چینی مدد سے پاکستان کو ہماری عسکری معلومات ملی، بھارتی فوجی افسر کا دعویٰ

پاکستانی فوج کو یہ علم تھا کہ بھارت کے مخصوص عسکری یونٹس مکمل طور پر تیار ہیں

نئی دہلی/اسلام آباد: بھارتی فوج کے ڈپٹی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ نے ایک دفاعی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے حالیہ پاک-بھارت تنازعے، آپریشن سندور، کے دوران بھارت کی ناکامی کا کھل کر اعتراف کیا اور دعویٰ کیا کہ اس تنازعے میں بھارت کو نہ صرف پاکستان بلکہ چین اور ترکیہ جیسے ممالک کی مشترکہ طاقت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ان کے اس بیان نے نہ صرف علاقائی جغرافیائی سیاست میں نئے سوالات اٹھائے ہیں بلکہ پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کو بھی عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔

آپریشن سندور کا پس منظر

آپریشن سندور 7 مئی 2025 کو اس وقت شروع ہوا جب بھارت نے جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو ہونے والے ایک دہشت گرد حملے کا بدلہ لینے کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر  اور پاکستان کے اندر اہداف پر حملوں کا فیصلہ کیا۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر سیاح اور ایک مقامی شہری شامل تھا۔ چار روز تک جاری رہنے والے اس تنازعے میں دونوں ممالک کے درمیان شدید عسکری جھڑپیں ہوئیں، جن کا اختتام ایک سیز فائر کے ساتھ ہوا۔

لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ نے نئی دہلی میں فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FICCI) کے زیر اہتمام ’نیو ایج ملٹری ٹیکنالوجیز‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنازعہ صرف پاک-بھارت دو طرفہ جھڑپ نہیں تھا بلکہ اس میں چین اور ترکیہ کی براہ راست مدد نے پاکستان کو مضبوط پوزیشن دی۔

چین کی خفیہ معلومات اور عسکری مدد

بھارتی ڈپٹی آرمی چیف نے دعویٰ کیا کہ آپریشن سندور کے دوران چین نے پاکستان کو بھارتی فوج کی تنصیبات اور نقل و حرکت کے بارے میں براہ راست اور ریئل ٹائم معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز (DGMO) کی سطح پر ہونے والی بات چیت کے دوران پاکستانی حکام نے حیران کن طور پر بھارتی فوج کے اہم اسٹریٹجک پلانز اور تیاریوں کا ذکر کیا، جو اس بات کا ثبوت تھا کہ انہیں چین سے براہ راست معلومات مل رہی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی فوج کو یہ علم تھا کہ بھارت کے مخصوص عسکری یونٹس مکمل طور پر تیار ہیں اور ایکشن کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل سنگھ نے کہا کہ یہ معلومات پاکستان کو چین کی طرف سے فراہم کی جا رہی تھیں، جو بھارت کے لیے ایک بڑا سیکورٹی چیلنج ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چین نے پاکستان کو اپنے جدید ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ خفیہ معلومات فراہم کیں، جس سے پاکستان کی عسکری طاقت میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں پاکستان کے 81 فیصد عسکری ہتھیار اور آلات چین سے حاصل کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کو ایک ’لائیو لیب‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ اپنے ہتھیاروں کی دوسرے ممالک کے ہتھیاروں کے مقابلے میں کارکردگی کا جائزہ لے سکے۔

ترکیہ کی ڈرونز اور تکنیکی مدد

لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ نے ترکیہ پر بھی الزام عائد کیا کہ اس نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کو بھرپور عسکری مدد فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے پاکستان کو نہ صرف اپنے مشہور بائراکتار ڈرونز فراہم کیے بلکہ تربیت یافتہ ماہرین بھی مہیا کیے جو جنگ کے دوران پاکستانی فوج کے ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تنازعے کے دوران متعدد ڈرونز بھارتی سرحد کے قریب دیکھے گئے، جو ترکیہ کی تکنیکی مدد کا واضح ثبوت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ کا یہ کردار پاکستان اور بھارت کے تنازعے کو ایک نئی جہت دیتا ہے، کیونکہ اب یہ صرف دو ممالک کے درمیان تنازعہ نہیں رہا بلکہ ایک عالمی جغرافیائی سیاسی اتحاد کا مظہر بن گیا ہے۔

پاک فضائیہ اور الفتح راکٹ سسٹم کی کارکردگی

بھارتی ڈپٹی آرمی چیف نے پاکستانی فضائیہ کی الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران ان کی کارکردگی غیر معمولی تھی۔ انہوں نے خاص طور پر پاکستانی فوج کے الفتح راکٹ سسٹم کا ذکر کیا، جس نے بھارتی فوجی اڈوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا اور نمایاں نقصان پہنچایا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی عسکری تیاریوں اور جدید ٹیکنالوجی نے بھارتی فوج کے لیے غیر متوقع چیلنجز پیدا کیے۔

بھارتی دفاعی نظام کی ناکامی

لیفٹیننٹ جنرل سنگھ نے اپنی فوج کے دفاعی نظام کی خامیوں کا کھل کر اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور نے بھارت کے فضائی دفاع اور دیگر عسکری نظاموں میں موجود کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کو اپنی غلطیوں سے سیکھنا ہوگا اور جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر فضائی دفاعی نظام، کو اپ گریڈ کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو مستقبل میں ایسی جنگوں کے لیے تیار رہنا ہوگا، جہاں وہ ایک نہیں بلکہ متعدد دشمنوں کا سامنا کر سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے پاس اسرائیل کے آئرن ڈوم جیسے جدید فضائی دفاعی نظام کے لیے وسائل اور جغرافیائی حالات موجود نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود شہری مراکز کے تحفظ کے لیے مضبوط فضائی دفاع ناگزیر ہے۔ انہوں نے سی فور آئی ایس آر (کمانڈ، کنٹرول، کمیونیکیشنز، کمپیوٹرز، انٹیلی جنس، سرویلنس، اور ریکونائسنس) صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

پاکستان کا ردعمل

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی اپنی جنگ تھی اور اس کی جیت مکمل طور پر ’میڈ ان پاکستان‘ تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج نے اپنی صلاحیتوں اور حکمت عملی سے بھارت کو پسپا کیا، اور اس جیت کا کریڈٹ کسی دوسرے ملک کو دینا درست نہیں۔ انہوں نے چین اور ترکیہ کی حمایت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے خود کفیل ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ کے بیان نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، ’’پاکستان کی فتح بھارت کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ اب اکیلا نہیں، بلکہ اس کے اتحادیوں کی طاقت بھی اس کے ساتھ ہے۔‘‘ ایک دیگر صارف نے کہا، ’’بھارتی فوج کا اپنی ناکامی کا اعتراف قابل تحسین ہے، لیکن اسے الزام تراشی سے گریز کرنا چاہیے۔‘‘ پاکستانی صارفین نے پاک فضائیہ اور الفتح راکٹ سسٹم کی کارکردگی کی تعریف کی، جبکہ کچھ بھارتی صارفین نے اپنی فوج کے دفاعی نظام کی خامیوں پر تنقید کی۔

جغرافیائی سیاسی اثرات

لیفٹیننٹ جنرل سنگھ کے بیان نے پاک-بھارت تنازعے کو ایک نئی جغرافیائی سیاسی جہت دی ہے۔ چین اور ترکیہ کی مبینہ حمایت نے پاکستان کی عسکری پوزیشن کو مضبوط کیا، جبکہ بھارت کے لیے ایک نئے تین محاذوں والے خطرے کو اجاگر کیا۔ یہ بیان اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ چین اور ترکیہ کا پاکستان کے ساتھ گہرا اتحاد خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر رہا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ کا بیان آپریشن سندور کے دوران پاک-بھارت تنازعے کی شدت اور اس کے جغرافیائی سیاسی اثرات کو واضح کرتا ہے۔ ان کا یہ اعتراف کہ بھارت کو تین ممالک کا سامنا کرنا پڑا، پاکستان کی عسکری صلاحیتوں اور اس کے اتحادیوں کی طاقت کو اجاگر کرتا ہے۔ چین اور ترکیہ کی مبینہ حمایت، اگر درست ہو، تو اس سے خطے میں طاقت کا توازن پاکستان کے حق میں جھکتا دکھائی دیتا ہے۔

تاہم، بھارتی ڈپٹی آرمی چیف کی طرف سے ثبوت کے بغیر چین اور ترکیہ پر الزامات عائد کرنا ایک حساس معاملہ ہے۔ یہ الزامات پاک-بھارت تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتے ہیں اور خطے میں جغرافیائی سیاسی تناؤ کو بڑھا سکتے ہیں۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا ان الزامات کو مسترد کرنا پاکستان کی خودمختاری اور اس کی عسکری صلاحیتوں پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

بھارتی فوج کے لیے یہ بیان ایک خود احتسابی کا موقع ہے، کیونکہ لیفٹیننٹ جنرل سنگھ نے اپنے دفاعی نظام کی خامیوں کو کھل کر تسلیم کیا۔ پاکستان کی الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں اور الفتح راکٹ سسٹم کی تعریف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج نے جدید ٹیکنالوجی اور حکمت عملی کے ساتھ بھارت کو سخت مقابلہ دیا۔

خطے کے تناظر میں، یہ واقعہ پاکستان، چین، اور ترکیہ کے درمیان گہرے ہوتے ہوئے تعلقات کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو بھارت کے لیے ایک اسٹریٹجک چیلنج ہے۔ بھارت کو اپنے فضائی دفاع اور انٹیلی جنس نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ پاکستان کو اپنی خودمختاری اور دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ یہ بیان خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک چیلنج ہے، اور اس بات کی ضرورت ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے تناؤ کو کم کریں

متعلقہ خبریں

مقبول ترین