کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان اور آل راؤنڈر شاداب خان اپنی کندھے کی تکلیف کے باعث کرکٹ سے تین ماہ تک دور رہ سکتے ہیں۔ ان کی سرجری آج (جمعہ) لندن میں ہوگی، جس کے باعث وہ بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کے خلاف آئندہ سیریز کے علاوہ مجوزہ ٹرائی نیشن سیریز اور ممکنہ طور پر ستمبر میں ہونے والے ایشیا کپ سے بھی باہر ہو سکتے ہیں۔ مکمل بحالی کے لیے انہیں 6 سے 12 ہفتوں کا وقت درکار ہوگا، جو ان کے بحالی کے عمل کی رفتار پر منحصر ہے۔
انجری کی تفصیلات
شاداب خان کو گزشتہ کچھ عرصے سے دائیں کندھے میں مسلسل تکلیف کا سامنا تھا، جس نے ان کی گیند پھینکنے اور باؤلنگ کی صلاحیت کو متاثر کیا۔ ذرائع کے مطابق، یہ مسئلہ اس وقت سنگین ہوا جب مئی-جون 2025 میں بنگلہ دیش کے خلاف ہوم ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوران انہیں گگلی کرتے ہوئے شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سیریز میں شاداب نے تین میچوں میں 4 وکٹیں حاصل کیں اور دو اننگز میں 55 رنز بنائے، لیکن ان کی کارکردگی پر واضح طور پر انجری کے اثرات نمایاں تھے۔
شاداب حال ہی میں چھٹیاں منانے کے لیے برطانیہ گئے تھے، جہاں انہوں نے اپنے کندھے کا ایم آر آئی اسکین کرایا۔ اسکین کے نتائج سے انجری کی شدت کا انکشاف ہوا، اور لندن کے ایک ماہر سرجن نے فوری سرجری کا مشورہ دیا تاکہ طویل مدتی نقصان سے بچا جا سکے۔ شاداب نے اپنے کیریئر کی لمبی عمر کو ترجیح دیتے ہوئے سرجری کا فیصلہ کیا، کیونکہ وہ 26 سال کی عمر میں اپنی صلاحیتوں کے عروج پر ہیں اور آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کو چیمپیئن بنانے کا خواب رکھتے ہیں۔
شاداب کا کرکٹ کیریئر
شاداب خان پاکستان کرکٹ ٹیم کے اہم ستونوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے 6 ٹیسٹ، 70 ون ڈے انٹرنیشنل، اور 112 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔ اس دوران انہوں نے 1,947 رنز بنائے اور 211 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کی آل راؤنڈ صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ شاداب نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2025 میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی کپتانی کی، لیکن ان کی ٹیم ٹائٹل کا دفاع نہ کر سکی۔ اس کے باوجود، انہوں نے 9 اننگز میں 14 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کی باؤلنگ کی مہارت کو ظاہر کرتا ہے۔
رواں سال کے شروع میں شاداب کو پاکستان کی وائٹ بال ٹیم کا نائب کپتان مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز میں کپتان سلمان علی آغا کے ساتھ مل کر ٹیم کی قیادت کی۔ بنگلہ دیش کے خلاف 3-0 سے کامیابی نے ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا، لیکن انجری نے ان کے کیریئر کو ایک عارضی دھچکا دیا ہے۔
سرجری اور بحالی
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے میڈیکل پینل نے شاداب کی سرجری کے فیصلے کی تصدیق کی ہے اور وہ ان کے لندن میں موجود سرجن کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں گے تاکہ بحالی کے عمل کی نگرانی کی جا سکے۔ چونکہ شاداب پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑی ہیں، اس لیے ان کے میڈیکل اخراجات بورڈ کی جانب سے پورے کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق، سرجری کے بعد شاداب کو کم از کم 6 سے 12 ہفتوں کی بحالی درکار ہوگی۔ اس دوران وہ فزیوتھراپی اور مخصوص مشقوں پر توجہ دیں گے تاکہ اپنے کندھے کی مکمل طاقت بحال کر سکیں۔ بحالی کی کامیابی ان کے کیریئر کے لیے اہم ہوگی، کیونکہ وہ پاکستان کے سب سے کامیاب ٹی ٹوئنٹی باؤلرز میں سے ایک ہیں اور ان کی فیلڈنگ کی مہارت بھی ٹیم کے لیے ناقابل تلافی ہے۔
پاکستان ٹیم پر اثرات
شاداب کی غیر موجودگی پاکستان ٹیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، خاص طور پر جب ٹیم کو رواں ماہ بنگلہ دیش کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کھیلنی ہے، جو 20، 22، اور 24 جولائی کو ڈھاکہ کے شیر بنگلہ نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں شیڈول ہیں۔ اس کے علاوہ، اگست میں ویسٹ انڈیز کا دورہ اور افغانستان اور یو اے ای کے ساتھ مجوزہ ٹرائی نیشن سیریز بھی ہے۔ اگر ایشیا کپ ستمبر 2025 میں ہوتا ہے، تو شاداب کی شرکت بھی مشکوک ہے، کیونکہ بحالی کا عمل اس وقت تک مکمل نہ ہونے کا امکان ہے۔
پی سی بی نے شاداب کی جگہ ٹی ٹوئنٹی نائب کپتانی کے لیے وکٹ کیپر بیٹر محمد حارث کو مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا ہے۔ حارث نے پاکستان اے، شاہینز، اور چیمپیئنز کپ جیسے ٹورنامنٹس میں قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، بنگلہ دیش سیریز کے لیے ٹیم میں نئے چہروں جیسے کہ بائیں ہاتھ کے اسپنر سفیان مقیم کو موقع دیے جانے کی توقع ہے۔ تاہم، فاسٹ باؤلرز نسیم شاہ اور محمد وسیم جونیئر کی فٹنس بھی مشکوک ہے، جو ٹیم کے چیلنجز کو مزید بڑھاتی ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
شاداب کی انجری کی خبر نے سوشل میڈیا پر مداحوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، ’’شاداب خان ہماری ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔ ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں۔‘‘ ایک اور صارف نے کہا، ’’شاداب کی غیر موجودگی سے ٹیم کو بڑا نقصان ہوگا، لیکن یہ سرجری ان کے طویل کیریئر کے لیے ضروری ہے۔‘‘ کچھ مداحوں نے پی سی بی سے مطالبہ کیا کہ وہ شاداب کی بحالی کے لیے بہترین سہولیات فراہم کرے تاکہ وہ جلد میدان میں واپس آ سکیں۔
شاداب کا عزم
شاداب خان نے سرجری سے قبل اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ اپنے کیریئر کے ایک اہم موڑ پر ہیں اور اس انجری کو نظر انداز کرنا ان کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کو عالمی چیمپیئن بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سرجری انہیں اپنی بہترین کارکردگی بحال کرنے میں مدد دے گی۔
شاداب خان کی انجری اور سرجری پاکستان کرکٹ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ وہ نہ صرف ایک شاندار آل راؤنڈر ہیں بلکہ ٹیم کی قیادت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی غیر موجودگی سے پاکستان کی وائٹ بال ٹیم کو باؤلنگ اور بیٹنگ دونوں شعبوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ایشیا کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹ میں۔ تاہم، شاداب کا سرجری کا فیصلہ درست ہے، کیونکہ طویل مدتی نقصان سے بچنے کے لیے فوری علاج ضروری تھا۔
پی سی بی کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ نئے کھلاڑیوں کو آزمائیں اور ٹیم میں گہرائی پیدا کریں۔ محمد حارث اور سفیان مقیم جیسے نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے سے ٹیم کو مستقبل کے لیے نئے آپشنز مل سکتے ہیں۔ شاداب کی بحالی کے عمل میں پی سی بی کی حمایت اور بہترین میڈیکل سہولیات ان کی جلد واپسی کے لیے کلیدی ہوں گی۔ اگر شاداب مقررہ وقت میں مکمل فٹ ہو جاتے ہیں، تو وہ 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کے لیے ایک بڑی طاقت ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کی جلد صحت یابی پاکستان کرکٹ کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ وہ ٹیم کے چند مستقل ستاروں میں سے ایک ہیں۔





















