روزمرہ کا ایک عام مصالحہ کینسر سے حفاظت میں مددگار قرار

ہلدی کا استعمال پاکستانی اور ایشیائی ثقافتوں میں صدیوں سے جاری ہے

کراچی: باورچی خانے میں روزمرہ استعمال ہونے والا مصالحہ ہلدی، جو اپنے زرد رنگ اور منفرد ذائقے کے لیے مشہور ہے، اب سائنسی طور پر کینسر سے بچاؤ کا ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہو رہا ہے۔ یونیورسٹی آف لیسٹر کے سائنسدانوں کی ایک تازہ تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ ہلدی میں موجود ایک فعال جزو ’کرکیومن‘ باول کینسر کے خطرناک خلیوں کو بڑھنے سے روک سکتا ہے اور انہیں ٹیومر بننے سے پہلے ہی غیر فعال کر دیتا ہے۔ یہ دریافت نہ صرف کینسر کی روک تھام کے لیے ایک سستی اور قدرتی حل پیش کرتی ہے بلکہ پاکستانی گھرانوں میں عام استعمال ہونے والے اس مصالحے کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

تحقیق کا پس منظر

یونیورسٹی آف لیسٹر کے ماہرین نے اپنی تحقیق میں ہلدی کے بنیادی جزو کرکیومن پر توجہ مرکوز کی، جو اسے اس کا مخصوص زرد رنگ دیتا ہے۔ یہ تحقیق، جو معروف سائنسی جریدے ’کینسر لیٹرز‘ میں شائع ہوئی، باول کینسر کے ابتدائی خلیوں کی نشوونما کو روکنے میں کرکیومن کی صلاحیت کو جانچنے کے لیے کی گئی۔ ماہرین نے لیبارٹری میں کرکیومن کی سپلیمنٹ کی سطح کی خوراکیں انسانی آنتوں کے بافتوں (ٹشوز) پر آزمائیں تاکہ اس کے اثرات کا مشاہدہ کیا جا سکے۔

نتائج نے ظاہر کیا کہ کرکیومن کینسر کے اسٹیم جیسے خلیوں کی نشوونما کو مؤثر طریقے سے روکتا ہے، جو ٹیومر بننے اور دوبارہ ابھرنے کا بنیادی سبب مانے جاتے ہیں۔ یہ جزو ایک اہم پروٹین کو غیر فعال کر دیتا ہے، جو کینسر کے خلیوں کو بڑھنے اور پھیلنے میں مدد دیتا ہے، اس طرح ان کی تقسیم ہونے اور مضبوط ہونے کی صلاحیت کو کم کر دیتا ہے۔

ہلدی کی سائنسی اہمیت

ماہرین کے مطابق، ہلدی میں موجود کرکیومن کی اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلامیٹری خصوصیات اسے کینسر کے خلاف ایک طاقتور ہتھیار بناتی ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کرکیومن خطرناک خلیوں کو اس مرحلے پر ہی بے اثر کر دیتا ہے جب وہ ٹیومر بننے کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ یہ عمل باول کینسر کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے، جو دنیا بھر میں کینسر سے ہونے والی اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔

لیبارٹری تجربات کے دوران، سائنسدانوں نے دیکھا کہ کرکیومن نے کینسر کے اسٹیم خلیوں کو کم نقصان دہ حالت میں تبدیل کر دیا، جس سے ان کی جسم میں پھیلنے اور نقصان پہنچانے کی صلاحیت کم ہو گئی۔ یہ خاصیت ہلدی کو کینسر کی روک تھام کے لیے ایک امید افزا قدرتی حل بناتی ہے۔

باول کینسر: ایک عالمی چیلنج

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، باول کینسر دنیا بھر میں کینسر کے سب سے عام اقسام میں سے ایک ہے، جو ہر سال لاکھوں افراد کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس بیماری کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں جہاں غذائی عادات اور طرز زندگی تبدیل ہو رہے ہیں۔ باول کینسر کی علامات میں پیٹ میں درد، ہاضمے کے مسائل، اور غیر معمولی وزن میں کمی شامل ہیں، لیکن اس کے ابتدائی مراحل اکثر بغیر علامات کے ہوتے ہیں، جو اسے اور بھی خطرناک بناتا ہے۔

ہلدی کا استعمال پاکستانی اور ایشیائی ثقافتوں میں صدیوں سے جاری ہے، جہاں اسے نہ صرف کھانوں میں ذائقہ بڑھانے کے لیے بلکہ دواؤں کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس تحقیق نے ہلدی کی روایتی اہمیت کو سائنسی ثبوت کے ساتھ مزید مضبوط کیا ہے۔

پاکستانی تناظر میں اہمیت

پاکستان میں ہلدی ہر گھر کے باورچی خانے کا حصہ ہے، چاہے وہ سالن، بریانی، یا دیگر پکوانوں کی شکل میں ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ کی خوراک میں ہلدی کا باقاعدہ استعمال باول کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ایک پاکستانی ماہر غذائیت نے کہا، ’’ہلدی ایک سستا اور آسانی سے دستیاب مصالحہ ہے۔ اگر اسے باقاعدگی سے کھانوں میں شامل کیا جائے تو یہ نہ صرف صحت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ کینسر جیسے سنگین مرض سے بچاؤ کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔‘‘

تاہم، ماہرین نے خبردار کیا کہ ہلدی کو ضرورت سے زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس کے زیادہ استعمال سے ہاضمے کے مسائل یا دیگر مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ کرکیومن کی مناسب مقدار کے لیے ڈاکٹر یا غذائی ماہر سے رجوع کیا جائے، خاص طور پر اگر اسے سپلیمنٹ کی شکل میں لیا جا رہا ہو۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس تحقیق نے سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، ’’ہلدی ہمارے کھانوں کا حصہ ہے، اور اب یہ کینسر سے لڑنے میں بھی مددگار ہے؟ یہ پاکستانیوں کے لیے فخر کی بات ہے!‘‘ ایک دیگر صارف نے کہا، ’’ہلدی کو اب ہر کھانے میں ڈالنا پڑے گا۔ سائنس نے ہماری دادی اماں کی حکمت کو درست ثابت کر دیا۔‘‘

کچھ صارفین نے ہلدی کے روایتی استعمال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستانی اور ہندوستانی گھرانوں میں صدیوں سے ہلدی کو دوائی کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، اور یہ تحقیق اس کی افادیت کی سائنسی توثیق ہے۔

مستقبل کے امکانات

یونیورسٹی آف لیسٹر کے محققین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کے نتائج کی تصدیق کے لیے بڑے پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہے۔ وہ اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا کرکیومن کو دوسری دوائیوں کے ساتھ ملا کر یا سپلیمنٹ کی شکل میں استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ اس کی تاثیر کو بڑھایا جا سکے۔

ماہرین نے یہ بھی کہا کہ ہلدی کے فوائد کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے اس کے دیگر کینسرز، جیسے کہ بریسٹ کینسر یا پروسٹیٹ کینسر، پر اثرات کا مطالعہ بھی کیا جانا چاہیے۔ اگر یہ نتائج بڑے پیمانے پر درست ثابت ہوتے ہیں، تو ہلدی کینسر کی روک تھام کے لیے ایک سستا اور قابل رسائی حل بن سکتی ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان میں جہاں مہنگے علاج تک رسائی محدود ہے۔

یونیورسٹی آف لیسٹر کی یہ تحقیق ہلدی کی روایتی اہمیت کو سائنسی نقطہ نظر سے اجاگر کرتی ہے اور پاکستانی معاشرے کے لیے ایک اہم پیغام رکھتی ہے۔ ہلدی، جو ہر پاکستانی گھر میں آسانی سے مل جاتی ہے، نہ صرف کھانوں کا ذائقہ بڑھاتی ہے بلکہ ایک مہلک بیماری جیسے باول کینسر سے بچاؤ کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ اس تحقیق سے پاکستانی گھرانوں کو اپنی غذائی عادات پر نظر ثانی کرنے اور ہلدی کو باقاعدگی سے استعمال کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے۔

تاہم، یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اور اس کے نتائج کو حتمی قرار دینے سے پہلے مزید کلینیکل ٹرائلز ضروری ہیں۔ کرکیومن کی تاثیر کو بڑھانے کے لیے اسے مناسب مقدار میں اور درست طریقے سے استعمال کرنا بھی اہم ہے۔ پاکستانی ماہرین صحت کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ ہلدی کے فوائد کو فروغ دیں اور لوگوں کو اس کے سائنسی ثبوت کے بارے میں آگاہ کریں۔ اگر یہ نتائج درست ثابت ہوتے ہیں، تو ہلدی نہ صرف پاکستانی ثقافت کا حصہ رہے گی بلکہ عالمی سطح پر کینسر کی روک تھام کے لیے ایک قدرتی حل کے طور پر بھی پہچانی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین