لاہور (محمد کاشف جان) لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق درج 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ کی طرف سے پیش کردہ شواہد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان ان واقعات کی سازش اور معاونت میں شریک رہے۔
ریاستی اداروں پر حملے کی منصوبہ بندی
دو رکنی بنچ، جس کی سربراہی جسٹس سید شہباز علی رضوی کر رہے تھے، نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے پارٹی قیادت کے ساتھ میٹنگز میں حساس مقامات پر حملوں کی منصوبہ بندی کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ان کے خلاف پیش کیے گئے شواہد، خاص طور پر گواہوں کے بیانات، آڈیو وڈیو ریکارڈنگز اور دیگر مواد، ان کے ریاستی اداروں کے خلاف سازش میں شریک ہونے کو ظاہر کرتے ہیں۔
عمران خان نے تفتیشی اداروں سے تعاون نہیں کیا: عدالت
تحریری فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان نے دورانِ تفتیش پولی گراف (جھوٹ پکڑنے والے ٹیسٹ)، فوٹو گرامیٹری اور وائس میچنگ جیسے اہم ٹیسٹوں سے انکار کیا، جو کہ ان کی نیت اور کردار پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ عمران خان کی جانب سے عدم تعاون تفتیش میں رکاوٹ کا باعث بنا اور یہ ضمانت کے لیے موزوں رویہ نہیں تھا۔
مقدمات کی تفصیل
تحریری فیصلے کے مطابق، عمران خان کے خلاف درج مقدمات میں درج ذیل الزامات شامل تھے:
جناح ہاؤس لاہور پر حملے کی سازش
کور کمانڈر ہاؤس کو نقصان پہنچانے کی ترغیب
پولیس اسٹیشنوں پر حملوں کی منصوبہ بندی
سرکاری و حساس عمارات پر عوام کو اکسانا
ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ پھیلانا
ان مقدمات میں انسدادِ دہشت گردی، سنگین غداری اور فساد پھیلانے کی دفعات شامل ہیں۔
پراسیکیوشن کے دلائل
پراسیکیوٹر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 4 مئی اور 7 مئی کو ہونے والی پارٹی میٹنگز میں عمران خان نے دیگر پارٹی رہنماؤں کو ہدایات دیں کہ اگر انہیں گرفتار کیا گیا تو کارکنان کو سڑکوں پر نکلنے کی کال دی جائے اور حساس مقامات کو نشانہ بنایا جائے۔ پراسیکیوٹر نے عدالت کو مزید بتایا کہ 9 مئی کو ہونے والے پرتشدد واقعات میں جناح ہاؤس کو 5 کروڑ 20 لاکھ روپے اور پولیس کو 40 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔
عمران خان کے وکیل کا مؤقف
عمران خان کی جانب سے سینئر وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ ان کے موکل کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو 9 مئی کے دن پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا، اور ان کا ان حملوں سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان مقدمات میں حقیقی شواہد پیش نہیں کیے گئے اور محض سیاسی بنیادوں پر یہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ مقدمات کی نوعیت انتہائی حساس اور قومی سلامتی سے متعلق ہے، اس لیے ملزم کی ضمانت کسی صورت قابل قبول نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا”ملزم نے تفتیشی اداروں سے تعاون نہیں کیا، جو کہ جرم کی شدت کو بڑھاتا ہے۔ عدالت اس بات پر قائل ہے کہ شواہد جرم کی سازش اور معاونت کے مترادف ہیں۔”
ماہرین قانون کی رائے
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ 9 مئی کے واقعات کی قانونی نوعیت کو مزید پیچیدہ کر دے گا، اور یہ ممکن ہے کہ اب سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جائے۔ اگر اپیل ہوتی ہے تو سپریم کورٹ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا پیش کردہ شواہد واقعی عمران خان کو سازش میں ملوث کرتے ہیں یا نہیں۔
عمران خان کے خلاف دیگر مقدمات
یاد رہے کہ عمران خان کے خلاف اس وقت درجنوں مقدمات زیرِ التوا ہیں، جن میں سے کئی انسدادِ دہشت گردی، سائفر کیس، توشہ خانہ، اور نیب کے کیسز شامل ہیں۔ 9 مئی کے واقعات کے بعد انہیں ایک سے زائد بار گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ دسمبر 2023 میں ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے جناح ہاؤس کیس میں پی ٹی آئی کے 25 کارکنان کو سزا سنائی تھی، جس میں عمران خان کے بھتیجے حسن نیازی بھی شامل تھے۔
آئندہ قانونی لائحہ عمل
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق، عمران خان کے وکلاء اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ اس فیصلے کو برقرار رکھتی ہے تو 9 مئی کے مقدمات میں عمران خان کے لیے قانونی پیچیدگیاں مزید بڑھ جائیں گی۔





















