ایشین جونیئر اسکواش میں پاکستان کی بھارت پر فتح

پاکستانی ٹیم نے مجموعی طور پر دو گولڈ، دو سلور، اور ایک برانز میڈل حاصل کیا

گم چیون، جنوبی کوریا: ایشین جونیئر اسکواش چیمپئن شپ 2025 میں پاکستانی جونیئر کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے روایتی حریف بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا اور مجموعی طور پر سات میڈلز اپنے نام کیے۔ اس چیمپئن شپ میں پاکستانی ٹیم نے بوائز انڈر-13 اور انڈر-15 کے فائنلز میں گولڈ میڈلز جیت کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، جبکہ گرلز انڈر-13 سمیت دیگر کیٹیگریز میں بھی شاندار کارکردگی دکھائی۔ یہ کامیابی پاکستان کے اسکواش کے عالمی منظر نامے پر واپسی کی ایک واضح علامت ہے۔

پاکستانی کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی

جنوبی کوریا کے شہر گم چیون میں منعقدہ 32ویں ایشین جونیئر اسکواش چیمپئن شپ میں پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنی مہارت اور عزم سے سب کو متاثر کیا۔ بوائز انڈر-13 اور انڈر-15 کے فائنلز میں پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنی برتری ثابت کی، جبکہ گرلز انڈر-13 کیٹیگری میں بھی سخت مقابلہ کیا۔ پاکستانی ٹیم نے مجموعی طور پر دو گولڈ، دو سلور، اور ایک برانز میڈل حاصل کیا، جبکہ پلیٹ ڈویژن میں دو ٹائٹلز بھی اپنے نام کیے۔

بوائز انڈر-13 فائنل: سہیل عدنان کی شاندار جیت

بوائز انڈر-13 کے فائنل میں پاکستان کے ابھرتے ہوئے ستارے سہیل عدنان نے بھارت کے ایان دھنوکا کے خلاف شاندار کھیل پیش کیا۔ سہیل نے اپنی تکنیک اور حکمت عملی سے مقابلہ مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں رکھا اور 11-5، 11-2، 11-13، اور 11-6 کے اسکور سے فتح حاصل کی۔ اس مقابلے میں سہیل کی جارحانہ کھیل اور دفاعی صلاحیتوں نے نہ صرف پاک-بھارت مقابلے کی روایت کو برقرار رکھا بلکہ پاکستانی اسکواش کے روشن مستقبل کی نوید بھی سنائی۔

بوائز انڈر-15 فائنل: نعمان خان کی غلبہ

بوائز انڈر-15 کے فائنل میں پاکستان نے ایک تاریخی لمحہ دیکھا جب دو پاکستانی کھلاڑی، نعمان خان اور احمد رایان خلیل، آمنے سامنے آئے۔ نعمان خان نے اپنے ہم وطن احمد رایان کو 12-10، 11-6، اور 11-2 کے اسکور سے شکست دے کر گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ نعمان کی تیز رفتار کھیل، درست شاٹس، اور ناقابل تسخیر حکمت عملی نے انہیں اس کیٹیگری کا چیمپئن بنایا، جبکہ احمد رایان نے سلور میڈل حاصل کیا، جو پاکستان کے لیے ایک اور اعزاز تھا۔

گرلز انڈر-13 فائنل: ماہنور علی کی بہادری

گرلز انڈر-13 کے فائنل میں پاکستان کی ماہنور علی نے چین کی ین زیووان کے خلاف شاندار مقابلہ کیا۔ یہ میچ پانچ گیمز تک جاری رہا، جو دونوں کھلاڑیوں کی صلاحیتوں اور عزم کا ثبوت تھا۔ ماہنور نے بھرپور مقابلہ کیا لیکن بالآخر 9-11، 11-6، 11-9، 9-11، اور 12-10 کے اسکور سے شکست کھا گئی۔ ماہنور نے سلور میڈل حاصل کیا، جو ان کی محنت اور لگن کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستانی ٹیم کی مجموعی کارکردگی

پاکستانی ٹیم نے ایشین جونیئر اسکواش چیمپئن شپ میں مجموعی طور پر سات میڈلز حاصل کیے، جن میں دو گولڈ، دو سلور، اور ایک برانز مین ایونٹ سے، جبکہ پلیٹ ڈویژن میں دو ٹائٹلز شامل ہیں۔ بوائز انڈر-13 میں سہیل عدنان اور انڈر-15 میں نعمان خان کے گولڈ میڈلز نے پاکستان کو سرفہرست رکھا، جبکہ احمد رایان خلیل اور ماہنور علی کے سلور میڈلز نے ٹیم کی کامیابی کو مزید چمکدار بنایا۔ اس کے علاوہ، ایک برانز میڈل اور پلیٹ ڈویژن کے دو ٹائٹلز نے پاکستانی ٹیم کی گہرائی اور تنوع کو ظاہر کیا۔

پاک-بھارت مقابلہ: ایک روایتی دشمنی

پاکستان اور بھارت کے درمیان اسکواش میں مقابلہ ہمیشہ سے ایک جذباتی اور شدید دشمنی کا مظہر رہا ہے۔ اس بار بوائز انڈر-13 کے فائنل میں سہیل عدنان کی ایان دھنوکا پر فتح نے اس مقابلے کو ایک نئی جہت دی۔ سہیل کی جیت نے نہ صرف پاکستانی شائقین کے دل جیتے بلکہ عالمی سطح پر پاکستانی اسکواش کی واپسی کے امکانات کو بھی مضبوط کیا۔ اس کے علاوہ، انڈر-15 کے سیمی فائنل میں نعمان خان نے بھارت کے ایریامن سنگھ کو 11-5، 11-1، اور 11-5 سے شکست دے کر پاکستان کی برتری کو مزید واضح کیا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس کامیابی نے سوشل میڈیا پر پاکستانی شائقین میں جوش و خروش پیدا کر دیا۔ ایک ایکس صارف نے لکھا، ’’پاکستان کے جونیئر کھلاڑیوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ اسکواش ہمارے خون میں ہے۔ سہیل اور نعمان، تم پر فخر ہے!‘‘ ایک دیگر صارف نے کہا، ’’بھارت کے خلاف یہ جیت صرف میڈل نہیں، بلکہ ہماری عزت اور صلاحیت کا اعلان ہے۔‘‘ پاکستانی اسکواش فیڈریشن نے بھی ایکس پر ٹیم کی کارکردگی کی تعریف کی اور اسے ’’پاکستان اسکواش کی بحالی کا نقطہ آغاز‘‘ قرار دیا۔

اسکواش کی بحالی کا نقطہ آغاز

پاکستان کا اسکواش میں شاندار ماضی رہا ہے، جہاں جہانگیر خان اور جان شیر خان جیسے لیجنڈز نے عالمی سطح پر اپنا لوہا منوایا۔ تاہم، گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان کا اسکواش عالمی منظر سے کچھ پیچھے رہ گیا تھا۔ ایشین جونیئر چیمپئن شپ میں یہ کامیابی پاکستان کے اسکواش کے لیے ایک نئی امید کی کرن ہے۔ پاکستانی اسکواش فیڈریشن کے صدر نے کہا کہ یہ جیت نئی نسل کے کھلاڑیوں کے لیے ایک حوصلہ افزا لمحہ ہے اور اس سے ملک میں اسکواش کے فروغ کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

عالمی تناظر میں اہمیت

ایشین جونیئر اسکواش چیمپئن شپ ایشیا کے بہترین جونیئر کھلاڑیوں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے، اور پاکستان کی اس کامیابی نے خطے میں اس کی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف تکنیکی طور پر مضبوط ہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی بڑے مقابلوں کے لیے تیار ہیں۔ سہیل عدنان، نعمان خان، اور ماہنور علی جیسے کھلاڑی مستقبل میں عالمی چیمپئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔

ایشین جونیئر اسکواش چیمپئن شپ 2025 میں پاکستان کی شاندار کامیابی نہ صرف اس کے اسکواش کے ماضی کی عظمت کی یاد دلاتی ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک روشن تصویر پیش کرتی ہے۔ بوائز انڈر-13 اور انڈر-15 میں گولڈ میڈلز اور گرلز انڈر-13 میں ماہنور علی کی سلور میڈل کی بدولت پاکستان نے اپنی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر ثابت کیا۔ پاک-بھارت مقابلے میں سہیل عدنان کی فتح نے اس چیمپئن شپ کو ایک جذباتی اہمیت دی، جبکہ نعمان خان کی کارکردگی نے پاکستانی ٹیم کی گہرائی کو ظاہر کیا۔

تاہم، یہ کامیابی پاکستان کے اسکواش کے لیے ایک چیلنج بھی ہے۔ پاکستانی اسکواش فیڈریشن کو اب اس مومینٹم کو برقرار رکھنے کے لیے جونیئر کھلاڑیوں کی تربیت، بین الاقوامی ایکسپوژر، اور جدید کوچنگ سہولیات پر سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ گرلز کیٹیگری میں ماہنور علی کی کارکردگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی خواتین کھلاڑی بھی عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن انہیں مزید مواقع اور وسائل کی ضرورت ہے۔

یہ کامیابی پاکستان کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنے اسکواش کے ماضی کی عظمت کو بحال کرے۔ اگر فیڈریشن اور حکومت اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور کھلاڑیوں کو مستقل تربیت اور مواقع فراہم کریں تو پاکستان ایک بار پھر اسکواش کی عالمی دنیا میں اپنا مقام حاصل کر سکتا ہے۔ یہ جیت نہ صرف کھیل کے میدان میں ایک فتح ہے بلکہ پاکستانی نوجوانوں کے عزم اور صلاحیت کا ایک واضح ثبوت ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین