کینسرکے علاج کے بعد کا وقت بہت زیادہ مشکل ہو تا ہے ،برطانوی شہزادی کیٹ مڈلٹن

لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو چکا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے

لندن:برطانوی شہزادی کیٹ مڈلٹن، پرنسز آف ویلز نے کینسر سے صحت یابی کے اپنے مشکل سفر کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علاج کے بعد کا مرحلہ سب سے زیادہ کٹھن ہوتا ہے، جب لوگ یہ توقع کرتے ہیں کہ مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو چکا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ 43 سالہ شہزادی اس وقت کینسر کے علاج کے بعد مکمل صحت یابی کی راہ پر گامزن ہیں۔
کولچیسٹر اسپتال میں واقع کینسر ویلبیئنگ سینٹر کے حالیہ دورے کے دوران، کیٹ مڈلٹن نے اپنی ذاتی کہانی شیئر کی اور کینسر کے مریضوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے نام پر لگائے گئے پھول کیتھرین روز کی شجر کاری کی تقریب میں بھی حصہ لیا۔ شہزادی نے کینسر سے متاثرہ افراد کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کینسر کی تشخیص زندگی کو مکمل طور پر بدل دیتی ہے۔
انہوں نے کہاجب علاج مکمل ہو جاتا ہے، تو لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ بالکل ٹھیک ہو گئے ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب جسمانی اور ذہنی بحالی کا اصل سفر شروع ہوتا ہے۔ بظاہر مسکراتے چہرے کے پیچھے ایک طویل جدوجہد چھپی ہوتی ہے، جسے لوگ اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

کینسر کے علاج کے بعد کی مشکلات

شہزادی کیٹ نے کینسر کے علاج کے بعد کے مرحلے کو سب سے مشکل قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب معاشرہ اور خاندان مریض سے معمول کی زندگی کی توقع رکھتا ہے، لیکن مریض کو جسمانی کمزوری، ذہنی دباؤ، اور جذباتی چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مرحلے میں مریضوں کو نہ صرف طبی امداد بلکہ جذباتی اور نفسیاتی مدد کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

کینسر ویلبیئنگ سینٹر کا دورہ

کولچیسٹر اسپتال کے کینسر ویلبیئنگ سینٹر کے دورے کے دوران، شہزادی نے مریضوں سے ان کی کہانیاں سنیں اور ان کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کیں۔ انہوں نے سینٹر کے عملے کی کاوشوں کو سراہا جو کینسر کے مریضوں کی دیکھ بھال اور بحالی کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ کیٹ نے کہا کہ ایسے ادارے مریضوں کے لیے امید کی کرن ہیں، جو انہیں نہ صرف علاج بلکہ زندگی کی طرف واپس لوٹنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔دورے کے دوران، شہزادی نے اپنے نام پر منسوب پھول کیتھرین روز کی شجر کاری کی تقریب میں شرکت کی۔ یہ پھول ان کی صحتیابی اور امید کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ کیٹ نے اس موقع پر کہا کہ یہ پھول ان تمام لوگوں کی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے جو کینسر کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

عوامی ردعمل اور شہزادی کی اپیل

شہزادی کیٹ مڈلٹن کی کینسر سے متعلق کھلے عام بات کرنے کو عوام اور میڈیا کی جانب سے بے حد سراہا جا رہا ہے۔ ان کی اس جرات مندانہ گفتگو نے کینسر سے متعلق معاشرتی رویوں کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ کینسر کے مریضوں کے ساتھ ہمدردی اور صبر سے پیش آیا جائے، کیونکہ ان کا سفر علاج کے خاتمے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔

شہزادی کی صحتیابی کی پیشرفت

مارچ میں کیٹ مڈلٹن نے اپنی کینسر کی تشخیص کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے کیموتھراپی کا کورس مکمل کیا۔ ستمبر 2024 میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ کیموتھراپی سے فارغ ہو چکی ہیں اور اب صحتیابی کی طرف گامزن ہیں۔ ان کا حالیہ دورہ اور عوامی تقریبات میں شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ آہستہ آہستہ اپنی زندگی کے معمولات کی طرف لوٹ رہی ہیں۔

شہزادی کیٹ مڈلٹن کی کہانی نہ صرف ان کی ذاتی ہمت اور عزم کی عکاسی کرتی ہے بلکہ کینسر سے لڑنے والے لاکھوں افراد کے لیے ایک پیغام امید بھی ہے۔ ان کی گفتگو سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کینسر سے صحتیابی کا سفر صرف طبی علاج تک محدود نہیں، بلکہ اس میں جذباتی اور ذہنی بحالی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کینسر ویلبیئنگ سینٹر جیسے اداروں کی حمایت اور معاشرتی ہمدردی اس سفر کو آسان بنانے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین