو ہم کھل کر نہیں کہہ سکتے، کیونکہ ہمیں احتیاط برتنی پڑتی ہے۔ لیکن یہ سچ ہے کہ سلمان کی رائے نے اس فیصلے کو حتمی شکل دی۔‘‘
پی سی بی کی فیصلہ سازی پر تنقید
54 سالہ باسط علی، جو ماضی میں قومی ویمن کرکٹ ٹیم کے کوچ بھی رہ چکے ہیں، نے پی سی بی کے غیر مستقل مزاج فیصلوں پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ماضی میں طے شدہ معاہدوں کو توڑ کر مینٹورز کو قبل از وقت فارغ کیا گیا، تو اسی طرح کے اصولوں کو دوسرے معاملات میں کیوں نہیں اپنایا جاتا؟
انہوں نے کہا، ’’پی سی بی نے اعلان کیا کہ اظہر محمود کا معاہدہ اپریل 2026 تک ہے، لیکن جن مینٹورز کے ساتھ تین سال کے معاہدے تھے، انہیں کیوں قبل از وقت ہٹایا گیا اور انہیں بھاری تنخواہوں کی ادائیگی کی گئی؟ اگر فیصلہ سازی میں انصاف کا پیمانہ استعمال کیا جا رہا ہے، تو یہ سب پر یکساں طور پر लागو ہونا چاہیے۔‘‘
باسط نے پی سی بی کی عارضی تقرریوں کے رجحان کو پاکستانی کرکٹ کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی غیر یقینی صورتحال ٹیم کی کارکردگی کو مسلسل متاثر کرتی ہے۔ اس سلسلے میں سابق کرکٹر کامران اکمل نے بھی باسط کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اظہر محمود کی تقرری کی منطق سمجھ سے باہر ہے۔ یہ عارضی فیصلے پاکستانی کرکٹ میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں۔‘‘
مصباح الحق کی ممکنہ واپسی
مصباح الحق، جنہوں نے 2010 سے 2017 تک پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کی کامیاب قیادت کی اور 2019 سے 2021 تک قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کے طور پر خدمات انجام دیں، حالیہ دنوں میں دوبارہ کوچنگ کے کردار کے لیے سرخیوں میں تھے۔ مئی 2025 میں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ پی سی بی مصباح کو ٹیسٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ باسط علی نے خود اس وقت مصباح کو مبارکباد دیتے ہوئے ایک پوسٹ شیئر کی تھی، لیکن پی سی بی کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی تھی۔
مصباح کی ممکنہ تقرری کو پاکستانی کرکٹ کے مداحوں نے بڑے پیمانے پر سراہا تھا، کیونکہ ان کی قیادت میں پاکستان نے 2016 میں ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر ایک پوزیشن حاصل کی تھی۔ تاہم، باسط کے انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی سی بی کے اندرونی اختلافات اور ترجیحات نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔
اظہر محمود کا پس منظر
اظہر محمود، جنہوں نے 1997 سے 2007 تک 21 ٹیسٹ اور 143 ون ڈے میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی، ایک تجربہ کار آل راؤنڈر ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز جنوبی افریقہ کے خلاف تین سنچریوں کے ساتھ کیا اور ون ڈے کرکٹ میں اپنی جارحانہ بلے بازی اور میڈیم فاسٹ بولنگ کے لیے مشہور رہے۔ وہ انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ میں بھی کامیاب رہے اور دوہری برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔
اظہر 2016 سے 2019 تک پاکستانی ٹیم کے بولنگ کوچ رہے اور اس دوران انہوں نے ٹیم کی بولنگ لائن اپ کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی حالیہ تقرری کو کچھ حلقوں نے ان کے تجربے کی بنیاد پر درست قرار دیا، لیکن باسط علی اور کامران اکمل جیسے سابق کھلاڑیوں نے اسے ’خوشنودی کی پالیسی‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔
پی سی بی پر دباؤ
پی سی بی کی فیصلہ سازی کا غیر مستقل مزاج طریقہ کار ماضی میں بھی تنقید کی زد میں رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں محمد حفیظ، وقار یونس، اور مکی آرتھر جیسے کوچز کی عارضی تقرریوں نے ٹیم کے استحکام پر سوالات اٹھائے ہیں۔ باسط علی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی کرکٹ کو طویل المدتی اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر فیصلوں کی ضرورت ہے تاکہ ٹیم عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کر سکے۔
ایک ایکس صارف نے اس حوالے سے لکھا، ’’پی سی بی کے فیصلے ہمیشہ تنازعات کا شکار رہتے ہیں۔ مصباح جیسا تجربہ کار شخص ٹیم کے لیے بہتر انتخاب ہوتا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’اظہر محمود اچھے کھلاڑی رہے، لیکن کوچنگ کے لیے کیا وہ واقعی تیار ہیں؟ پی سی بی کو شفافیت کے ساتھ فیصلے کرنے چاہئیں۔‘‘
اظہر محمود کی بطور عبوری ہیڈ کوچ تقرری اور باسط علی کے انکشافات نے پاکستانی کرکٹ میں ایک نئے تنازع کو جنم دیا ہے۔ باسط کے مطابق، مصباح الحق کی جگہ عاقب جاوید اور سلمان علی آغا کی حمایت سے اظہر محمود کو یہ عہدہ دیا گیا، جو پی سی بی کے اندرونی دھڑوں اور ترجیحات کی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ تقرری پاکستانی کرکٹ کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ٹیم کو آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ تاہم، پی سی بی کی فیصلہ سازی پر باسط علی اور کامران اکمل کی تنقید نے ایک بار پھر بورڈ کے غیر شفاف اور عارضی فیصلوں کو زیر بحث لا دیا ہے۔ پاکستانی کرکٹ کے مداح اب یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ کیا اظہر محمود اس عہدے پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں گے، یا یہ تقرری ایک اور عارضی فیصلہ ثابت ہوگی۔





















