پانی کی بندش ایٹمی حملہ سے زیادہ خطرناک ہے:خرم نواز گنڈا پور

سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی240ملین آبادی والے ملک کو صحرا میں بدلنے کی سازش ہے

لاہور:پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی اور پانی کی بندش ایٹمی حملہ سے زیادہ خطر ناک ہے،پانی بند کرنا 240ملین آبادی والے ملک کو صحرا میں بدلنے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔

ECOسمٹ

انہوں نے کہا ہے کہ حال ہی میں وزیر اعظم پاکستان نے ECOسمٹ میں اس بات کا اعتراف کیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کرکے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے،قوم جاننا چاہتی ہے کہ اس اہم مسئلہ پر ECOکے ممبر ممالک نے کیا رسپانس دیا؟،خرم نواز گنڈا پور نے کہا ہے کہ اگر پانی کے مسئلہ پر نرمی دکھائی گئی تو پھر گندم، چاول والوں کا امپورٹ بل پٹرولیم مصنوعات سے بھی بڑھ جائے گا،جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا،انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کی بحالی کے لیے پاکستان جارحانہ حکمت عملی اختیار کرے اور حکمران بیانات داغنے کے علاوہ بھی کچھ کریں۔

اکانومی

خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ اب جنگوں سے شکست اور جیت کے فیصلے نہیں ہوتے بلکہ ہار اور جیت کا پیمانہ اکانومی ہے جس ملک کی اکانومی مضبوط ہے وہ فاتح ہے اور جس ملک کی اکانومی کمزور ہے وہ شکست خوردہ ہے۔ بھارت پاکستان کو جنگ لڑے بغیر ہرانے کے لئے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے۔ دنیا کو اس کا نوٹس لینا چاہیے کوئی ملک کسی کا پانی نہیں روک سکتا، پانی پوری دنیا کے انسانوں کا مشترکہ اثاثہ ہے۔

اسے بھی پڑھیں: منہاج یونیورسٹی میں ’’سندھ طاس معاہدہ‘‘ پر سیمینار، ماہرین کا آبی تنازعات کے حل پر زور

سندھ طاس معاہدہ: ایک تاریخی جائزہ

برصغیر کی تقسیم کے بعد سب سے اہم مسائل میں سے ایک پانی کی تقسیم کا تھا۔ پاکستان اور بھارت دونوں کی معیشتیں دریاؤں کے پانی پر انحصار کرتی تھیں، اور دونوں ممالک کے لیے پانی زندگی کی حیثیت رکھتا تھا۔ اسی تناظر میں "سندھ طاس معاہدہ” (Indus Waters Treaty) 19 ستمبر 1960 کو طے پایا۔ یہ معاہدہ پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان اور بھارت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے درمیان طے ہوا، جس میں عالمی بینک نے ثالث کا کردار ادا کیا۔

معاہدے کی بنیاد

قیام پاکستان کے بعد بھارت نے 1 اپریل 1948 کو پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں کا پانی روک لیا تھا، جس سے پاکستان میں زرعی و معاشی بحران پیدا ہو گیا۔ اس کے بعد عالمی بینک کی ثالثی میں مذاکرات کا آغاز ہوا۔ عالمی بینک کے ماہر ڈیوڈ لائلنٹھیل اور یوگین بلیک نے دونوں ممالک کے درمیان ایک متوازن حل پیش کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

عالمی بینک کا کردار

عالمی بینک (World Bank) نے اس معاہدے میں مالی اور فنی معاونت فراہم کی۔ اس نے پاکستان کے لیے "انڈس بیسن پروجیکٹ” کی مالی اعانت کی، جس کے تحت منگلا اور تربیلا ڈیم جیسے منصوبے بنائے گئے تاکہ پاکستان مغربی دریاؤں پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکے۔

تنازعات اور چیلنجز

گزشتہ دو دہائیوں میں بھارت کی جانب سے بعض ایسے منصوبے شروع کیے گئے ہیں جو پاکستان کے خدشات کو جنم دیتے ہیں، مثلاً:
کشن گنگا ڈیم (ریاست جموں و کشمیر)
رتلے ہائیڈروپاور پراجیکٹ
بگلیہار ڈیم
پاکستان کا موقف رہا ہے کہ یہ منصوبے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ بھارت ان منصوبوں کو "رن آف ریور” یعنی بہاؤ پر مبنی منصوبے قرار دیتا ہے، جن کی اجازت معاہدے میں موجود ہے، بشرطیکہ پانی کا بہاؤ متاثر نہ ہو۔

بین الاقوامی ثالثی اور عدالتیں

پاکستان نے کئی بار عالمی بینک، بین الاقوامی عدالتِ انصاف اور عالمی ثالثی عدالت (Permanent Court of Arbitration) سے رجوع کیا۔ بگلیہار اور کشن گنگا منصوبوں پر پاکستان نے اعتراضات دائر کیے، لیکن بھارت کی طرف سے اکثر قانونی اور تکنیکی نکات اٹھا کر تنازعات کو طول دیا گیا۔

حالیہ پیش رفت

2023 میں پاکستان نے بھارت کے نئے ڈیم منصوبوں پر اعتراضات کی نئی لہر شروع کی۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ بھارت معاہدے کی روح کو نظرانداز کرتے ہوئے بڑی مقدار میں پانی ذخیرہ کر رہا ہے، جو پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان نے عالمی بینک سے مطالبہ کیا کہ وہ معاہدے کے تحت قائم شدہ ثالثی نظام کو متحرک کرے۔
سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی سطح پر ایک مثالی معاہدہ تصور کیا جاتا ہے، جو دو دشمن ممالک کے درمیان دہائیوں سے آبی تنازعے کو کنٹرول میں رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ تاہم حالیہ بھارتی اقدامات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کے پانی پر بڑھتے ہوئے خطرات، اس معاہدے کی از سر نو تشریح یا مضبوط نگرانی کے تقاضے کر رہے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین