پاک بھارت جنگ میں غیبی مدد ملی، ایران کی کامیابی کے پیچھے ’’وردی‘‘ بھی ہے: محسن نقوی

اسلام آباد: محرم الحرام کے موقع پر امن و امان کے لیے علماء کرام کے ساتھ اہم اجلاس

اسلام آباد:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت محرم الحرام کے دوران امن و امان کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان کو غیبی مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی کامیابی کے پیچھے وردی ہے۔ اجلاس میں علماء کرام اور دیگر مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد سمیت دیگر اہم رہنماؤں نے بھی حصہ لیا۔

اجلاس کا مقصد

اجلاس کا بنیادی مقصد محرم الحرام کے دوران ملک بھر میں امن و امان کو یقینی بنانا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے علماء کرام کی امن کے قیام میں کردار کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ علماء نے ہمیشہ قیام امن میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین ایک جامع کردار ادا کریں۔ انہوں نے "اپنا مسلک چھوڑو نہ، اور کسی کا مسلک چھیڑو نہ” کی تھیم پر زور دیا، جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت ہے۔

پاک بھارت کشیدگی اور غیبی مدد

اپنے خطاب کے دوران محسن نقوی نے پاک-بھارت کشیدگی کے تناظر میں اہم انکشافات کیے۔ انہوں نے کہا کہ پاک-بھارت جنگ کے دوران پاکستان کو غیبی مدد حاصل ہوئی۔ انہوں نے ایک واقعے کا ذکر کیا کہ جب پاکستان نے بھارت کے خلاف میزائل فائر کیے تو وہ بھارت کے سب سے بڑے آئل ڈپو میں جا کر لگے، حالانکہ کوشش کی گئی تھی کہ شہری آبادی کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ میزائلوں کے ہدف کے نمبروں میں معمولی ردوبدل کے باوجود یہ حملہ کامیاب رہا۔اسی طرح، انہوں نے بتایا کہ بھارت نے پاکستانی بیس پر تقریباً 11 میزائل فائر کیے، جہاں پاکستانی جہاز اور فوجی موجود تھے۔ تاہم، خدشات کے برعکس، بھارتی میزائلوں سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ محسن نقوی نے اسے غیبی مدد کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرمی چیف نے واضح کیا تھا کہ اگر بھارت نے حملہ کیا تو اسے اس سے کہیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔

ایران اسرائیل تنازع

وفاقی وزیر داخلہ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جنگ بندی کے حوالے سے بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی کامیابی اور جنگ بندی میں وزیر اعظم پاکستان کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کے پیچھے ’’وردی‘‘ کو خراج تحسین پیش کیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ عالمی رہنماؤں کو قائل کرنے اور سفارتی کوششوں میں پاکستانی قیادت نے غیر معمولی کردار ادا کیا، جس پر ہر پاکستانی کو فخر ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا لیکن اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی قیادت کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔

محسن نقوی کا یہ بیان نہ صرف ملکی امن و امان کے حوالے سے ایک اہم پیغام دیتا ہے بلکہ پاکستان کی عسکری اور سفارتی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ علماء کرام کے ساتھ مل کر محرم الحرام کے دوران فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوشش قابل تحسین ہے۔ ان کا "اپنا مسلک چھوڑو نہ، اور کسی کا مسلک چھیڑو نہ” کا پیغام ایک مثبت اور جامع نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے، جو پاکستان جیسے متنوع معاشرے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

پاکبھارت کشیدگی کے دوران غیبی مدد کے ذکر سے پاکستانی عوام میں حب الوطنی اور عسکری قوت پر اعتماد بڑھے گا۔ اسی طرح، ایران-اسرائیل تنازع میں پاکستان کے کردار کی بات عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ یہ بیانات پاکستانی قیادت کی اسٹریٹجک سوچ اور عالمی امور میں فعال کردار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ اجلاس اور وفاقی وزیر داخلہ کے بیانات ملک کے اندرونی استحکام اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو مضبوط کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین