سانحہ دریائے سوات، تحقیقاتی رپورٹ میں ملبہ سیاحوں پر ڈال دیا گیا

2 جون سے ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی، جسے 24 جون کو توسیع دیتے ہوئے دریائے سوات میں نہانے اور کشتی رانی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی

سوات کے خوبصورت وادی میں واقع دریائے سوات میں پیش آنے والے ایک افسوسناک سیلابی سانحے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے کمشنر مالاکنڈ کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ صوبائی انسپیکشن ٹیم کو ارسال کر دی گئی ہے، جس میں سانحے کے اسباب، حالات، اور حکومتی اقدامات کی تفصیلات شامل ہیں۔ یہ رپورٹ نہ صرف واقعے کی وجوہات کو واضح کرتی ہے بلکہ متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں اور کوتاہیوں پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔

واقعے کی تفصیلات

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، شدید بارشوں کی وجہ سے دریائے سوات کی سطح 77,782 کیوسک تک بلند ہو گئی تھی۔ اس صورتحال میں 17 سیاح سیلابی پانی میں پھنس گئے، جن میں سے 10 کا تعلق سیالکوٹ سے، 6 کا مردان سے، اور ایک مقامی شخص تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دریائے سوات میں جاری تعمیراتی کام کی وجہ سے پانی کا رخ دوسری جانب موڑ دیا گیا تھا، جس سے جائے حادثہ پر پانی کی سطح عارضی طور پر کم ہو گئی۔ اسی وجہ سے سیاح اس علاقے میں داخل ہوئے۔

واقعے کے مطابق، متاثرہ سیاح صبح 8:31 بجے ہوٹل پہنچے اور 9:31 بجے دریا میں داخل ہوئے۔ ہوٹل کے سیکیورٹی گارڈ نے سیاحوں کو روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ ہوٹل کے عقبی راستے سے دریا کی طرف چلے گئے۔ صرف 14 منٹ بعد، یعنی 9:45 بجے، پانی کی سطح اچانک بڑھنے پر ریسکیو ٹیم کو کال کی گئی۔ متعلقہ حکام 20 منٹ بعد 10:05 بجے جائے وقوع پر پہنچے۔

حکومتی اقدامات اور تیاری

رپورٹ کے مطابق، سیلاب کے خطرات کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو پہلے سے الرٹ جاری کیا جا چکا تھا۔ خراب موسم کے حوالے سے متعدد الرٹس متعلقہ اداروں کو موصول ہوئے تھے، اور ایمرجنسی حالات کے لیے متعلقہ افسران کی ڈیوٹیاں بھی لگائی جا چکی تھیں۔ اس کے علاوہ، دریا کے کنارے قائم غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن کا فیصلہ سیلاب سے قبل ہی کیا جا چکا تھا۔
مالاکنڈ ڈویژن میں 2 جون سے ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی، جسے 24 جون کو توسیع دیتے ہوئے دریائے سوات میں نہانے اور کشتی رانی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس کے باوجود، سیاحوں کی جانب سے احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی کی گئی۔

ریسکیو آپریشن اور نقصانات

رپورٹ کے مطابق، 17 میں سے 4 سیاحوں کو فوری طور پر ریسکیو کر لیا گیا، جبکہ 12 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ ایک شخص کی تلاش ابھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ، سوات کے مختلف علاقوں سے مجموعی طور پر 75 افراد کے بہہ جانے کی اطلاعات ہیں، جو اس سانحے کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔
حادثے کے بعد فوری ایکشن لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی، خوازہ خیلہ سوات، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر سوات، اور تحصیل میونسپل آفیسر سوات کو معطل کر دیا گیا۔ 28 جون کو چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا نے جائے وقوع کا دورہ کیا اور ہر قسم کی مائننگ پر پابندی عائد کر دی۔

عوامی ردعمل اور مطالبات

سانحے کے بعد عوام کی جانب سے تمام ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر پیشگی حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کیا جاتا تو یہ سانحہ ٹل سکتا تھا۔

حکومتی فیصلے

خیبر پختونخوا حکومت نے اس سانحے کے بعد ریسکیو آپریشنز کو بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، جیسے کہ ڈرونز، کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مستقبل میں ایسی ہنگامی صورتحال سے بہتر طریقے سے نمٹنا ہے۔

تجزیہ

یہ سانحہ کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ سب سے پہلے، اگرچہ حکومتی اداروں نے سیلاب کے خطرات کے پیش نظر الرٹس جاری کیے اور دفعہ 144 نافذ کی، لیکن اس پر عملدرآمد کی کمی واضح ہے۔ سیاحوں کی جانب سے حفاظتی ہدایات کی خلاف ورزی نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا، لیکن یہ سوال اہم ہے کہ ہوٹل انتظامیہ اور مقامی حکام سیاحوں کو خطرناک علاقوں میں جانے سے روکنے میں کیوں ناکام رہے۔

دوسری جانب، دریائے سوات میں تعمیراتی کام اور پانی کے رخ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ بھی ایک اہم عنصر ثابت ہوا۔ اگرچہ اس سے پانی کی سطح عارضی طور پر کم ہوئی، لیکن اس کے خطرات سے متعلق واضح ہدایات یا نگرانی کا فقدان نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ، ریسکیو آپریشن میں 20 منٹ کی تاخیر، جو کہ ایمرجنسی حالات میں قیمتی وقت ہے، بھی ایک اہم کوتاہی ہے۔

حکومت کی جانب سے فوری معطلی اور مائننگ پر پابندی کے اقدامات قابل ستائش ہیں، لیکن یہ اقدامات سانحے کے بعد اٹھائے گئے۔ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات، بہتر نگرانی، اور عوامی آگاہی مہمات کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ڈرونز کے استعمال کا فیصلہ ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر تربیت یافتہ ریسکیو ٹیمیں اور جدید آلات کی دستیابی بھی ناگزیر ہے۔

سوات کا یہ سانحہ ایک المناک یاد دہانی ہے کہ قدرتی آفات کے سامنے تیاری اور احتیاط کتنی اہم ہے۔ حکومتی اداروں، مقامی انتظامیہ، اور عوام سب کو مل کر ذمہ داری لینا ہو گی تاکہ مستقبل میں ایسی تباہی سے بچا جا سکے۔ اس سانحے سے سبق سیکھتے ہوئے، خیبر پختونخوا حکومت کو چاہیے کہ وہ نہ صرف اپنے نظام کو مضبوط کرے بلکہ سیاحوں کے لیے محفوظ مقامات اور واضح ہدایات کو یقینی بنائے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین