نئی دہلی/کراچی: بھارت نے پاکستانی یوٹیوب چینلز اور کئی معروف فنکاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر عائد پابندی غیر متوقع طور پر ہٹا دی ہے، جس سے بھارتی شائقین ایک بار پھر پاکستانی ڈراموں، فلموں اور دیگر تفریحی مواد تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ یہ فیصلہ پاک-بھارت ثقافتی تعلقات میں ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو اپریل 2025 کے پہلگام حملے کے بعد سے کشیدگی کا شکار تھے۔
پہلگام حملے کے بعد پابندیاں
22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے ایک دہشت گرد حملے، جس میں 26 شہریوں کی جانیں گئیں، کے بعد بھارتی حکومت نے پاکستانی مواد اور فنکاروں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے۔ اس حملے کے جواب میں بھارتی فوج نے ’آپریشن سندور‘ شروع کیا، جس نے پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (PoJK) میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں بھارتی وزارت اطلاعات و نشریات نے پاکستانی یوٹیوب چینلز جیسے کہ جیو نیوز، اے آر وائی نیوز، ہمایوں ٹی وی، اور ہر پل جیو پر پابندی عائد کر دی۔ ساتھ ہی پاکستانی فنکاروں، کرکٹرز، اور دیگر معروف شخصیات کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، بشمول انسٹاگرام، کو بھارتی صارفین کے لیے بلاک کر دیا گیا۔
اس کے علاوہ، پاکستانی فنکاروں کی فلموں کی ریلیز بھی بھارت میں روک دی گئی۔ مثال کے طور پر، فواد خان کی فلم ’عبیر گلال‘، جو 9 مئی 2025 کو بھارتی سینما گھروں میں ریلیز ہونے والی تھی، ملتوی کر دی گئی۔ ہانیہ عامر کی فلم، جو دنیا بھر میں کامیابی سے ریلیز ہوئی، بھارت میں دکھائی نہ جا سکی۔ اسی طرح، بھارتی اداکار و گلوکار دلجیت دوسانجھ کی فلم ’سردار جی 3‘، جس میں ہانیہ عامر سمیت چار پاکستانی اداکار شامل تھے، کو بھی بھارت میں ریلیز سے روک دیا گیا، جس پر دلجیت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستانی مواد کی واپسی
1 جولائی 2025 سے، بھارتی صارفین نے نوٹ کیا کہ پاکستانی یوٹیوب چینلز جیسے کہ ہمایوں ٹی وی، اے آر وائی ڈیجیٹل، ہر پل جیو، اور گرین انٹرٹینمنٹ دوبارہ قابل رسائی ہو گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کئی پاکستانی فنکاروں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بھی بھارتی صارفین کے لیے کھل گئے ہیں، جن میں ماورا حسین، یمنیٰ زیدی، احد رضا میر، صبا قمر، اور دانش تیمور شامل ہیں۔ تاہم، کچھ معروف شخصیات جیسے کہ ماہرہ خان، فواد خان، ہانیہ عامر، وہاج علی، اقرا عزیز، عاطف اسلم، اور فرحان سعید کے اکاؤنٹس اب بھی بھارتی صارفین کے لیے بلاک ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پابندی کا خاتمہ جزوی اور انتخابی ہے۔
بھارتی وزارت اطلاعات و نشریات یا میٹا کی جانب سے اس پابندی کے خاتمے کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جس سے صارفین میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ ایک تکنیکی خرابی ہے یا حکومتی پالیسی میں تبدیلی کا نتیجہ۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، ’’ماورا حسین کا انسٹاگرام اکاؤنٹ اب بھارت میں دکھائی دے رہا ہے۔ کیا پابندی واقعی ختم ہو گئی ہے یا یہ انسٹاگرام کا کوئی گلچ ہے؟‘‘
پاکستانی ڈراموں کی مقبولیت
پابندی کے دوران پاکستانی ڈراموں کی بھارتی ناظرین کے درمیان مقبولیت میں کچھ کمی ضرور آئی، لیکن ’شیر‘، ’من مست ملنگ‘، ’ڈائن‘، اور ’پرورش‘ جیسے ڈراموں نے وی پی این کے ذریعے بھارتی شائقین کو اپنی طرف متوجہ رکھا۔ خاص طور پر دانش تیمور کے ڈراموں ’شیر‘ اور ’من مست ملنگ‘ نے پابندی کے باوجود بھارت میں خاصی شہرت حاصل کی۔ پابندی ہٹنے کے بعد شائقین کو امید ہے کہ یہ ڈرامے اب اور زیادہ ناظرین تک پہنچیں گے۔
ایک بھارتی مداح نے ایکس پر لکھا، ’’دانش تیمور کا ’شیر‘ اب ایک بلین ویوز کا ہدف تیزی سے عبور کرے گا۔ یہ ’تیرے بن‘ کا ریکارڈ توڑ دے گا۔‘‘ ایک اور صارف نے کہا، ’’پاکستانی ڈراموں کی واپسی خوش آئند ہے، لیکن اب پاکستانی انڈسٹری کو معیاری مواد پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تاکہ عالمی سطح پر مقابلہ کیا جا سکے۔‘‘
شائقین کا ردعمل
بھارتی شائقین نے اس فیصلے کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے۔ ایک ریڈٹ صارف نے لکھا، ’’دیکھا جائے تو یہ پابندی شروع سے ہی غیر ضروری تھی۔ پاکستانی ڈراموں اور فنکاروں کا بھارت میں بڑا فین بیس ہے، اور اسے روکنا فن کے ساتھ ناانصافی تھی۔‘‘ ایک اور صارف نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’دیش بھکتی کا ڈرامہ ختم ہوا، ووٹ مل گئے، اب پابندی ہٹائیں۔ پاک بھارت میچ آئے گا تو سب بھول جائیں گے۔‘‘
کچھ شائقین نے دلجیت دوسانجھ کی فلم ’سردار جی 3‘ کی بھارت میں ریلیز کے امکانات پر بھی تبصرہ کیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’کیا اب دلجیت اور ہانیہ کی فلم بھارت میں ریلیز ہوگی؟ یہ فیصلہ اس طرف اشارہ کرتا ہے۔‘‘ تاہم، ہانیہ عامر کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پابندی برقرار ہونے کی وجہ سے اس فلم کی ریلیز کے بارے میں شکوک و شبہات موجود ہیں۔
ثقافتی تعلقات پر اثرات
ماہرین کے مطابق، پاکستانی یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کا خاتمہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات کے حوالے سے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ پاکستانی ڈراموں اور فنکاروں کا بھارت میں ایک بڑا مداح طبقہ موجود ہے، جو برسوں سے ان کے مواد سے لطف اندوز ہوتا رہا ہے۔ ماہرہ خان کی فلم ’رئیس‘ سے لے کر ہانیہ عامر کے ڈراموں تک، پاکستانی فنکاروں نے بھارتی ناظرین کے دلوں میں گہری جگہ بنائی ہے۔
ایک تجزیہ کار نے کہا، ’’یہ فیصلہ پاک-بھارت تعلقات میں نرمی کی ایک چھوٹی سی علامت ہو سکتا ہے۔ فن اور ثقافت ہمیشہ سے دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے رہے ہیں، اور اس پابندی کے خاتمے سے پاکستانی انڈسٹری کو اپنی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرنے کا موقع ملے گا۔‘‘
تاہم، کچھ ماہرین نے خبردار کیا کہ یہ پابندی کا جزوی خاتمہ ہے، اور ماہرہ خان، فواد خان، اور ہانیہ عامر جیسے بڑے ناموں کے اکاؤنٹس اب بھی بلاک ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت نے انتخابی طور پر کچھ اکاؤنٹس کو بحال کیا ہے، شاید ان فنکاروں کو ترجیح دی گئی جنہوں نے ’آپریشن سندور‘ پر تنقید نہیں کی یا جن کا بھارت میں تنازعات سے کم تعلق تھا۔
پاکستانی انڈسٹری کے لیے موقع
اس پابندی کے خاتمے سے پاکستانی تفریحی انڈسٹری کے لیے بھارتی مارکیٹ دوبارہ کھل گئی ہے، جو مالی اور شہرت کے لحاظ سے ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، ’’پاکستانی انڈسٹری کو اب اپنے مواد کے معیار پر توجہ دینی چاہیے۔ بھارت جیسے بڑے فین بیس کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے کہانیوں اور پروڈکشن کو عالمی معیار پر لانا ہوگا۔‘‘
دانش تیمور کے مداحوں نے خاص طور پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ایک مداح نے کہا، ’’دانش تیمور کا ’شیر‘ پابندی کے دوران بھی بھارت میں مقبول تھا۔ اب یہ ڈرامہ یقیناً نئے ریکارڈ قائم کرے گا۔‘‘
بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستانی یوٹیوب چینلز اور کچھ فنکاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی ہٹانے کا فیصلہ پاک-بھارت ثقافتی تعلقات کے لیے ایک اہم موڑ ہے۔ اگرچہ یہ پابندی جزوی طور پر ہٹی ہے اور کئی معروف فنکاروں کے اکاؤنٹس اب بھی بلاک ہیں، لیکن اس سے پاکستانی انڈسٹری کو بھارتی ناظرین تک دوبارہ رسائی کا موقع ملا ہے۔ پاکستانی ڈراموں کی مقبولیت اور فنکاروں کے فین بیس کو دیکھتے ہوئے، یہ فیصلہ نہ صرف شائقین کے لیے خوشی کا باعث ہے بلکہ پاکستانی تفریحی انڈسٹری کے لیے بھی ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنے معیاری مواد سے بھارتی مارکیٹ میں اپنی جگہ مزید مستحکم کرے۔ تاہم، اس فیصلے کے پیچھے بھارتی حکومت کے مقاصد اور انتخابی پالیسی پر سوالات اب بھی موجود ہیں، جن کا جواب آنے والے دنوں میں واضح ہو سکتا ہے۔





















