کراچی: ایک نئی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ روزانہ صرف 100 قدم چلنے کی عادت اپنانے سے دائمی کمر درد کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ سادہ سی عادت، جو ہر عمر کے افراد کے لیے قابل عمل ہے، نہ صرف کمر کی صحت کو بہتر بناتی ہے بلکہ مجموعی جسمانی اور دماغی تندرستی کو بھی فروغ دیتی ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو لمبے عرصے تک بیٹھ کر کام کرتے ہیں، اس آسان عمل سے اپنی زندگی میں بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
کمر درد: ایک عالمی مسئلہ
دائمی کمر درد دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرنے والی ایک عام بیماری ہے۔ پاکستان میں بھی، جہاں زیادہ تر افراد دفتری کاموں، کمپیوٹر اسکرینز، یا طویل بیٹھنے کے عادی ہیں، کمر درد کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، کمر درد کی بنیادی وجوہات میں غیر فعال طرز زندگی، کمزور پٹھے، اور ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ شامل ہیں۔ تاہم، ایک سادہ سی عادت، یعنی روزانہ 100 قدم چلنا، اس مسئلے کا حل ثابت ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے نتائج
سائنسی مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ روزانہ 100 قدم چلنے سے ریڑھ کی ہڈی کی حرکت میں بہتری آتی ہے، جو طویل عرصے تک بیٹھنے سے پیدا ہونے والے دباؤ کو کم کرتی ہے۔ چہل قدمی کے دوران ریڑھ کی ہڈی کے جوڑوں میں روانی پیدا ہوتی ہے، جس سے کھنچاؤ اور سختی کم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ عمل کمر، کولہوں، اور ٹانگوں کے پٹھوں کو فعال اور مضبوط رکھتا ہے، جو کمر درد سے بچاؤ کا ایک اہم عنصر ہیں۔
تحقیق کے مطابق، کمزور پٹھوں کی وجہ سے کمر کے نچلے حصے میں دباؤ بڑھتا ہے، جو درد اور تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ باقاعدہ چہل قدمی اس حصے میں خون کی گردش کو بہتر بناتی ہے، جس سے آکسیجن اور غذائی اجزا زیادہ مؤثر طریقے سے پہنچتے ہیں۔ یہ عمل سوزش (انفلیمیشن) کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے، جو دائمی کمر درد کی ایک بڑی وجہ ہے۔
دماغی صحت پر اثرات
چہل قدمی کے فوائد صرف جسمانی صحت تک محدود نہیں ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہلکی پھلکی چہل قدمی دماغ میں اینڈورفنز کے اخراج کو متحرک کرتی ہے، جو قدرتی طور پر درد کو کم کرنے والے ہارمونز ہیں۔ یہ ہارمونز نہ صرف کمر درد سے نجات دلاتے ہیں بلکہ دماغی تناؤ اور اضطراب کو بھی کم کرتے ہیں، جو اکثر دائمی درد کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں۔
ماہرین نے بتایا کہ روزانہ کم از کم 100 قدم چلنے والے افراد میں دائمی کمر درد کا خطرہ 30 سے 40 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ یہ فائدہ خاص طور پر ان افراد کے لیے نمایاں ہے جو دفتری کاموں یا اسکرین کے سامنے طویل وقت گزارتے ہیں، جیسے کہ آئی ٹی پروفیشنلز، طلبہ، یا ریموٹ ورک کرنے والے ملازمین۔
پاکستانی تناظر میں اہمیت
پاکستان میں، جہاں زیادہ تر شہری آبادی غیر فعال طرز زندگی اپنائے ہوئے ہے، کمر درد ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔ خاص طور پر کراچی، لاہور، اور اسلام آباد جیسے شہروں میں، جہاں لوگ گھنٹوں کمپیوٹر یا موبائل اسکرین کے سامنے بیٹھتے ہیں، کمر درد کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ روزانہ 100 قدم چلنا ایک ایسی عادت ہے جو ہر پاکستانی اپنی روزمرہ زندگی میں آسانی سے شامل کر سکتا ہے۔
ایک پاکستانی فزیوتھراپسٹ نے کہا، ’’ہمیں مہنگی ورزش یا جم کی ضرورت نہیں۔ بس دن میں چند منٹ کی چہل قدمی کمر درد سے نجات کے لیے کافی ہے۔ گھر کے صحن میں، دفتر کے راہداری میں، یا پارک میں 100 قدم چلنا کوئی مشکل کام نہیں۔‘‘
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس تحقیق نے سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ حاصل کی۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، ’’صرف 100 قدم؟ یہ تو ہر کوئی کر سکتا ہے! کمر درد سے نجات کا اتنا آسان حل حیران کن ہے۔‘‘ ایک دیگر صارف نے کہا، ’’ہم پاکستانی گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں، لیکن اب وقت ہے کہ چہل قدمی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔‘‘ کچھ صارفین نے اپنے تجربات شیئر کیے کہ کس طرح باقاعدہ چہل قدمی نے ان کے کمر درد کو کم کیا اور ان کی مجموعی صحت کو بہتر بنایا۔
عملی مشورے
ماہرین نے مشورہ دیا کہ 100 قدم چلنے کی عادت کو روزمرہ زندگی میں شامل کرنے کے لیے چند آسان اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، دفتر میں لنچ بریک کے دوران مختصر چہل قدمی، گھر میں کام کے بعد گھر کے ارد گرد چند چکر لگانا، یا صبح کے وقت پارک میں ہلکی پھلکی سیر اس عادت کو اپنانے کے آسان طریقے ہیں۔ وہ افراد جو کمر درد سے دوچار ہیں، انہیں چہل قدمی شروع کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر یا فزیوتھراپسٹ سے مشورہ کرنا چاہیے تاکہ ان کی حالت کے مطابق مناسب رہنمائی مل سکے۔
ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا کہ چہل قدمی کے دوران درست کرنسی (پوسچر) برقرار رکھنا ضروری ہے۔ غلط انداز میں چلنے سے کمر یا جوڑوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، مناسب جوتوں کا استعمال اور چہل قدمی کے لیے ہموار سطح کا انتخاب بھی اہم ہے۔
مستقبل کے امکانات
یہ تحقیق کمر درد سے نجات کے لیے ایک سادہ اور سستی حل پیش کرتی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے طویل مدتی اثرات کو جانچنے کے لیے مزید بڑے پیمانے پر مطالعے کی ضرورت ہے۔ وہ یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ کیا چہل قدمی کے فوائد دیگر دائمی بیماریوں، جیسے کہ گٹھیا یا دماغی صحت کے مسائل، کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ نتائج بڑے پیمانے پر درست ثابت ہوتے ہیں، تو یہ عادت نہ صرف کمر درد بلکہ دیگر صحت کے مسائل کے حل کے لیے ایک عالمی نسخہ بن سکتی ہے۔
روزانہ 100 قدم چلنے کی عادت اپنانا ایک ایسی سادہ اور عملی تدبیر ہے جو پاکستانی معاشرے کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ پاکستان میں، جہاں دفتری ملازمتوں، طویل بیٹھنے، اور غیر فعال طرز زندگی کی وجہ سے کمر درد ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے، یہ تحقیق ایک امید افزا پیغام لاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے لیے کسی خاص سازوسامان، جم، یا بڑے مالی اخراجات کی ضرورت نہیں۔ ہر پاکستانی، چاہے وہ شہری ہو یا دیہی علاقوں میں رہتا ہو، اس عادت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا سکتا ہے۔
تاہم، اس تحقیق کے نتائج کو حتمی قرار دینے سے پہلے بڑے پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہے تاکہ اس کے اثرات کی گہرائی سے تصدیق کی جا سکے۔ پاکستانی صحت کے اداروں اور فزیوتھراپسٹس کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ عوام میں چہل قدمی کی اہمیت کے بارے میں شعور اجاگر کریں اور لوگوں کو اسے اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے کی ترغیب دیں۔ اگر پاکستانی گھرانے اس سادہ عادت کو اپنائیں تو نہ صرف کمر درد کے کیسز میں کمی آ سکتی ہے بلکہ مجموعی صحت عامہ کے معیار میں بھی بہتری ممکن ہے۔ یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ بڑی تبدیلیاں چھوٹے اقدامات سے شروع ہوتی ہیں، اور 100 قدم اس سفر کا پہلا قدم ہو سکتا ہے۔





















