قازقستان میں عوامی مقامات پر حجاب پر پابندی، صدر نے بل پر دستخط کر دئیے

عوامی مقامات پر ایسی لباس پہننے پر پابندی ہوگی جو چہرے کی شناخت میں رکاوٹ بنتا ہو

آستانہ :وسطی ایشیا کی اہم ریاست قازقستان نے عوامی مقامات پر چہرے کو چھپانے والے لباس، خاص طور پر نقاب، پر پابندی عائد کر دی ہے۔ صدر قاسم جومارت توقایف نے اس سلسلے میں ایک تاریخی بل پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت عوامی مقامات پر ایسی لباس پہننے پر پابندی ہوگی جو چہرے کی شناخت میں رکاوٹ بنتا ہو۔ اس قانون کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا اور سیکولر اقدار کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔

صدر توقایف نے اس قانون کے حق میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ قازقستان کی ثقافتی اور قومی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے روایتی لباس کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ چہرے کو مکمل طور پر ڈھانپنے والے لباس، جیسے کہ نقاب یا برقعہ، قازقستان کی ثقافت کا حصہ نہیں ہیں اور یہ قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔

اس قانون میں چند استثنائی صورتوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جن میں طبی وجوہات، موسم کی شدت، پیشہ ورانہ تقاضے، ثقافتی تقریبات، یا سول ڈیفنس کے مقاصد کے لیے چہرہ ڈھانپنے کی اجازت ہوگی۔ تاہم، عمومی طور پر عوامی مقامات پر چہرے کی شناخت کو یقینی بنانے کے لیے یہ پابندی نافذ العمل ہوگی۔

قازقستان سے قبل وسطی ایشیا کے دیگر ممالک، جیسے کہ تاجکستان اور ازبکستان، نے بھی اسلامی لباس کے بعض انداز، خاص طور پر نقاب اور برقعہ، پر پابندی عائد کی ہے۔ یہ اقدام وسطی ایشیا میں بڑھتی ہوئی سیکولر تحریکوں اور مذہبی شدت پسندی کے خلاف اقدامات کا حصہ ہے۔

پس منظر

یہ پابندی نہ صرف سیکولر اصولوں کو تقویت دینے کی کوشش ہے بلکہ قازقستان کی روایتی ثقافت کو فروغ دینے کی حکومتی پالیسی کا بھی حصہ ہے۔ صدر توقایف نے رواں سال کے شروع میں کہا تھا کہ ’’سیاہ چہرے ڈھانپنے والے لباس کے بجائے قومی انداز کے لباس پہننا زیادہ بہتر ہے۔‘‘ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قانون نہ صرف سلامتی بلکہ قومی شناخت کے تحفظ کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

سماجی اثرات اور چیلنجز

یہ پابندی قازقستان کے معاشرے میں ایک اہم بحث کو جنم دے رہی ہے، کیونکہ یہ مذہبی آزادی اور ذاتی انتخاب کے حقوق سے متصادم ہوتی ہے۔ اگرچہ حکومت کا موقف ہے کہ یہ اقدام سیکولر اقدار اور قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے، لیکن اس سے کچھ حلقوں میں ناراضی بھی پائی جا رہی ہے، خصوصاً ان خواتین میں جو نقاب کو اپنی مذہبی یا ذاتی شناخت کا حصہ سمجھتی ہیں۔

ممکنہ اثرات:

ثقافتی شناخت کا تحفظ: حکومت کا خیال ہے کہ یہ قانون قازقستان کی روایتی ثقافت کو فروغ دے گا اور غیر ملکی ثقافتی اثرات کو کم کرے گا۔
مذہبی آزادی پر سوالات: نقاب پر پابندی سے کچھ خواتین کی مذہبی اور ذاتی آزادی متاثر ہو سکتی ہے، جو اسے اپنے عقیدے کا حصہ سمجھتی ہیں۔ اس سے معاشرتی تناؤ بڑھ سکتا ہے۔
قومی سلامتی: حکام کا دعویٰ ہے کہ چہرے کو ڈھانپنے والے لباس سے شناخت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جو دہشت گردی یا دیگر جرائم کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔
سماجی تقسیم: یہ قانون معاشرے میں تقسیم پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ کچھ لوگ اسے سیکولر ازم کے نام پر مذہبی اقلیتوں پر حملہ سمجھیں گے۔

اس پابندی سے نمٹنے کے طریقے:

بیداری مہمات: عوام میں اس قانون کے مقاصد اور فوائد کے بارے میں آگاہی پھیلائی جائے تاکہ غلط فہمیاں دور ہوں۔
مشاورت: متاثرہ کمیونٹیز، خاص طور پر خواتین، کے ساتھ مشاورت کی جائے تاکہ ان کے خدشات کو سمجھا جا سکے اور متبادل حل تلاش کیے جائیں۔
تعلیم و تربیت: سیکولر اقدار اور قومی شناخت کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی اداروں میں پروگرامز شروع کیے جائیں۔
مذہبی رہنماؤں کی شمولیت: مقامی مذہبی رہنماؤں کو شامل کرکے یہ پیغام دیا جائے کہ نقاب اسلامی عقائد کا لازمی حصہ نہیں ہے، جیسا کہ حکام نے دعویٰ کیا ہے۔
شفاف عمل درآمد: قانون کے نفاذ میں شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنایا جائے تاکہ اسے مذہبی اقلیتوں کے خلاف تعصب کے طور پر نہ دیکھا جائے۔

قازقستان کا یہ اقدام سیکولر شناخت اور قومی سلامتی کے تحفظ کی کوشش ہے، لیکن اس سے معاشرتی ہم آہنگی اور مذہبی آزادی پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس قانون کو کامیابی سے نافذ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومتی اقدامات تمام شہریوں کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے شامل کیے جائیں۔ قازقستان کی یہ پالیسی وسطی ایشیا میں سیکولر ازم کے بڑھتے رجحان کی عکاسی کرتی ہے، لیکن اس کے طویل مدتی اثرات کا انحصار اس کے نفاذ اور عوامی ردعمل پر ہوگا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین